Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 42 The Sweet Trap
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 42 The Sweet Trap
لَیما حَیان کے چہرے کے تاثرات ہی نہیں بدلے تھے بلکہ نیسا رامے کو دیکھنے کا انداز بھی بدل گیا تھا۔ اس نے واقعی اس پہلو پر غور ہی نہیں کیا تھا۔ اگر وہ خود فَہّاد قَسّار کی جگہ ہوتی تو وہ بھی اسے ذاتی معاملہ بنا لیتی، آخر وہ بھی کوئی فرشتہ تو نہیں تھی۔
“لگتا ہے مجھے ابھی لوگوں کو پرکھنے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں آئی!” لَیما ہنس دی۔
“نیسا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم اتنی خاموش رہ کر بھی اتنی مضبوط منطق رکھتی ہو!”
“میری رائے بھی غلط ہو سکتی ہے۔” نیسا نے ہلکی ہنسی کے ساتھ کہا۔
“لیکن ایہام کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی بھی اپنی حفاظت سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مجھے ہر کام میں چوکنا رہنے کو کہتے ہیں۔
اور یہ بھی کہ جو لوگ اوپر کے عہدوں تک پہنچتے ہیں، اُن کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہوتا، اس لیے وہ جتنے سادہ دکھائی دیتے ہیں، ہوتے نہیں۔”
“اوہ، تو اب تمہارے شوہر ہی تمہارے استاد بن گئے ہیں؟”
یہ بات لَیما نے مذاق میں کہی تھی، مگر نیسا خود کو ایہام کی تعریف سے روک نہ سکی۔
“بالکل!” نیسا کے چہرے پر فخر نمایاں تھا۔
“ایہام بہت کچھ جانتے ہیں۔ میں نے انہیں غیر ملکی ویب سائٹس دیکھتے دیکھا ہے۔ وہ کئی زبانیں جانتے ہیں، سیاست اور معیشت پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں!”
“کیا؟” لَیما بھی حیران رہ گئی۔
جب اس نے پہلے ایہام کو دیکھا تھا تو اگر اسے معلوم نہ ہوتا کہ وہ لڑائی کے کیس میں جیل جا چکے ہیں، تو وہ محض ان کے رعب اور خاموش دباؤ سے یہی سمجھتی کہ وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہیں۔
“نیسا، تم اپنے شوہر کے بارے میں آخر جانتی کتنا ہو؟”
نیسا چونک گئی۔
“تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟”
لَیما ہنس دی۔
“بس یونہی، باتوں باتوں میں۔ تم انہیں اتنا غیر معمولی بنا کر بیان کر رہی ہو، تو تجسس ہو گیا!”
نیسا ہنس پڑی، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ ایہام کو زیادہ جانتی ہی نہیں تھی۔ ان کے “شان دار ماضی” اور اس حقیقت کے سوا کہ ان کا کوئی خاندان نہیں، وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتی تھی۔
اگلے دن—
جب نیسا دفتر پہنچی تو فَہّاد قَسّار نے اسے اپنے آفس میں بلا لیا۔
نیسا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، مگر فَہّاد نے نہایت گرمجوشی سے مسکرا کر استقبال کیا، یہاں تک کہ سیکریٹری کو کہہ کر اس کے لیے کافی بھی منگوائی۔ وہ کرسی پر بیٹھا خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
“تو آپ ہی نیسا ہیں۔” فَہّاد مسکرایا۔
“میں نے سیلز ڈیپارٹمنٹ میں ایک باصلاحیت لڑکی کے بارے میں بہت سنا ہے، جو کمپنی میں آئے ابھی دوسرا مہینہ ہی تھا اور مسٹر شان کے ساتھ ڈیل فائنل کر لی۔ میں کافی عرصے سے آپ سے ملنا چاہتا تھا، آج میری خواہش پوری ہو گئی!”
“آپ نے حد سے زیادہ تعریف کر دی، سر۔” نیسا نے سکون سے کافی رکھتے ہوئے کہا۔
“آپ جب چاہیں مجھ سے مل سکتے ہیں، لیکن آپ عموماً بہت مصروف رہتے ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ میری سیلز ڈیپارٹمنٹ میں کوئی غیر معمولی پرفارمنس نہیں۔”
فَہّاد نے آنکھیں سکیڑ کر اسے ایک بار پھر سر سے پاؤں تک دیکھا۔
یہ لڑکی صرف خوبصورت نہیں تھی، بات کرنا بھی جانتی تھی۔ چند جملوں میں اس نے نہ صرف سامنے والے کی انا کو سنبھالا بلکہ اپنی صلاحیت کو بھی نمایاں کیے بغیر بیان کر دیا۔ واقعی قابل تھی—اور اسی لیے اس کی بھانجی اس سے اس قدر خفا تھی۔
اس کے باوجود، یہ وہ وقت تھا جب کمپنی کو قابل لوگوں کی سخت ضرورت تھی۔ اگر ایسی صلاحیت کو کھو دیا جاتا تو یہ کمپنی کا نقصان ہوتا۔
نیسا کو تنگ کیا جا سکتا تھا، مگر کھلے عام نہیں۔ اسے نقصان اٹھانا تھا، مگر دوسروں کی نظر میں یہ سب کمپنی اور اعلیٰ افسران کی جانب سے اس کی صلاحیت کو تسلیم کرنا دکھائی دینا چاہیے تھا—تبھی مقصد پورا ہو سکتا تھا۔
فَہّاد نے اپنی انگلی میں موجود سنہری انگوٹھی کو سہلاتے ہوئے ایک چالاک مسکراہٹ سجائی۔
“نیسا، میں نے آج آپ کو اسی لیے بلایا ہے کہ میں آپ کو ایک ذمہ داری سونپنا چاہتا ہوں۔”
نیسا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کمپنی کافی عرصے سے سینٹرولِس کی مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی ہے۔” فَہّاد نے کہا۔
“ہم نے اس پر کئی سال پہلے منصوبہ بندی شروع کی تھی، مگر یہ آسان نہیں۔ سپلائی مانگ سے زیادہ ہے، سب کی نظریں اسی مارکیٹ پر ہیں، اور ہماری کمپنی کے پاس کوئی خاص برتری نہیں، اس لیے ہم اب تک صرف دوسروں کو فائدہ اٹھاتے دیکھتے رہے ہیں۔
اب جبکہ سیلز ڈیپارٹمنٹ کے دو سینئر لوگ جا چکے ہیں اور اپنے ساتھ کئی کلائنٹس بھی لے گئے ہیں، ہمارے لیے صورتحال مزید مشکل ہو گئی ہے۔
اسی لیے ہم شیئر ہولڈرز نے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا ہے کہ اب قابل نوجوانوں کو آگے لایا جائے۔”
نیسا کی پیشانی پر ہلکی سی شکن آ گئی اور دل زور سے دھڑکنے لگا۔
فَہّاد نے پیچیدہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“ہم سب متفق ہیں کہ آپ اس کردار کے لیے موزوں ہیں۔”
“سر، آپ کا مطلب…؟”
“جو قابل ہو، اس پر ذمہ داری بھی زیادہ ہونی چاہیے۔” فَہّاد نے کہا۔
“سینٹرولِس کی مارکیٹ کی تلاش کے لیے آپ سب سے بہتر انتخاب ہیں۔”
نیسا پلکیں جھپکنے لگی، اس کے دل میں بےچینی اتر آئی۔
“ہم نے آپ کے تیار کیے گئے سیلز پروپوزلز دیکھے ہیں، وہ تقریباً مکمل ہیں۔” فَہّاد نے تعریف کی۔
“آپ کی سیلز پرفارمنس بھی خود بولتی ہے۔ ہم کسی باصلاحیت شخص کو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
نیسا، اگر ہم سینٹرولِس کی مارکیٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، تو بورڈ آپ کو صرف سیلز ٹیم لیڈر تک محدود نہیں رکھے گا۔ آپ کو سیلز سپروائزر بنایا جائے گا… اور فیضان اشراف کی جگہ دی جائے گی۔ آپ کیا کہتی ہیں؟”
…
فَہّاد کے آفس سے نکلتے ہی نیسا نے چند گہری سانسیں لیں تاکہ دل کی بےقابو دھڑکن کو سنبھال سکے۔ اس نے اپنے گال تھپتھپائے، مگر پیشانی کی شکن برقرار رہی۔ ذہن ایک ساتھ خالی بھی تھا اور بکھرا ہوا بھی۔
کام کی دنیا میں آئے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا تھا، اور اب تک وہ سب کچھ اپنے احساس اور فطری سمجھ سے سنبھالتی آئی تھی۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ فَہّاد قَسّار کیا سوچ رہے ہیں، یا یہ کون سا شطرنجی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
کیا وہ واقعی ناگزیر تھی… یا محض ایک مہرہ؟
سیلز سپروائزر کا عہدہ پرکشش تھا، سینٹرولِس کی مارکیٹ ایک بڑا چیلنج تھی—مگر یہ موقع تھا یا خطرہ؟
نیسا نے آہ بھری اور اپنی سیٹ کی طرف لوٹنے ہی والی تھی کہ سامنے سے کسی کی طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف بڑھتی ہوئی آئی۔
