Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 100 The Truth Behind the Name


فرزان سدیدی نظریں اٹھانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔
وہ میرک کاردار کی تیز اور چھبتی ہوئی نگاہوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد، وہ ہکلاتے ہوئے بولا:
“مسٹر زیڈ… آپ اصل ایہام نہیں ہیں۔
آپ اس کی شناخت استعمال کر رہے ہیں۔
چونکہ آپ نے ایہام کا شناختی کارڈ استعمال کیا، اسی شناخت پر آپ کی شادی بھی رجسٹر ہوئی۔
“قانونی طور پر… نیسا کی شادی ایہام سے ہوئی ہے، مسٹر زیڈ سے نہیں۔”
زارِم اشہاب چونک کر کھڑا ہو گیا۔
“لیکن اصل ایہام تو مر چکا ہے!”
“ہاں…”
فرزان کی آواز مزید دھیمی ہو گئی۔
“اسی لیے یہ شادی قانونی طور پر باطل ہے۔
کیونکہ جس شخص کے نام پر نکاح ہوا، وہ زندہ ہی نہیں رہا۔”
کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔
سب نے باری باری میرک کی طرف دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میرک کا چہرہ مزید تاریک ہوتا جا رہا تھا۔
یہی تو بات ہے…
میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا؟
شادی کے وقت وہ خود موجود نہیں تھے۔
رامے خاندان نے شناختی کارڈز کے ذریعے تمام کاغزات کی کارروائی مکمل کروا دی تھی اور نکاح ایہام زمیر کے نام۔پر ہوا تھا۔
سٹی ہال نے یہ جانچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ اصل ایہام زندہ ہے یا مر چکا۔
یوں نکاح نامے میں کہیں بھی میرک کاردار کا اصل نام شامل ہی نہیں تھا۔
میرک نے پیشانی کے درمیان انگلیاں رکھ لیں۔
کنپٹیوں کی رگیں بری طرح دھڑک رہی تھیں۔
“مسٹر زیڈ… مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،”
زارِم نے دھیرے سے کہا۔
“ہمیں بس کوئی موقع ملتے ہی… خفیہ طور پر دوبارہ شادی رجسٹر کروا لینی ہوگی۔”
“ذرا دماغ استعمال کرو!”
فرزان نے اسے گھور کر دیکھا۔
“یہ اتنا آسان نہیں ہے!”
“کیوں نہیں؟”
زارِم ضد پر اتر آیا۔
“ہاں، کاردار خاندان نیسا کو قبول نہیں کرے گا،
مگر جب تک مسٹر زیڈ اسے چاہتا ہے، کوئی مسئلہ نہیں!”
فرزان لاجواب ہو گیا۔
اس نے زارِم کو گھور کر دیکھا، پھر رخ موڑ لیا۔
زارِم بولتا چلا گیا:
“تم کچھ نہیں جانتے، فرزان۔
زندگی میں سچی محبت مل جانا آسان نہیں ہوتا۔
کیا تم جانتے ہو ہماری زندگی کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟
محبت!
“اب جب مسٹر زیڈ کو اپنی زندگی کی عورت مل گئی ہے،
تو اسے ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے، اسے سنبھالنا چاہیے—”
“اُف!”
فرزان نے فوراً اس کا منہ ڈھانپ دیا۔
وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرک اور نیسا الگ ہوں،
مگر کاردار خاندان کوئی معمولی رکاوٹ نہیں تھا۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔
اس وقت میرک کو جذبات نہیں،
بلکہ پرسکون اور ہوش مند ذہن کی ضرورت تھی۔
“میں گھر جا رہا ہوں،”
میرک نے کہا۔اور کلب سے نکل گیا۔
زارِم اور فرزان کی باتیں اس کے ذہن میں گونجتی رہیں۔
بچپن سے وہ جانتا تھا کہ کاردار خاندان میں
کوئی بھی اپنی شادی کا خود فیصلہ نہیں کرتا۔
شادی وہی قبول ہوتی ہے جو خاندان کے لیے فائدہ مند ہو۔
اس کے والد نے اس کی ماں کو چھوڑ کر دوسری شادی کی،
مگر زَینوشہ کی ماں بھی ایک بااثر اور معزز خاندان سے تھی—
اتنی طاقتور کہ چار بڑے خاندانوں کے برابر سمجھی جاتی تھی۔
اسی لیے میرک نے کبھی شادی سے کوئی امید نہیں باندھی تھی،
نہ ہی کبھی کسی رشتے میں پڑنے کی کوشش کی۔
یہ سب…
نیسا سے ملنے تک۔
اس کی بھنویں سختی سے جڑی ہوئی تھیں۔
ذہن مکمل طور پر الجھا ہوا تھا۔
پتہ نہیں کیسے،
مگر ہوش میں آیا تو وہ گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔
اس نے آخری کش لگایا
اور سگریٹ زمین پر مسل کر گھر میں داخل ہو گیا۔
اندر قدم رکھتے ہی
کھانے کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔
نیسا کچن میں اِدھر اُدھر مصروف تھی۔
اس کی آواز سن کر اس نے مڑ کر میٹھی سی مسکراہٹ دی۔
کچھ دیر بعد وہ سوپ کا پیالہ لے کر آئی
اور بتایا کہ کھانا تیار ہے، ہاتھ دھو لیں۔
میرک اسے دیکھتا رہا اور مسکرا دیا۔
اصل میں اسے بچپن سے اَروی بالکل پسند نہیں تھی،
مگر نیسا اسے مختلف انداز میں پکا پکا کر
اس کے فائدے گنواتی رہتی تھی۔
صرف اَروی ہی نہیں—
گاجر، اجوائن، پیاز…
یہ سب بھی اسے ناپسند تھے۔
مگر نیسا انہیں کسی دوا کی طرح سمجھتی تھی
جو عمر بڑھا دے،
اس لیے وہ ہر طرح سے اسے کھلانے کی کوشش کرتی۔
میرک کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ پیچھے سے آیا اور نیسا کو بانہوں میں لے لیا۔
نیسا چونک گئی،
چولہا بند کیا۔
میرک نے اس کا کندھا تھام کر
گہرا سانس لیا۔
کھانے کی خوشبو
اور اس کے جسم کی مہک
اس کے لیے دنیا کی سب سے حسین خوشبو تھی۔
“کیا ہوا، جان؟”
نیسا نے پوچھا،
اس کی آواز سیدھی دل میں اتر گئی۔
میرک نے کچھ نہیں کہا،
بس گرفت اور مضبوط کر لی۔
نیسا کو تشویش ہوئی۔
وہ مڑی اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔
اس کی آنکھوں کے کنارے سرخ تھے!
“کیا ہوا؟”
وہ گھبرا گئی۔
میرک ہمیشہ مضبوط رہا تھا۔
بندوق کی نوک پر بھی اس نے آنسو نہیں بہائے تھے۔
“کیا کام پر کچھ ہوا؟”
وہ بچوں کی طرح اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
“اگر نوکری اچھی نہیں لگتی تو چھوڑ دو۔
ویسے بھی مجھے تمہارا کام پسند نہیں—
اتنا خطرناک ہے،
اور وہ لڑکیاں بھی تمہیں گھورتی رہتی ہیں…
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اگر دل نہیں لگتا تو چھوڑ دو،
میں تمہیں سنبھال لوں گی!”
میرک ہنس پڑا،
کچھ نہیں بولا۔
نیسا نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔
“لیکن میرا شوہر کسی عورت پر بوجھ نہیں بنتا۔
وہ بس تھکا ہوا ہے۔
آرام کرے گا تو پھر سے مضبوط بن جائے گا—”
جملہ پورا ہونے سے پہلے
میرک نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ رکھ دیا۔
نیسا چونک گئی۔
دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
آج وہ معمول سے زیادہ بے قرار تھا۔
“نہیں…”
نیسا نے سانس لیتے ہوئے کہا۔
“ایک ڈش اور—”
مگر میرک نے انتظار نہیں کیا۔
اسے اٹھایا
اور کمرے میں لے جا کر دروازہ بند کر دیا۔
نیسا نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔
“نیسا…”
اس کی آواز بھاری تھی۔
“ہم ایک بچہ کیوں نہیں کر لیتے؟”
سب کچھ ختم ہونے کے بعد
میرک بالکونی میں کھڑا تھا۔
اس کا قد اندھیری رات میں گم ہو رہا تھا۔
اس نے ایک اور سگریٹ جلائی
اور پھر اسے مسل دیا۔
“اگر تمہیں پتا چلے کہ تمہارا شوہر امیر ہے تو؟”
“ہم دو الگ دنیاؤں کے لوگ ہیں… میں اس سے الگ ہو جاؤں گی۔”
“قانونی طور پر تمہاری شادی باطل ہے۔
نیسا میرک کی بیوی ہے، مسٹر زیڈ کی نہیں۔”
اس کا دل زور سے دھڑکا۔
اس نے ریلنگ کو اس زور سے تھاما
کہ انگلیاں سفید پڑ گئیں۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔
نیسا گہری نیند سو رہی تھی۔
اس کے ردِعمل کو یاد کر کے
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اگر ہمارا بچہ ہو جائے…
تو سب کچھ بدل جائے گا، ہے نا؟
میرک نے گہرا سانس لیا۔
کاردار خاندان میں
اس نے بہت کچھ جھیلا تھا—
یہاں تک کہ جہاز حادثے سے بھی بچ نکلا تھا۔
مگر اس وقت
ایک نیا خوف اس کے دل میں اتر رہا تھا۔
وہ نیسا کو کھونے سے ڈرنے لگا تھا۔
نیسا نے کروٹ بدلی اور آہستہ آہستہ آنکھ کھولی۔
آنکھ کھلتے ہی اس کی نظر سب سے پہلے بالکونی میں کھڑے اُس مرد پر پڑی۔
اس کے خوبصورت چہرے پر ہلکی سی شرمندگی پھیل گئی، کانوں کے کنارے سرخ ہو گئے۔
اس نے ہونٹ بھینچے اور ہلکی سی ہنسی ہنس دی، مگر پھر ایک عجیب بات نے اسے چونکا دیا۔
اگرچہ ان کے درمیان وقتاً فوقتاً قربت ہوتی رہتی تھی، مگر ایہام ہمیشہ خود پر قابو رکھتا تھا۔
اس نے کبھی اس طرح بے قابو ہو کر خود کو نہیں کھویا تھا۔
نیسا آہستگی سے بستر سے اٹھی۔
وہ پیچھے سے اسے گلے لگانا چاہتی تھی، مگر جیسے ہی اس کے پاؤں فرش پر پڑے، وہ تقریباً لڑکھڑا گئی۔
“کیا ہوا؟ ٹھیک ہو؟”
ایہام نے فوراً بازو آگے بڑھا کر اسے تھام لیا۔
نیسا ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔
اس نے اسے اپنی بانہوں میں کھینچا اور نرمی سے دیکھا۔
ہلکی سی ہنسی کے ساتھ اس نے اسے دوبارہ بستر پر بٹھا دیا، بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بولا:
“آدھی رات کو کیوں جاگ رہی ہو؟ پیچھے سے مجھے ڈرانے کا ارادہ تھا کیا؟”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا!”
نیسا نے ننھی مٹھیوں سے اسے مارا۔
دونوں کچھ دیر شرارت کرتے رہے، مگر پھر اچانک ایہام کی نظریں اس کے جسم پر ٹھہر گئیں۔
اس کی جلد صاف اور نازک تھی، ذرا سی چھونے پر سرخ ہو جاتی تھی۔
ایہام کی آنکھوں میں خواہش اتر آئی۔
اس نے اس کے بال کان کے پیچھے کیے اور دھیمی آواز میں بولا:
“کل کچھ ایسا پہننا جو گردن کو ڈھانپ لے۔”
نیسا کو ایک لمحے بعد اس کی بات سمجھ آئی۔
شرمندگی سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
وہ فوراً اس کے سینے سے لگ گئی اور پھر مکے مارنے لگی۔
“اچھا بس کرو!”
ایہام ہنس پڑا۔
“تمہارے یہ مکے تو گدگدی جیسے ہیں۔
کیا تم چاہتی ہو کہ میں پھر قابو کھو دوں؟”
“ایہام، تم!”
نیسا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“تم بہت بُرے ہو!”
“تو؟”
“اگر تم نے میرے ساتھ اتنی بدتمیزی جاری رکھی تو… میں تمہیں چھوڑ دوں گی!”
وہ بس مذاق کر رہی تھی،
مگر جیسے ہی اس نے اس کی طرف دیکھا، اسے احساس ہوا کہ اس کی آنکھوں کی چمک غائب ہو چکی تھی۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔
“کیا ہوا، جان؟”
وہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔
خاموش تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک گہری اداسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“میں تو مذاق کر رہی تھی!”
نیسا گھبرا کر بولی۔
“میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔”
“لیکن اگر میں تم سے جھوٹ بولوں؟”
اس نے سرد آواز میں پوچھا۔
“تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گی؟”
نیسا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
یوں لگا جیسے دونوں کے درمیان ایک ان دیکھی دیوار کھڑی ہو گئی ہو۔
ایک لمحے کو اسے لگا کہ اس کے سامنے کھڑا ایہام کوئی اور ہی شخص ہے۔
اس کے دل میں ایک برا سا احساس ابھرا، ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔
اچانک ایہام ہنس پڑا۔
اس نے حسبِ عادت اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“فکر مت کرو، میں بھی مذاق ہی کر رہا تھا۔”
“سچ؟”
“ہاں۔”
وہ بولا۔
“بس ایک بات یاد رکھنا…
میں تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔”
نیسا نے بے دلی سے سر ہلایا۔
وہ اس کے ننگے سینے سے ٹیک لگا کر لیٹ گئی۔
اس کے دل کی بے چینی، اس کی دھڑکن سنتے سنتے آہستہ آہستہ کم ہو گئی۔
ایہام کم ہی مسکراتا تھا،
اور ہر بات کو بہت سنجیدگی سے لیتا تھا۔
اس لمحے نیسا کو احساس ہوا کہ
وہ اب اس کے ساتھ اس طرح کے مذاق شاید نہیں کر سکتی۔
وہ مسکرا دی۔
دل میں عجیب سی گرمی بھر گئی۔
اس کی بانہوں میں سمٹ کر
وہ کچھ ہی دیر میں گہری نیند سو گئی۔
ایہام پوری رات نہیں سویا۔
جب آسمان پر فجر کی ہلکی سی روشنی پھیلنے لگی،
اس کے فون کی اسکرین روشن ہوئی۔
زارم اشہاب نے ایک تصویر بھیجی تھی۔
تصویر میں چند سیاہ لباس پہنے آدمی دکھائی دے رہے تھے،
جو چپکے چپکے گلی میں گھوم رہے تھے۔
جگہ دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ اسی چھوٹے سے فلیٹ کے آس پاس تھے جہاں وہ رہ رہے تھے۔
ایہام فوراً چوکس ہو گیا۔
وہ اٹھا، بالکونی کی طرف گیا اور زارم کو فون کیا۔
“کیا ہوا ہے؟”
“میرے آدمیوں نے یہ تصویر بھیجی ہے،”
زارم نے کہا۔
“مسٹر زیڈ، سنا ہے یہ لوگ پچھلے کچھ دنوں سے آپ کی بیوی کا پیچھا کر رہے ہیں۔”
ایہام نے آنکھیں تنگ کر لیں۔
آنکھوں میں سرد چمک ابھر آئی۔
“کیا یہ میرے چچا کی طرف کے لوگ ہیں؟”
“یوں سمجھ لو۔”
زارم نے ہلکی سی طنزیہ ہنسی ہنسی۔
“میں نے تحقیق کی ہے۔ یہ سب اولیور جونز کے آدمی ہیں۔”
“وہ کیا چاہتا ہے؟”
“شاید وہ آپ کے چچا کے سامنے خود کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔
آخر مہران کو ہمیشہ یہی لگتا رہا ہے کہ آپ چیس لینڈ میں ہیں۔”
ایہام کا چہرہ سخت ہو گیا۔
لبوں کے کونے پر سرد مسکراہٹ ابھری۔
“اگر وہ کاردار خاندان کے سامنے خود کو ثابت کرنا چاہتا ہے،
تو وہ کسی پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے…
بس شرط یہ ہے کہ وہ کاردار خاندان سے تعلق رکھتا ہو۔”
“آپ کا کیا مطلب ہے، مسٹر زیڈ؟”
“چند آدمی لے کر اس کے پاس جاؤ۔”
ایہام نے آواز دبا کر فون پر کچھ ہدایات دیں۔
اولیور جونز کو باندھ کر ایک کمرے میں پھینک دیا گیا تھا۔
شروع میں وہ غرور سے چیخ رہا تھا، گالیاں دے رہا تھا۔
آخرکار محافظوں نے اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا اور سر پر تھیلا ڈال دیا۔
وہ ذرا بھی ہل نہیں پا رہا تھا۔
ایک زور دار دھماکے کے ساتھ وہ زمین سے ٹکرایا۔
آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے۔
اسی لمحے اس کے سر سے تھیلا ہٹا دیا گیا
اور منہ سے ٹیپ کھینچ لی گئی۔
وہ چیخنے ہی والا تھا کہ
اس کی نظر زارم اشہاب پر پڑ گئی۔
“مسٹر اشہاب؟”
“کیسے ہیں، مسٹر جونز؟”
اولیور کا دماغ سن ہو گیا۔
جتنا سوچا، اسے یاد نہ آیا کہ اس نے زارم کو کب ناراض کیا تھا۔
اس نے اردگرد دیکھا۔
درجنوں محافظ اسے گھیرے کھڑے تھے، سب کے چہرے سپاٹ۔
وہ سوال نگل گیا۔
“مسٹر جونز،”
زارم اس کے سامنے جھک کر بیٹھ گیا اور جیب سے تصاویر نکالیں۔
“انہیں پہچانتے ہو؟”
اولیور نے دیکھا۔
وہ سب اس کے اپنے آدمیوں کی تصویریں تھیں، جو نیسا کا پیچھا کر رہے تھے۔
“میں… میں نہیں سمجھا۔
کیا مس رامے کسی مسئلے میں ہیں؟”
“کیا واقعی؟”
زارم نے تصویروں کا پلندہ اس کے منہ پر مارا۔
“یہ بات تمہیں سب سے بہتر معلوم ہونی چاہیے۔”
اولیور گھبرا گیا اور فوراً معافی مانگنے لگا۔
“مسٹر اشہاب! مجھے کچھ معلوم نہیں!
مس رامے اور میں تو بس کاروباری شراکت دار ہیں۔
وہ بہت قابل خاتون ہیں، ہم نے پہلے بھی اچھا کام کیا ہے—”
زارم نے اسے حقارت سے دیکھا۔
وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
“اولیور، صاف صاف بات کرتے ہیں۔
تم نے اپنے آدمی نیسا کے پیچھے اس لیے لگائے
تاکہ ایہام کی اصل شناخت معلوم کر سکو، ٹھیک ہے؟”
اولیور کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی۔
وہ خاموش رہا۔
“ہاں، تم درست ہو۔”
زارم نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“وہی میرک کاردار ہے۔”
اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی،
جس نے اولیور کو اندر تک ہلا دیا۔
اسی لمحے اولیور کو احساس ہوا کہ
اصل میں وہ خود ہی تماشہ بنا ہوا تھا۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اندھیرے میں جاسوسی کر رہا ہے،
مگر ایہام تو کب کا اسے دیکھ چکا تھا۔
زارم نے خنجر نکالا۔
سرد روشنی چمکی، اولیور کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
پھر اس نے ریوالور نکالی۔
گولی ڈالنے کی آواز صاف سنائی دی۔
اولیور خوف سے پیچھے ہٹنے لگا،
آنکھوں میں وحشت بھر گئی۔
“م… مسٹر اشہاب…”
زارم ہنس پڑا۔
“مسٹر زیڈ نے کہا ہے،
جب کوئی اتنا بے چین ہو کہ اس کی شناخت سب پر ظاہر کر دے،
تو بہتر ہے اسے ہی ختم کر دیا جائے۔
آخر مردہ لوگ راز نہیں بتاتے۔”
اس نے ریوالور اولیور کے سر پر رکھ دی۔
اولیور خوف سے چیخ پڑا،
پیشاب تک نکل گیا۔
زارم نے خنجر اس کی گردن پر رکھا۔
“اس بندوق سے ماروں تو موت جلدی آ جائے گی۔
مگر اس خنجر سے… مزہ آئے گا۔
“یا پھر…”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“تم مہران کو فون کر لو،
اور اس سے پوچھ لو کہ وہ تمہیں کس طرح مرتا دیکھنا چاہتا ہے۔”
اولیور جونز کے پورے سر پر پسینہ تھا۔
وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا اور مسلسل معافیاں مانگ رہا تھا۔
زارم ہمیشہ دل کے مطابق کام کرنے والا شخص تھا۔
قتل کرنا یا کسی جگہ کو آگ لگا دینا اس کے لیے کوئی ناممکن بات نہیں تھی۔
اشہاب خاندان کی طاقت کے ہوتے ہوئے، اگر زارم اولیور کو مار بھی دیتا،
تو اس دنیا میں بس ایک اور “لاپتہ شخص” کا اضافہ ہوتا،
اور اشہاب خاندان بہت جلد اس معاملے کو دبا دیتا۔
جہاں تک مہران کاردار کا تعلق تھا…
جب تک وہ خود محفوظ رہتا، وہ کسی کی پروا نہیں کرتا تھا۔
یہ بھی ممکن تھا کہ وہ پلٹ کر اولیور ہی کو قربانی کا بکرا بنا دیتا۔
آخرکار، مہران کو اپنے باپ کے سامنے اپنی نیک نامی بھی تو قائم رکھنی تھی۔
اولیور نے ہونٹ کاٹے اور زور سے اپنا سر فرش پر دے مارا۔
اس کے ماتھے پر زخم آ گیا، اور وہاں سے خون بہنے لگا۔
“براہِ کرم مجھے چھوڑ دیں، مسٹر اشہاب!”
وہ لرزتی آواز میں بولا۔
“میں… میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کے لیے ہر کام کروں گا، بغیر کسی شکایت کے!”
“تو پھر تمہارے مسٹر کاردار کا کیا؟”
زارم نے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
“میں… میں وعدہ کرتا ہوں!”
اولیور کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
“میں مہران کو کچھ نہیں بتاؤں گا!”
“تم سمجھتے ہو میں تم پر یقین کر لوں گا؟”
زارم نے خنجر اور بندوق ایک طرف اچھالتے ہوئے کہا۔
“لیکن اگر تم میری وفاداری قبول کر لو، تو میں تمہیں چھوڑنے پر غور کر سکتا ہوں۔”
“آپ کا حکم کیا ہے، مسٹر اشہاب؟”
“تم زارمہ رامے کو جانتے ہو، ہے نا؟”
زارم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میرک کاردار کو ابھی زارمہ کو سزا دینے کا موقع نہیں ملا تھا،
کیونکہ اس نے نیسا رامے کو چوہوں کے ساتھ تہہ خانے میں بند کر دیا تھا۔
آخر کہاوت ہے نا:
‘کانٹے سے کانٹا نکالو’۔
زارم کا ارادہ تھا کہ اولیور کے ذریعے زارمہ کو ختم کروایا جائے۔
اس طرح دونوں اپنے اپنے جھگڑوں میں الجھے رہیں گے
اور میرک اور نیسا کو تنگ نہیں کریں گے۔
اولیور نے مشکل سے لعاب نگلا اور دھیمی آواز میں پوچھا:
“آپ… آپ چاہتے ہیں کہ میں زارمہ رامے کو ختم کر دوں؟”
“مسٹر جونز، اگر تم میرے اور مسٹر زیڈ کے لیے کام کرو گے،
تو ہم تمہارے ساتھ برا سلوک نہیں کریں گے۔
“لیکن ایک بات اچھی طرح یاد رکھنا—
اگر ہماری ذرا سی بھی معلومات مہران تک پہنچیں…
تو اگر مسٹر زیڈ تمہیں چھوڑ بھی دے،
وہ خود تمہیں ختم کر دے گا۔
سمجھے؟”
چند دن بعد،
زارمہ رامے کے دھوکہ کھانے کی خبر
پورے جانگاساس کے بزنس سرکل میں پھیل گئی۔
یہاں تک کہ بوفسٹ کے لوگ بھی اس کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔
نیسا رامے جہاں بھی جاتی،
لوگوں کو زارمہ پر ہنستے ہوئے سنتی۔
ابتدا میں، وہی وہ خاتون تھی جو اس کلائنٹ کو سنبھال رہی تھی،
مگر زارمہ نے وہ کلائنٹ بھی اس سے چھین لیا۔
دو دن پہلے…
نیسا اور زارمہ ایک عمارت کی اوپری منزل پر
ایک گاہک سے ملنے آئی تھیں۔
نیسا اس گاہک سے زیادہ واقف نہیں تھی۔
ڈیویڈ کی دی ہوئی معلومات کے مطابق،
مسٹر رَڈ اسپیرا سے آئے تھے
اور یہاں کاروبار کے لیے موجود تھے۔
ڈیویڈ نے چاہا تھا کہ نیسا ان سے ملاقات کرے،
اسی لیے وہ وہاں پہنچی تھی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا
کہ سامنے دروازے پر اس کی ملاقات زارمہ سے ہو جائے گی۔
“کیا تم بھی مسٹر رَڈ سے ملنے آئی ہو؟”
زارمہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
جب بھی نیسا کو وہ لمحہ یاد آتا
جب زارمہ نے اسے تہہ خانے میں بند کیا تھا،
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی۔
وہ زارمہ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“میں پہلے ہی صاف کر دوں—
مسٹر رَڈ میرے ساتھ کنٹریکٹ سائن کرنے والے ہیں!”
زارمہ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
“جینر گروپ کی مالی حیثیت
تمہاری اس چھوٹی سی کمپنی سے کہیں زیادہ مضبوط ہے!”
“ایسی باتوں کا دار و مدار قسمت پر ہوتا ہے،”
نیسا نے سکون سے جواب دیا۔
“کنٹریکٹ سائن ہونے سے پہلے
کچھ بھی ہو سکتا ہے!”
زارمہ نے اسے گھورا،
اسی لمحے مسٹر رَڈ باہر آ گئے۔
زارمہ فوراً آگے بڑھی
اور کہنی سے نیسا کے پیٹ پر زور سے ضرب لگائی۔
نیسا درد سے کراہ اٹھی۔
اگلے ہی لمحے،
زارمہ نے اس کے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا۔
نیسا توازن کھو بیٹھی
اور سب کے سامنے زمین پر گر پڑی۔
جب اس نے سر اٹھایا،
تو دیکھا کہ مسٹر رَڈ
اسے کسی مسخرے کی طرح دیکھ رہے تھے۔
“مجھے معاف کیجیے، مسٹر رَڈ!”
زارمہ فوراً آگے بڑھی۔
“یہ میری بہن ہے۔
اس کی ماں ذہنی مریضہ ہے،
اسی لیے اس کے دماغ میں ذرا پیچ ڈھیلا ہے!”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *