Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 16

“ٹھیک ہے… میں آ گیا ہوں۔”
ایہام زُمیر نے نیسا رامے سے کہا کہ وہ اندر جا کر دروازہ بند کر لے۔
نیسا فرمانبرداری سے اندر چلی گئی، مگر ایہام اس کے پیچھے اندر نہیں آیا۔ چند لمحوں بعد گھر کے باہر سے بھاری دھپ دھپ کی آوازیں سنائی دیں، پھر مردوں کی درد بھری کراہیں اور چیخیں گونجنے لگیں۔
نیسا نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔
ایہام زُمیر ان غنڈوں کو بری طرح پیٹ چکا تھا۔ ان کے جسم سوجے ہوئے تھے، چہرے لہولہان، اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے رحم کی بھیک مانگ رہے تھے۔
گھر کے سامنے کی زمین اب خون سے تر ہو چکی تھی۔
اس کے باوجود ایہام زُمیر مطمئن نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے وہی ڈنڈا اٹھایا جو نیسا نے استعمال کیا تھا اور بے رحمی سے ایک آدمی کی ٹانگ پر دے مارا۔
“دوبارہ میری بیوی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی…”
اس کی آواز گرجدار اور خوفناک تھی،
“تو اگلی بار صرف ٹانگ نہیں ٹوٹے گی!”
ہر لفظ دھمکی سے بھرا ہوا تھا۔
غنڈے دہشت زدہ ہو کر بھاگ نکلے۔
نیسا اندر ہی رہی، اپنے تیزی سے دھڑکتے دل کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتی رہی، حالانکہ اس کی سانسوں کی تیزی اس کے خوف کو ظاہر کر رہی تھی۔
اسی لمحے ایہام زُمیر اندر آیا۔
جب نیسا نے اس کے کپڑوں پر جما ہوا خون دیکھا تو اس کے ہونٹ ہلے، مگر وہ کچھ کہہ نہ سکی۔
“ڈری تو نہیں تھیں؟”
ایہام زُمیر اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا۔
نیسا نے سر ہلایا، پھر خود ہی بازو پھیلا کر اس سے لپٹ گئی اور اپنا چہرہ اس کے سینے سے لگا لیا۔
اس کا یہ نرم، ڈرا سا انداز ایہام زُمیر کے دل کو چھو گیا۔
“تم میری سوچ سے کہیں زیادہ مضبوط ہو،”
وہ ہلکا سا ہنسا۔
“جب انہوں نے تمہیں نقصان پہنچانا چاہا، تم نے ڈنڈے سے ہی انہیں بھگا دیا۔”
“اور میں کیا کرتی؟”
نیسا نے ضدی انداز میں اوپر دیکھا۔
“کوئی مدد کو نہیں آیا، آپ گھر پر بھی نہیں تھے۔ مجھے خود ہی خود کو ہمت دینی پڑی…”
“ہمم… یہ میری غلطی ہے،”
ایہام زُمیر نے گہری آواز میں کہا۔
“مجھے گھر پر تمہارے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ مگر مجھے نہیں لگتا وہ لوگ دوبارہ آنے کی ہمت کریں گے۔”
نیسا نے ہنستے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سینے میں اور چھپا لیا۔
انجانے میں اس کا ہاتھ اس کے مضبوط سینے سے پھسل گیا۔ نمایاں عضلات کو محسوس کرتے ہی اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ واقعی اتنی تیزی سے لڑ سکتا ہے اور سب کو اکیلا ختم کر دے گا۔
پھر لوگ اسے بزدل کیوں کہتے تھے؟
“پہلے جا کر ہاتھ منہ دھو لیجیے اور کپڑے بدل لیجیے،”
نیسا نے کہا۔
“میں کھانا تیار کرتی ہوں۔”
ایہام نے سر ہلایا، مگر اس کی نظریں اب بھی اس پر جمی تھیں۔
یہ دیکھ کر نیسا چونک گئی۔
“کیا میرے چہرے پر کچھ لگا ہے؟”
“نہیں،”
وہ مسکرا دیا۔
“بس یہ سوچ رہا ہوں کہ… تم ویسی نہیں ہو جیسا لوگ تمہیں بیان کرتے تھے۔”
“کیا؟”
“شادی سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ رامے خاندان کی وارث بگڑی ہوئی ہے، بہت غصیل ہے، اور اسے کوئی کام نہیں آتا۔”
وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔
“مگر تم گھر بہت اچھی طرح سنبھالتی ہو، تم بہترین کھانا بناتی ہو، اور ہر مسئلے کو سکون سے سنبھال لیتی ہو…”
وہ ہلکی سی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“میں سوچ رہا ہوں… کیا تم واقعی زارمہ رامے ہی ہو؟”
نیسا کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ اسے خالی نظروں سے دیکھتی رہ گئی۔ اس کے ہونٹوں کے کنارے تھرتھرائے، پھر اس نے زبردستی ایک بناوٹی، اجنبی سی مسکراہٹ چہرے پر جما لی۔
“میں… میں ہی زارمہ ہوں،”
وہ نظریں چراتے ہوئے بال کان کے پیچھے کرنے لگی۔
“افواہیں ہوتی ہیں نا… حقیقت سے مختلف۔ لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔ میں ہی رامے خاندان کی وارث ہوں۔ آپ نے غلط عورت سے شادی نہیں کی!”
اس بار ایہام زُمیر واقعی ہنس پڑا۔
کوئی بات نہیں…
وہ انتظار کر سکتا تھا۔
اس دن تک جب وہ خود سچ بتانے کے لیے تیار ہو جائے گی۔
نیسا تیزی سے کچن کی طرف بڑھی ہی تھی کہ دروازے پر بےچینی سے دستک ہوئی۔
“ایہام، گھر پر ہو؟”