Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 08
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 08
نیسا رامے کی مسکراہٹ ایک لمحے میں سخت ہو گئی، جب اس کے دل میں اداسی کی ایک ہلکی سی چنگاری بھڑکی۔
لَیما حَیان ٹھیک کہہ رہی تھی۔
شادی زندگی بھر کا ساتھ ہوتی ہے، اور اس نے یہ فیصلہ بنا سوچے سمجھے کر لیا تھا۔
اسے باقاعدہ محبت کرنے، سمجھنے، جاننے کا موقع تک نہیں ملا تھا۔
یہ سچ تھا کہ وہ اپنی ساری عمر کی خوشی قربان کر رہی تھی…
مگر—
اس نے ہونٹ بھینچے، پھر ہلکی سی ہنسی ہنس دی۔
“اتنی بھی افسوسناک بات نہیں۔ دراصل مجھے تو ایہام زُمیر کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
اگر وہ مجھ سے شادی نہ کرتا تو مجھے یہ چالیس ہزار بھی نہ ملتے!”
بس اس کی ماں صحت یاب ہو جائے،
اور اس کا چھوٹا بھائی پڑھ لکھ کر اچھی زندگی گزار سکے—
اسی میں اس کی سب سے بڑی خوشی تھی۔
“اچھا، اب میں فون رکھتی ہوں!”
نیسا نے جلدی میں کہا۔
“آج میں پیسے لینے جا رہی ہوں۔ جیسے ہی ملے، تمہیں خوش خبری دوں گی!”
اس نے احتیاط سے فون بیگ میں رکھا اور جلد ہی جانگاساس کی سب سے مصروف سڑک پر پہنچ گئی۔
سڑک پر رواں زندگی، لوگوں کا شور، گاڑیوں کی آوازیں—
سب کچھ دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا جیسے ایک عمر گزر چکی ہو۔
“اوہ، تو تم واپس آ گئی ہو، نیسا!”
زارمہ رامے کی تیز آواز طنز میں ڈوبی ہوئی تھی،
جب وہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی غرور سے نیسا کو دیکھنے لگی۔
زارمہ سوچ رہی تھی کہ پچھلے چند دن نیسا نے کیسے گزارے ہوں گے۔
جب اسے یاد آیا کہ نیسا ایک ایسے شخص سے بیاہی گئی ہے جو کنگال بھی ہے اور بدنام بھی،
تو اس کے دل میں عجیب سی خوشی بھر گئی۔
بچپن سے لے کر آج تک،
وہ تقریباً ہر بات میں نیسا سے ہارتی آئی تھی۔
یہاں تک کہ جب نیسا پرانے کپڑے پہنتی، تب بھی لوگ اس کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھتے۔
نیسا کا مزاج نرم تھا،
لوگ اسے پسند کرتے تھے،
اور وہ پڑھائی میں بھی اچھی تھی۔
یہ سب باتیں زارمہ کے لیے ہمیشہ سے کانٹے کی طرح تھیں۔
حتیٰ کہ جب نیسا نے کبھی اسے نقصان پہنچانے کا سوچا بھی نہیں،
زارمہ نے ہر موقع پر، ہر طریقے سے اس کی زندگی مشکل بنانے کی کوشش کی۔
زارمہ کے خیال میں،
نیسا کا اس کی جگہ شادی کرنا بالکل درست تھا—
بس مسئلہ یہ تھا کہ اسے اس میں بھی تسکین نہیں ملی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ نیسا اور زیادہ برباد ہو،
اور اس کی زندگی اور بھی زیادہ اذیت ناک بن جائے۔
“نیسا، شادی کر کے کیسا لگ رہا ہے؟”
زارمہ نے بناوٹی محبت سے نیسا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا،
چہرے پر دھوکے بھری مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔
“سنا ہے پہلے زمانے میں لوگ والدین کے حکم پر شادی کر لیتے تھے
اور شادی کی رات سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھتے تک نہیں تھے…
ہا! تم تو پورے ریٹرو اسٹائل میں چلی گئیں!”
نیسا نے کھوکھلی سی ہنسی ہنسی اور آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔
اس خاندان کے لیے اب اس کے دل میں کوئی جذبہ باقی نہیں رہا تھا۔
اس کی بس ایک ہی خواہش تھی—
جلد سے جلد پیسے لے کر یہاں سے نکل جائے
اور آئندہ کبھی رامے خاندان سے کوئی تعلق نہ رکھے۔
“سنا ہے میرے بہنوئی صاحب پہلے لڑائی جھگڑوں میں کئی بار جیل جا چکے ہیں؟”
زارمہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
اس کی نگاہیں حد سے زیادہ توہین آمیز تھیں۔
“اب وہ کیا کرتے ہیں؟
کوئی ڈھنگ کی نوکری ہے بھی یا نہیں؟
یا بس یوں ہی تمہارا بوجھ اٹھا رہے ہیں؟!
“اگر واقعی اسے نوکری نہیں ملتی تو میں مدد کر سکتی ہوں!
ہا! میں اسے اچھی نوکریاں دلا سکتی ہوں—
جیسے تعمیرات کا کام، بندرگاہ پر مزدوری۔
اس پر تو خوب جچیں گی، ہے نا؟
یا پھر کمپنی میں رکھ لیں؟
سیکیورٹی گارڈز کو تو ایک کتا بھی چاہیے ہوتا ہے،
وہ یہ کام بھی سنبھال سکتا ہے!”
نیسا کی آنکھیں فوراً اس پر جم گئیں۔
زارمہ کا دل ایک لمحے کو دھک سے رہ گیا۔
اس کے ذہن میں نیسا کی تصویر ہمیشہ ایک دبے دبے مزاج، آسانی سے جھک جانے والی لڑکی کی رہی تھی۔
مگر آج اس کی نگاہ میں کچھ بدلا بدلا سا تھا۔
نیسا نے گہرا سانس لیا اور سیدھا زارمہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے صاف لہجے میں کہا،
“میرے شوہر میں کچھ خامیاں ہو سکتی ہیں،
مگر اس سے ان کی یہ صلاحیت متاثر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے خاندان کی ذمہ داری اٹھا سکیں۔
“اور ویسے بھی،
اگر وہ واقعی کبھی نوکری ڈھونڈنے کا سوچیں گے،
تو ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے۔
جو ‘اچھی نوکریاں’ تم نے گنوائیں ہیں،
وہ اپنے ہونے والے شوہر کے لیے بچا کر رکھنا!”
“تم—!”
زارمہ غصے سے تلملا اٹھی۔
“نیسا، تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟
تم مجھ سے اس لہجے میں بات کر رہی ہو؟!”
“کیا؟”
نیسا نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“تعمیراتی کام، بندرگاہ کی مزدوری، یا سیکیورٹی کتے کی نوکری—
تم تو انہیں بہت شاندار کام سمجھتی ہو، ہے نا؟
“تم ہمیں یہ کام دلوا کر احسان کر رہی ہو،
تو ایک بہن ہونے کے ناطے کیا یہ میرا حق نہیں
کہ میں تم سے کہوں یہ سب تم اپنے مستقبل کے شوہر کے لیے محفوظ رکھو؟”
زارمہ بری طرح جھنجھلا گئی۔
اس نے کبھی نیسا کو اتنی تیز زبان کے ساتھ نہیں دیکھا تھا۔
“ہا!
بس تم ہی ہو جو ایسے آدمی کا دفاع اس طرح کر سکتی ہو
جیسے وہ کوئی انمول ہیرا ہو!”
زارمہ نے آنکھیں گھمائیں،
ہونٹ سکیڑتے ہوئے اکڑ کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
اوپر جاتے جاتے طنز سے ہنستی ہوئی بولی،
“یہ مت سمجھنا کہ مجھے نہیں معلوم تم آج کیوں آئی ہو…
ہا! مگر بابا تو گھر پر نہیں ہیں۔
آج آ کر تم نے اپنا وقت ہی ضائع کیا ہے!”
“کیا کہا تم نے؟!”
نیسا کا دل زور سے دھڑکا۔
اس کے اندر فوراً ایک برا سا اندیشہ جاگ اٹھا۔
