Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 46 The Man Behind the Mask

میرک کاردار کے چہرے کے تاثرات میں ہلکی سی تبدیلی آئی۔

اس کے برابر بیٹھے رابرٹ نے اشارے سے اسے باہر دیکھنے کو کہا۔

گاڑی کی کھڑکی سے میرک نے اپنی ننھی سی بیوی کو دیکھا۔ نیسا سڑک کے بیچ کھڑی تھی، مکمل طور پر ساکت، جبکہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے جا رہے تھے۔ اس کے پیچھے جو بلند و بالا عمارت نظر آ رہی تھی، وہ کاردار گروپ کا ہیڈکوارٹر تھی۔ نیسا نے موبائل کان سے لگایا ہوا تھا اور بڑے صبر سے اس کے جواب کی منتظر تھی۔

میرک نے آہستہ سے سانس بھری اور نرم مسکراہٹ کے ساتھ دھیمی آواز میں بولا،
“میں… سینٹرولِس میں پہلے کچھ جھمیلوں میں پھنس گیا تھا، اسی لیے کچھ عرصہ وہاں رہا ہوں۔”

نیسا ایک لمحے کو ٹھٹھکی، پھر فوراً موضوع بدل دیا۔

رابرٹ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ میرک فون پر کس سے بات کر رہا ہے، مگر اس کے چہرے پر جو نرم مسکراہٹ تھی، وہ اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔
اس نے میرک کو کبھی اتنا پُرسکون اور نرم نہیں دیکھا تھا۔

میرک کے فون بند کرنے اور نیسا کو اپنی کولیگ کے ساتھ دور جاتے دیکھ کر، رابرٹ نے دھیمی آواز میں پوچھا،
“سر، جو جگہیں آپ نے مس رامے کو بتائی تھیں… کیا ہم انہیں خالی کرا دیں؟”

“نہیں۔” میرک دوبارہ اپنی معمول کی سرد مہری میں آ گیا۔
“اسے سکون سے رہنے دو۔ اگلے چند دنوں کے لیے مزید لوگ اس کی حفاظت پر لگا دو، مگر خاموشی سے۔ میں نہیں چاہتا کہ اسے کچھ معلوم ہو۔”

“جی، سمجھ گیا۔”

“اور…” میرک نے آنکھیں سکیڑیں،
“جب تک میں خود وہاں نہ ہوں، کاردار خاندان کا کوئی بھی شخص اس کے قریب نہ آنے پائے!”

کاردار مینر — سینٹرولِس

سینٹرولِس کے جنوب میں، سپلینڈر پہاڑ پر واقع کاردار مینر پہاڑ کے ساتھ ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی شان و شوکت ایسی تھی جیسے یہ کوئی الگ ریاست ہو۔ چار بڑے خاندانوں میں سرفہرست ہونے کے ناتے، کاردار خاندان ملک کی معیشت کے بڑے حصے پر قابض تھا۔

میرک کاردار آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترا۔ چند لمحے پہلے جو ہال شور و غل سے بھرا ہوا تھا، اس کے قدم پڑتے ہی مکمل خاموشی چھا گئی۔

اس کا سلیقے سے سلا ہوا سوٹ اس کے مضبوط وجود کو اور نمایاں کر رہا تھا۔ تراشا ہوا چہرہ، سرد اور گہری آنکھیں — جن میں دنیا سے فاصلہ صاف جھلکتا تھا۔

وہ خوشامدی چہروں پر سرسری سی نظر ڈال کر بس شائستگی سے سر ہلا دیتا، پھر اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا اور وہ تمام مہمانوں کو باہر نکال دیتے۔

جب سے وہ دو دن پہلے سینٹرولِس واپس آیا تھا، آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔

افواہ یہ تھی کہ میرک کاردار جہاز کے حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ کاردار خاندان کے اندر اقتدار کی جنگ بھڑک اٹھی تھی، اور ہر شخص وارث بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔
مگر نہ صرف میرک زندہ تھا، بلکہ وہ واپس بھی آ چکا تھا۔

“ماسٹر…” رابرٹ نے قریب آ کر کہا،
“آپ کے دوسرے چچا، مِہران کاردار، کئی بار اپنے آدمی یہاں بھیج چکے ہیں۔”

میرک کی دونوں مٹھیاں لاشعوری طور پر بھینچ گئیں۔

اس کی موت کی خبر پھیلنے سے پہلے سب سے زیادہ بے چین نظر آنے والا یہی دوسرا چچا تھا۔ روز دعائیں، روز دکھاوا — جیسے دنیا کو یقین دلانا ہو کہ وہ اپنے بھتیجے سے بےحد محبت کرتا ہے۔

مگر جتنا بڑا گناہ، اتنی ہی بڑی اداکاری۔

میرک سب سمجھتا تھا۔ یہ سب اس کے دادا کے سامنے کیا جا رہا تھا۔

“انہوں نے کل رات سپلینڈر ڈائنیسٹی میں آپ کے لیے ویلکم ڈنر بھی رکھا ہے۔” رابرٹ نے مسکرا کر کہا۔
“یہ خبر بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ دعوت دراصل آپ کے لیے دلہن ڈھونڈنے کے لیے ہے۔ سینٹرولِس ہی نہیں، باہر سے بھی لڑکیاں آئیں گی۔”

میرک نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔
“میرے چچا میری شادی کے معاملے میں بہت محنتی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے وہ یونیورسٹی کے زمانے سے ہی میرے لیے لڑکیاں چُن رہے ہیں۔”

برسوں میں دس سے زیادہ عورتیں اس کے سامنے لائی گئیں۔ ہر ایک کسی نہ کسی حکم کی پابند تھی۔
میرک نے سب کا کھیل پہچان لیا تھا اور انہیں سینٹرولِس سے باہر نکال دیا تھا۔

“زارِم اور فرزان واپس آ گئے؟” میرک نے بالکونی میں پودوں کو چھوتے ہوئے پوچھا۔

“جی۔” رابرٹ نے سر ہلایا۔
“کل کی دعوت میں دونوں موجود ہوں گے۔”

“اچھی بات ہے۔”
“خاص طور پر زارِم پر نظر رکھنا۔ زیادہ پی لے تو فضول بولنے لگتا ہے۔”

یہ کہہ کر میرک اوپر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

سیڑھیاں آج حد سے زیادہ لمبی محسوس ہو رہی تھیں۔ جیسے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہ ہو۔

کمرے میں پہنچ کر وہ بستر پر بیٹھ گیا، ہتھیلی پیشانی پر رکھ لی۔
اسے جانگاساس میں کرائے کا وہ چھوٹا سا گھر یاد آ گیا۔

اور بالکونی میں لگے آئرس کے پھول…
نیسا دھوپ میں بیٹھ کر مسکراتی، سورج کی روشنی اس کے چہرے کو اور نکھار دیتی۔

میرک الماری تک گیا، ایک بیلٹ نکالی اور دیر تک ہاتھوں میں تھامے رکھا۔

یہ وہ بیلٹ تھی جو نیسا نے اس کے لیے لی تھی۔
اس کے پاس تب صرف چار سو ڈالر تھے، مگر اس نے بلا جھجک رقم بھیج دی تھی۔

“بیوی کو شوہر کے لیے بیلٹ لینی چاہیے۔”
“یہ آپ کو میرے ساتھ باندھنے کے لیے ہوتی ہے… مضبوط ہو تو ہمیشہ کے لیے بندھے رہیں گے۔”

میرک کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ آ گئی۔

اس کی الماری میں مہنگے برانڈز کی کمی نہیں تھی، مگر وہ بیلٹ وہ کبھی پہن نہیں سکا۔
اس پر ہلکی سی خراش کا خیال بھی اسے تکلیف دیتا تھا۔

اس نے گہرا سانس لیا، جانگاساس والی سادہ ٹی شرٹ اور جین پہن لی۔
آئینے میں خود کو دیکھ کر پہلی بار اسے سکون محسوس ہوا۔

یہی وہ میرک تھا —
وہ ایہام زُمیر،
وہ مسٹر زیڈ
جو صرف نیسا کا تھا۔