Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 34

نیسا رامے نے اولیور جونز کو میٹنگ روم تک چھوڑا۔

دروازے کے پاس جمع لوگ چپکے چپکے خوش ہو رہے تھے۔
“مس کائرہ تو چاہتی تھیں کہ مسٹر جونز کہہ دیں انگوٹھی سبز شیشے کی ہے،” کسی نے سرگوشی کی۔
“کسے معلوم تھا کہ اصل زمرد نکل آئے گا؟ اوپر سے کلائنٹ بھی ہاتھ آ گیا!”
“یعنی ڈبل نقصان؟”
“ہاہ! سستا سوچا، مہنگا پڑ گیا!”
ہنسی دبانے کی کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔

کائرہ مالویک وہیں جمی کھڑی رہی۔ ذہن خالی تھا، غصّے سے جسم لرز رہا تھا۔ وہ تیزی سے بڑھی اور زور سے دروازہ پٹخ دیا—دھماکے دار آواز گونجی۔

دروازے پر جمع لوگ منتشر ہو گئے، مگر قہقہوں کی گونج پورے آفس میں باقی رہی۔ اس کی اکڑ انہیں پہلے ہی ناگوار تھی؛ ماموں بڑے شیئرہولڈر تھے اس لیے سب برداشت کر لیتے تھے۔ آج اسے پٹتے دیکھ کر سب دل ہی دل میں خوش تھے۔

اولیور کو کمپنی کے داخلی دروازے تک مسکراتے ہوئے چھوڑ کر، الوداع کہنے کے بعد نیسا نے نرمی سے اپنی انگلی کی انگوٹھی کو چھوا۔

کیا واقعی یہ زمرد ہے؟

وہ مسکرا اٹھی۔ گالوں پر ننھے سے گڑھے ایسے اُبھر آئے جیسے دنیا کی ساری مٹھاس وہیں سمٹ آئی ہو۔

سوچنے پر لگا کہ ایہام زُمیر سے شادی کے بعد قسمت واقعی سنورتی جا رہی تھی۔ سیلز بڑھ رہی تھیں، اور ہر بحران میں وہ کہیں نہ کہیں مدد کو آ جاتا تھا۔
فال دیکھنے والے نے کہا تھا وہ اپنے شوہر کے لیے خوش بختی لائے گی—
ہاہ! لگتا تھا خوش بختی تو ایہام اپنی بیوی کے لیے لایا ہے!

اس نے اطمینان کی ایک لمبی سانس لی۔ چھٹی ہونے والی تھی، سو اس نے سوچا آج ایہام کے لیے میٹ بالز بنائے گی۔

مگر پلٹتے ہی کائرہ کی خون آلود آنکھیں سامنے آ گئیں۔

“مس کائرہ مالویک،” نیسا نے بےتاثّر سلام کیا۔

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پیچھے سے کائرہ کی زہریلی طنز سنائی دی۔
“ہاہ، زمرد! کہیں سے چرا تو نہیں لائی؟”

نیسا نے جھٹ سر گھمایا۔ “کیا کہا تم نے؟”

“میں کہہ رہی ہوں، جو آدمی جیل جا چکا ہو اُس نے کون سی گھٹیا حرکت نہیں کی ہو گی؟” کائرہ نے زہر اُگلا۔
“کمال ہے تم دونوں میں—ایک چیزیں چراتا ہے، دوسری دل! واقعی آسمانی جوڑی ہو!”

نیسا نے ہونٹ بھینچ لیے، رنگ فق ہو گیا۔

کائرہ نے حقارت سے ہنکارا اور جان بوجھ کر اوپر دیکھا۔ نگرانی کیمرے پر سرخ بتی جل رہی تھی—ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔
وہ ہوشیار تھی۔ ہر بار نیسا کو بھڑکانے کے لیے کیمروں والی جگہ ہی چنتی۔ یوں وہ جتنا مرضی حد پار کرے، نیسا عقل رکھے تو ہاتھ نہیں اٹھائے گی۔
ایک تھپڑ پڑا تو نوکری گئی!

“میری پیاری جونیئر،” کائرہ نے انگوٹھی کو گھورا۔
“غریب ہونا شرم کی بات نہیں، مگر چوری بہت بڑی بات ہے! تم تو بھلی مانس ہو—ایسے آدمی سے شادی کیوں کی؟
آہ، میں جانتی ہوں… جو آدمی برسوں جیل میں رہا—”

نیسا نے گہری سانس لی۔ اس بار اس نے طعنہ سہنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس نے ایک نظر کائرہ پر ڈال کر نرم لہجے میں کہا،
“سینیئر، کیا ہم سکون سے بات کر سکتے ہیں؟”

نیسا کی عاجزی دیکھ کر کائرہ کا غصّہ کچھ ٹھنڈا پڑا۔
’لگتا ہے ہتھیار ڈال رہی ہے۔ کم از کم حد پہچانتی ہے۔‘

“سینیئر،” نیسا نے نرمی سے جاری رکھا،
“مسٹر جونز کا بزنس آپ رکھیں۔ میں نہیں لوں گی۔ ڈیل کلوز ہونے پر پوری کمیشن اور کریڈٹ آپ کا—کیا یہ انتظام آپ کو منظور ہے؟”

کائرہ نے تمسخر سے ہنسا۔ “اپنی اوقات پہچان لی، ٹھیک ہے!”

“کیا ہم کہیں اور بات کر لیں؟ یہاں لوگ زیادہ ہیں—کچھ باتیں یہاں نہیں ہو سکتیں۔”

کائرہ مان گئی۔ وہ دونوں آفس کی پچھلی سمت ایک ویران جگہ پر پہنچیں۔ وہاں چھوٹا سا جھنڈ تھا—راستہ سنسان، کوئی آتا جاتا نہیں۔ سب سے اہم بات: وہاں کیمرے نہیں تھے۔ نیسا نے ابتدا ہی سے اس ‘مناسب جگہ’ کو دیکھ لیا تھا۔

“اب اُگل دو!” کائرہ بدستور متکبر تھی۔ “مجھے جلدی گھر جانا ہے!”

نیسا نے سر جھکایا، خاموش رہی۔ کائرہ نے فضا کی اجنبیت محسوس کی۔ وہ ابھی دوبارہ جھڑکنے ہی والی تھی کہ—
چھپاک!
ایک زوردار تھپڑ پڑا، اور فوراً ہی گال میں جلتی ہوئی تپش دوڑ گئی!

کائرہ ششدر رہ گئی۔ اسی لمحے نیسا نے پوری قوت سے دوسرا تھپڑ بھی جڑ دیا!

کائرہ لڑکھڑا کر زمین پر جا گری۔

“ک—کیا کر رہی ہو؟” اس نے سوجتے گالوں کو پکڑ کر خوف سے دیکھا۔

نیسا سرد نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔ اس کی معمول کی نرمی غائب تھی—یوں لگتا تھا جیسے اس نے زرہ پہن لی ہو۔

اس نے جھپٹ کر کائرہ کے کالر سے پکڑا اور اسے کھڑا کیا۔ تیسرا تھپڑ مارنے کو ہاتھ اٹھایا تو کائرہ چیخ اٹھی، آنکھیں بند کر لیں اور سر ڈھانپ لیا۔ نیسا کا ہاتھ ہوا میں ٹھہر گیا۔

“پہلا تھپڑ—میری تذلیل پر!
دوسرا تھپڑ—میرے شوہر کی تذلیل پر!
تیسرا تھپڑ—”

“نیسا، اگر تم نے مجھے دوبارہ مارا تو میں—”

نیسا نے چیخ مکمل ہونے سے پہلے تیسرا زور دار تھپڑ جڑ دیا۔

“تیسرا تھپڑ—تمہارے لیے تنبیہ ہے!” نیسا نے ہر لفظ واضح ادا کیا۔
“اگر میرے شوہر پر دوبارہ زبان درازی کی تو اس سے بھی بدتر انجام ہو گا! یہ مت سمجھنا کہ میں دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھاؤں گی۔ اس بار میں نے تمہاری عزّت بچانے کو سب کے سامنے نہیں مارا۔ اگر پھر بھونکیں، تو سب کو تمہارے سوجے ہوئے گال دکھا دوں گی!
بدترین صورت میں میں نوکری چھوڑ دوں گی۔ دنیا بھر کو بتا دینا کہ نیسا رامے نے تمہیں مارا—میں ذمہ داری قبول کروں گی۔ مگر اگر مجھے مزید اکسایا، تو نتائج تم بھگتو گی!”