Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 94 Tea Was Never the Problem


بالکل درست! رامے گروپ اس انڈسٹری کا بہترین ادارہ ہے۔ ہماری کمپنی تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں آپ کی کامیابی میں حصہ دار بننے کا موقع ملا!”
زارمہ رامے نے مسکراتے ہوئے سب کی طرف دیکھا۔
“ایسی بات نہیں، آپ لوگ حد سے زیادہ مہربان ہیں۔ میرے والد نے مجھے یہاں بھیجنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ اشتراک دراصل میرے لیے ایک تربیت ہے۔ آخرکار مستقبل میں مجھے ہی خاندانی کاروبار سنبھالنا ہے۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو پیشگی معذرت!”
پورے میٹنگ روم میں خاموشی چھا گئی۔
نیسا رامے نے سب کی نظریں محسوس کیں اور دل ہی دل میں طنزیہ مسکراہٹ دبالی۔
زارمہ کی باتوں کا مطلب بالکل واضح تھا—
وہ سب کو یہ باور کرانا چاہ رہی تھی کہ رامے گروپ کی وارث وہی ہے، اور نیسا جیسی ناجائز اولاد اس دائرے سے باہر ہے۔
اگر واقعی ایسا ہوا تو کمپنی میں نیسا کے لیے حالات مشکل ہو سکتے تھے۔
یہ لوگ عہدے اور عزت سماجی حیثیت دیکھ کر دیتے ہیں۔
اگر رامے خاندان کی پشت پناہی ختم ہو گئی، تو عزت بھی ختم ہو جائے گی۔
نیسا نے گہرا سانس لیا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ زارمہ کی طرف دیکھا۔
“آپ سے غلطی کیسے ہو سکتی ہے؟ آپ تو بچپن سے ہی ذہین اور محنتی رہی ہیں۔ یہ اشتراک یقیناً کامیاب رہے گا!”
“ہا… تعریف کا شکریہ!”
“میں صرف سچ کہہ رہی ہوں۔ آپ رامے گروپ کو بخوبی سنبھال سکتی ہیں۔ ویسے مجھے یاد ہے کہ والد نے ایک انٹرویو میں بڑے فخر سے کہا تھا کہ وہ بڑھاپے تک کام کریں گے، اور ہمیشہ کمپنی کے صدر رہیں گے!”
نیسا کی مسکراہٹ ہلکی مگر گہری تھی۔
“لگتا ہے اب والد صاحب عمر کے اس حصے میں آ گئے ہیں کہ پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔ واقعی، وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں… ورنہ کاروبار آپ کے حوالے کیوں کرتے؟”
“تم—”
زارمہ کا چہرہ بدل گیا۔
سب جانتے تھے کہ مرادالدین طاقت اور اختیار کے بے حد شوقین ہیں۔
رامے گروپ جیسا بڑا ادارہ ان کے لیے طاقت کی علامت تھا، اور وہ طاقت کھونا سب سے زیادہ ناپسند کرتے تھے۔
اگر مرادالدین کو زارمہ کی یہ بات سننے کو مل جاتی…
زارمہ نے ہونٹ کاٹ کر غصے سے نیسا کو گھورا۔
نیسا پرسکون انداز میں کھڑی ہو گئی۔
“ہم دفتر میں ہیں، بہتر ہے خاندانی معاملات پر بات نہ کریں۔”
اس نے فائلیں سب میں تقسیم کرتے ہوئے کہا:
“یہ وہ منصوبہ ہے جو ہماری پلاننگ ٹیم نے پچھلے چند دن اوورٹائم کر کے تیار کیا ہے۔ براہِ کرم دیکھ لیجیے۔ اگر کسی ترمیم کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیں، میں پلاننگ ڈیپارٹمنٹ سے بات کر لوں گی۔”
پھر نیسا نے سکون سے زارمہ کی طرف دیکھا۔
“مس رامے، یہ نیا پروپوزل فارمیٹ ہے۔ مجھے یقین ہے آپ اسے سمجھ لیں گی؟”
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے!”
“بالکل، معذرت۔”
نیسا نے ایک ایک لفظ واضح ادا کیا۔
“آخر آپ رامے گروپ کی وارث ہیں۔ بزنس میں آپ کی قابلیت یقیناً شاندار ہے۔ ظاہر ہے آپ اس پروپوزل کو بخوبی سمجھ سکتی ہیں!”
“نیسا!”
زارمہ ذلت اور غصے سے بھر گئی۔
نیسا نے جان بوجھ کر لفظ وارث پر زور دیا تھا۔
زارمہ کا چہرہ غصے سے تپ رہا تھا مگر وہ سب کے سامنے خود کو قابو میں رکھنے پر مجبور تھی۔
نیسا کو وہ حالت بیک وقت مضحکہ خیز اور قابلِ ترس لگی۔
حقیقت یہ تھی کہ نیسا کو رامے خاندان کی کسی چیز کی خواہش ہی نہیں تھی۔
وہ کبھی وراثت کی جنگ میں شامل ہونا نہیں چاہتی تھی۔
مگر زارمہ کی دشمنی حد سے بڑھ چکی تھی۔
نیسا خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گئی۔
ڈیوڈ نے ماحول سنبھالنے کے لیے میٹنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی—
مگر اسی لمحے زارمہ کی ٹھنڈی آواز گونجی:
“اتنی باتوں کے بعد مجھے پیاس لگ گئی ہے!
کیا آپ کی کمپنی اپنے مہمان کو ایک کپ چائے بھی نہیں پلا سکتی؟”
یہ سنتے ہی مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈوین ایڈلر نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔
اسی لمحے زارمہ رامے نے ہونٹوں کے کنارے سرد سی مسکراہٹ لیے نیسا رامے کی طرف دیکھا۔
“مجھے یاد ہے، مس رامے، آپ دوسروں کی خدمت اور خاطر تواضع میں خاصی ماہر ہیں، ہے نا؟ تو کیا آپ مجھ پر یہ احسان کریں گی کہ میرے لیے ایک کپ چائے لے آئیں؟”
کمرے میں موجود سب لوگ پلٹ کر نیسا کی طرف دیکھنے لگے۔
صاف ظاہر تھا کہ
جائز اور ناجائز اولاد کے درمیان یہ تصادم کبھی ختم ہونے والا نہیں تھا۔
نیسا خاموشی سے کھڑی ہوئی، ایک لمحہ زارمہ کو دیکھا، اور بغیر کسی تاثر کے پینٹری کی طرف چل دی۔
ڈیوڈ کی پلکیں بے چین ہو رہی تھیں۔
اسے ٹھنڈا پسینہ آ گیا جب اس کے ذہن میں وہ بات آئی کہ کسی نے زارم اور فرزان کو دونوں کمپنیوں کے انضمام کا مشورہ دیا تھا۔
وہ نیسا کو روکنے کے لیے اٹھنے ہی والا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک اور خیال آ گیا۔
“شاید یہ سب محض اتفاق ہو؟ شاید دونوں کمپنیوں کا پہلے ہی انضمام کا ارادہ ہو… اور نیسا کا معاملہ بس اسی وقت سامنے آ گیا ہو؟”
بہرحال، نیسا کا پس منظر ایک معمہ تھا،
مگر یہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ زارمہ رامے کس خاندان کی نمائندہ ہے۔
وہ نیسا کے لیے زارمہ کو ناراض نہیں کر سکتا تھا—
اور نہ ہی کرنا چاہتا تھا۔
یہ سودہ گھاٹے کا تھا۔
ڈیوڈ واپس اپنی نشست پر بیٹھ گیا، کرسی سیدھی کی، اور باقی سب کی طرح خاموش رہا۔
کچھ ہی دیر میں نیسا چائے کی ٹرے لیے واپس آ گئی۔
اس نے سب کے لیے الگ الگ کپ تیار کیے تھے، اور کمرے میں خوشگوار خوشبو پھیل گئی۔
جب اس نے زارمہ کے سامنے کپ رکھا تو زارمہ نے بس ایک نظر ڈالی۔
اس نے چائے پی نہیں، بلکہ سونگھ کر بھنویں چڑھا لیں۔
“یہ چائے…”
باقی سب نے بھی اپنے کپ میز پر رکھ دیے اور خاموشی سے زارمہ کو دیکھنے لگے۔
زارمہ نے سرد سانس بھری۔
“رنگ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔ تم نے کپ دھویا بھی تھا یا نہیں؟
مس رامے، تم اتنی غیر صفائی پسند کیسے ہو سکتی ہو؟ تم ایک ڈائریکٹر ہو—
یقین نہیں آتا کہ تم اتنا سادہ کام بھی درست طریقے سے نہیں کر سکتیں!”
اس نے بازو سینے پر باندھ لیے۔
“آج تم خوش قسمت ہو کہ میری خدمت کر رہی ہو۔ اگر کوئی اور ہوتا تو تم سب کے سامنے مذاق بن چکی ہوتیں۔
مس رامے، یہ مت بھولو کہ تم کلائنٹ کے سامنے ہماری کمپنی کی نمائندگی کر رہی ہو۔
میں امید کرتی ہوں کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی، سمجھی؟”
نیسا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
“جی ہاں، میں جانتی ہوں کہ میں اپنی کمپنی کی نمائندہ ہوں—
اسی لیے میں نے آپ کو بہترین معیار کی چائے پیش کی ہے۔”
“یہ تمہارے نزدیک بہترین چائے ہے؟”
“یہ Harley & Sons کی چائے ہے۔”
نیسا ہلکا سا مسکرائی۔
“یہ ایک معروف ٹی برانڈ ہے۔ کیا آپ نے کبھی نہیں پی؟”
زارمہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
باقی لوگوں نے کپ کے پیچھے اپنی مسکراہٹیں چھپا لیں۔
ذلت محسوس کرتے ہوئے زارمہ جھٹکے سے کھڑی ہو گئی اور نیسا کو گھورنے لگی۔
“تو کیا؟! میرے والد مجھے جو چائے دیتے ہیں وہ اس سے کہیں بہتر ہوتی ہے!
مجھ سے اس گھٹیا چائے کے ذریعے مذاق مت کرو!
میں نے اس نام کا برانڈ کبھی سنا ہی نہیں!”
“مس زارمہ، آپ غلط کہہ رہی ہیں۔”
ڈوین نے خشک سی ہنسی کے ساتھ کہا۔
“ہم اپنے مہمانوں کی تواضع ہمیشہ Harley & Sons کی چائے سے ہی کرتے ہیں۔
میں نے سنا ہے کہ سینٹرولِس کے کاردار خاندان بھی اسی برانڈ کو پسند کرتے ہیں—
اور وہ اس کے بڑے گاہکوں میں سے ہیں۔”
“جی ہاں!”
ایک اور شخص بول اٹھا۔
“کیا آپ واقعی اس برانڈ سے ناواقف ہیں، مس زارمہ؟”
“تم—!”
زارمہ نے دانت بھینچ لیے۔
غصے سے اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
نیسا کی ایک سرسری نظر نے اس کی تذلیل کو اور بھی گہرا کر دیا۔
غصے میں آ کر زارمہ نے چائے کا کپ اٹھایا اور نیسا پر اچھالنے لگی—
مگر نیسا پہلے ہی اس حرکت کی توقع کر چکی تھی۔
وہ پھرتی سے ایک طرف ہٹ گئی۔
کھولتی ہوئی چائے دیوار پر جا گری،
اور کپ زمین پر گر کر چکنا چور ہو گیا۔
میٹنگ روم میں سناٹا چھا گیا۔
سب لوگ حیرت سے زارمہ کو دیکھنے لگے۔
“مس زارمہ، آپ—”
دونوں ڈائریکٹرز کے چہرے اتر گئے۔
اگر انہوں نے اس عورت کے ساتھ کام کیا،
تو مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
نیسا رامے خاموشی سے آگے بڑھی اور زارمہ رامے کا بازو تھام لیا۔
زارمہ اس پر چیخنے ہی والی تھی کہ نیسا کی تیز نگاہوں نے اس کی آواز گلا ہی میں دبا دی۔
نیسا شاذ و نادر ہی اس قدر سخت لہجہ اختیار کرتی تھی، اور اب وہ وہی نرم دل، ہر بات سہہ لینے والی لڑکی نہیں رہی تھی۔
زارمہ کا دل ایک لمحے کو دھک سے رہ گیا۔ اس کے ہونٹ تھرتھرائے، مگر وہ ایک لفظ کہنے کی بھی ہمت نہ کر سکی۔
لوگ کہتے ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے پر اثر ڈالتے ہیں۔
کیا یہ ممکن تھا کہ ایہام زُمیر سے شادی کے بعد نیسا نے بھی اپنی نرمی چھوڑ دی ہو اور اس کی طرح بے رحم ہو گئی ہو؟
“تم کیا کرنا چاہتی ہو؟”
نیسا نے آواز دھیمی رکھی، مگر اس کی آنکھوں میں خطرناک سنجیدگی تھی۔ وہ زارمہ کو گھورتی ہوئی بولی:
“باجی، میں کمپنی کی نمائندگی کر رہی ہوں، اور تم ہمارے والد اور رامے خاندان کی نمائندہ ہو۔
کیا تم اس طرح غیر ذمہ دارانہ حرکت کر کے ابو کی بے عزتی کرنا چاہتی ہو؟”
زارمہ حیرت سے نیسا کو دیکھتی رہ گئی اور اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔
“کیا تمہیں اندازہ ہے اگر وہ چائے کا کپ ابھی مجھ پر لگ جاتا تو اس کے کیا نتائج نکلتے؟
کمپنی میں اتنے لوگ ہیں—کوئی نہ کوئی تو شہرت کے لیے ویڈیو باہر ڈال دیتا۔
پارٹی اے یعنی رامے خاندان، پارٹی بی کے اسٹاف پر بلا وجہ تشدد کرے—
یہ تو اخبار کی بہترین ہیڈ لائن بن سکتی تھی۔
“باجی، ابو اپنی عزت کو ہر چیز سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
ذرا سوچو، اگر یہ خبر ان تک پہنچتی تو وہ تمہارے ساتھ کیا کرتے؟”
زارمہ کا چہرہ سرخ ہو گیا، مگر اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکل سکا۔
نیسا نے سرد سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا بازو چھوڑ دیا۔
“میں تمہیں ایک مشورہ دیتی ہوں۔ جب کام کی دنیا میں قدم رکھ لیا ہے تو اپنے الفاظ اور رویے کا خیال رکھو۔
آخرکار، میں بھی رامے خاندان کا حصہ ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ تمہاری وجہ سے میرا نام خراب ہو۔
“لگتا ہے مس زارمہ کو یہ چائے پسند نہیں آئی۔”
نیسا نے آواز بلند کی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“میں آپ کے لیے دوسری چائے لے آتی ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ نہایت وقار سے میٹنگ روم سے باہر نکل گئی۔
ہاہ! جب اسے اچھی چائے کی قدر ہی نہیں، تو سادہ پانی ہی ٹھیک ہے!
یہ خیال آتے ہی نیسا مسکرا دی۔
اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی Harley & Sons کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی۔
یہ چائے اسے پہلے ایہام زُمیر نے بنا کر دی تھی۔
چائے بنانے کا طریقہ بھی اسی نے سکھایا تھا۔
اس وقت اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا، کیونکہ وہ چائے کی شوقین نہیں تھی۔
مگر اسے یہ بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سینٹرولِس کے کاردار خاندان کو یہ چائے اتنی پسند ہے—اور وہ اتنی مہنگی بھی ہے۔
ایک خیال اس کے ذہن میں چمکا۔
کیا ممکن ہے کہ ایہام زُمیر…؟
مگر فوراً ہی اس نے سر جھٹک دیا۔
یہ خیال بے وقوفانہ تھا۔
آخر یہ بس ایک مہنگی چائے تھی، کوئی نایاب خزانہ نہیں۔
وہ ایہام زُمیر کو کاردار خاندان سے کیسے جوڑ سکتی تھی؟
ایہام زُمیر، ایہام زُمیر تھا—بس۔
زارمہ کے ہنگامے کی وجہ سے وہ میٹنگ جو ڈیڑھ گھنٹے میں ختم ہو جانی چاہیے تھی، پورا دن لے گئی۔
کام کے بعد نیسا تھکی ہاری گھر لوٹی۔
دروازہ بند کرتے ہی وہ صوفے پر گر پڑی اور ایک لمبی سانس لی۔
ایہام زُمیر اس کے لیے پانی کا گلاس لے آیا۔
“شکریہ۔”
“تم کافی تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔”
وہ اس کے پاس بیٹھا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“کہیں طبیعت تو خراب نہیں؟”
نیسا نے سر ہلایا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“شاید گرمی کی وجہ سے تھکن ہے۔
تم بھوکے ہو؟ میں کھانا بنا دوں؟”
“نہیں، رہنے دو۔”
ایہام زُمیر نے اسے واپس صوفے پر بٹھا دیا۔
اسے محسوس ہوا کہ وہ خاصی کمزور ہو گئی ہے—
اس کے ہاتھ تلے اس کی کندھوں کی ہڈیاں تک نمایاں محسوس ہو رہی تھیں۔
ایک خیال اس کے ذہن میں آیا۔
“نیسا، کیوں نہ آج باہر کھانا کھا لیں؟”
وہ پلکیں جھپکا کر بولی،
“کہاں چلیں گے پھر؟”