Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 38 A Different Kind of Strength

نیسا کو اُس رات بمشکل نیند آئی۔
وہ نِیار کے لیے بھی فکرمند تھی اور اپنے خیالی محبت کے حریف کے خیال سے بھی پریشان۔ اس کے علاوہ، یہ پہلا موقع تھا کہ وہ صوفے پر سو رہی تھی، اس لیے کروٹیں بدلتی رہی۔ فجر کے قریب جا کر کہیں جاگتی آنکھوں سے نیند آئی۔
ابھی نیند پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ کچھ آہٹوں سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ آنکھیں کھولیں تو ایہام کپڑے بدل چکا تھا اور باہر جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ نِیار نے بھی اپنا بیگ اٹھا رکھا تھا اور ایہام کے ساتھ کھڑا تھا۔
“تم دونوں کہاں جا رہے ہو؟” نیسا گھبرا کر بولی۔
ایہام کا حلیہ کچھ عجیب تھا۔ وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس تھا، سر پر کیپ تھی، اور ہاتھ میں وہی اسٹک تھی جو وہ گھر میں ورزش کے لیے استعمال کرتا تھا۔
نیسا کا دل بیٹھ سا گیا۔
“کیا… کیا تم لڑنے جا رہے ہو؟”
ایہام نے کچھ کہے بغیر اسے دیکھا۔
نیسا بےچین ہو گئی۔ لگتا تھا وہ واقعی لڑنے ہی جا رہا تھا۔ شادی کے بعد جب بھی ایہام کسی لڑائی میں پڑا، ہر بار اس کا تعلق نیسا سے ہی نکل آیا تھا، اور ہر بار وہ خوفزدہ ہو جاتی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں کچھ بُرا نہ ہو جائے اور وہ دوبارہ…
اس بار وہ اسے تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔
“اس میں مت پڑو،” ایہام نے گہری آواز میں کہا۔ “وہ غنڈے سبق سیکھے بغیر نہیں مانیں گے۔”
“کیا تشدد کو تشدد سے ہی روکا جا سکتا ہے؟” نیسا نے بےچینی سے پوچھا۔
“اور کون سا بہتر طریقہ ہے؟” ایہام کی نگاہ پُرعزم اور بےتاثر تھی۔
“اگر بات چیت سے سب کچھ حل ہو جاتا تو دنیا کہیں زیادہ پُرامن ہوتی۔
فکر مت کرو، مجھے اندازہ ہے کہاں تک مارنا ہے۔ اس کے علاوہ، جب میں اُنہیں پیٹوں گا تو وہ دوبارہ نِیار کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ نِیار میرا کزن بھی ہے، میں اسے یوں تنگ ہوتا نہیں دیکھ سکتا!”
نیسا کا دل بھر آیا۔ اس نے نرمی سے ایہام کا ہاتھ تھام لیا۔ کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر اس نے سر اٹھا کر کہا،
“جلد بازی مت کرو۔ میرے پاس ایک حل ہے۔”
“کیا؟” ایہام نے آنکھیں تنگ کیں۔ “کیا حل؟”
نیسا مسکرائی اور اپنا فون اس کے سامنے لہرا دیا۔
“ہم اس معاملے میں تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دے سکتے، ورنہ مسئلے ختم نہیں ہوں گے۔ میرا طریقہ سارے جھگڑے ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ بس نِیار کو ایک بار اور برداشت کرنا پڑے گا، ٹھیک ہے؟”
ایہام رُکا، پھر آہستہ سے اسٹک نیچے رکھ دی۔ اس نے نیسا کی بات مان لی اور اپنے عام کپڑے پہن لیے۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ دونوں نِیار کو اسکول چھوڑنے گئے۔ نیسا نے نِیار سے کہا کہ وہ آگے چلتا رہے اور وہ دونوں کچھ فاصلے پر اس کے پیچھے رہیں۔
اسکول کے گیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے دیکھا کہ چند سینئر لڑکے نِیار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ اسے گھیر کر کندھے تھپتھپانے لگے اور بُری نیت سے اس کا بیگ کھینچنے لگے۔ نِیار انہیں دیکھتے ہی کانپ گیا اور جب اسے ایک سنسان کونے کی طرف گھسیٹا گیا تو وہ آواز تک نہ نکال سکا۔
نیسا اور ایہام تیزی سے پیچھے گئے اور ایک طرف چھپ گئے۔
غنڈوں نے نِیار کو گھیر کر مارنا شروع کر دیا۔ نِیار درمیان میں سکڑ کر بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد اس کی سسکیاں گونجنے لگیں۔
نیسا نے دل کا درد اور انہیں روکنے کی خواہش دبا لی۔ اس کے بجائے، اس نے بہترین زاویہ منتخب کیا اور فون سے سارا منظر صاف صاف ریکارڈ کر لیا۔ جب اسے کافی فوٹیج مل گئی تو اس کی نگاہ ایہام سے ملی، اور ایہام فوراً آگے بڑھ کر ان لڑکوں کو لات مار کر پیچھے ہٹانے لگا۔
نِیار کے چہرے پر نئی چوٹیں تھیں، مگر سنگین نہیں۔ ایہام نے اسے اپنے پیچھے کر لیا اور سینئر لڑکوں کو سخت نگاہ سے دیکھا۔
“واہ نِیار! تُم… تُم نے مدد بلا لی؟” موٹا لڑکا، جو ان کا لیڈر لگتا تھا، ڈھٹائی سے بولا۔
“بس رُکو! یہیں رُکے رہنا اگر ہمت ہے تو۔ میں اپنے آدمی بلاتا ہوں، دیکھتے ہیں جان جاتی ہے یا نہیں!”
“تمہاری جان لینا شاید ممکن نہ ہو،” ایک نرم مگر واضح آواز گونجی۔
“البتہ تم سب کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ جب تمہاری بدمعاشی کی خبر تمہارے گھروں تک پہنچی تو تمہارے ماں باپ تمہارا کیا حال کریں گے۔”