Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 102 The Girl in the Mist
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 102 The Girl in the Mist
لَیما حَیان کو خود بھی امید تھی کہ شاید وہ غلط ثابت ہو جائے۔
مگر اسے ہائی اسکول کے زمانے سے ہی اپنی یادداشت پر پورا اعتماد تھا۔
وہ جن لوگوں سے ایک بار مل چکی ہو، انہیں کبھی نہیں بھولتی تھی۔
حتیٰ کہ اگر کوئی ماسک پہنے ہو، تب بھی آنکھیں تو نہیں بدل سکتیں۔
جتنا زیادہ لَیما سوچتی گئی، اتنا ہی اس کا شک گہرا ہوتا گیا۔
اس نے آواز دھیمی رکھتے ہوئے کہا،
“بہرحال، تم بس اس پر نظر رکھنا۔
ہمیں ابھی یہ یقین نہیں کہ وہ واقعی کاردار خاندان کی بیٹی ہے یا نہیں۔”
یہ سن کر نیسا رامے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“میرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں ہر وقت محتاط رہنا چاہیے، تاکہ کوئی غلط شخص تمہارا فائدہ نہ اٹھا سکے!”
کچھ لمحوں بعد نیسا نے دھیرے سے کہا،
“لیکن لَیما… اگر وہ واقعی کاردار خاندان کی بیٹی نہیں ہے، تو پھر وہ میرے قریب آنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟
اور پچھلی بار جو خیراتی ڈنر تھا، وہ خاص طور پر اسی کے لیے رکھا گیا تھا۔
زارمہ نے خود اس کی شناخت کی تصدیق کی تھی!
اگر وہ مجھے دھوکا دے بھی دے، تو کیا وہ جینر خاندان اور وہاں موجود سب لوگوں کو بھی بے وقوف بنا سکتی ہے؟”
لَیما ہلکا سا ہنس پڑی۔
“تم اپنی بہن پر کیسے بھروسا کر سکتی ہو؟ وہ تو ایک نمبر کی بے وقوف ہے!
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس نے غلط شخص کو پہچانا ہو۔
کیا وہی نہیں تھی جس نے اُس کھوکھلی کمپنی کے مالک کو اصل بزنس مین سمجھ لیا تھا؟”
نیسا نے ہونٹ بھینچ لیے اور خاموش ہو گئی۔
“میرا یقین کرو، نیسا۔ میں بس تمہاری حفاظت کے بارے میں فکر مند ہوں!”
لَیما نے کہا،
“ہائے… تم میں بہت سی اچھی خوبیاں ہیں، مگر ایک بری عادت ہے — تم حد سے زیادہ بھروسا کرتی ہو۔
یہ مانا کہ زَینوشہ نے پہلے تمہیں بچایا تھا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس احسان کے بدلے اسے اپنی دوست بنا لو۔
مثال کے طور پر… میرک کاردار—”
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر بولی،
“اگرچہ وہ تمہارا شوہر ہے، پھر بھی تمہیں دل و جان سے اس پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
ہم دوسروں کے دل نہیں پڑھ سکتے۔
اگر خدانخواستہ تمہاری شادی میں کچھ ہو گیا تو؟
تم ٹوٹ جاؤ گی۔ پھر تم کیسے جیو گی؟”
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو، لَیما؟”
نیسا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی نظریں اتنی تیز تھیں کہ لَیما کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
نیسا جانتی تھی کہ لَیما صاف گو ہے، مگر اسے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اس کے شوہر پر انگلی اٹھائے گی۔
نیسا نے بھنویں سکیڑ لیں۔
“لَیما، مجھے معلوم ہے کہ تم میری فکر کرتی ہو، مگر ہم زَینوشہ کی بات کر رہے تھے۔
تم اچانک میرک کو درمیان میں کیوں لے آئیں؟
کیا تم کبھی اس کے خلاف اپنی رائے بدل نہیں سکو گی؟”
“نیسا، میں—”
“تم میری سب سے اہم دوست ہو، مگر تمہیں میری شادی اور اس شخص پر انگلی اٹھانے کا حق کس نے دیا جس سے میں محبت کرتی ہوں؟”
نیسا کا سینہ تیزی سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔
وہ بیک وقت اداس بھی تھی اور مایوس بھی۔
چاہے رشتہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، ایک حد ہوتی ہے — اور وہ حد پار ہو چکی تھی۔
لَیما دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا چہرہ بجھ سا گیا۔
مگر اس نے نیسا سے معذرت نہیں کی۔
نیسا نے اسے ایک نظر دیکھا اور اپنے دفتر کی طرف واپس چلی گئی۔
لَیما اسے روکنا چاہتی تھی، مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
اگلے ویک اینڈ پر، لَیما اکیلی ہائیکنگ پر چلی گئی۔
کالج کے زمانے میں وہ اور نیسا ہر ویک اینڈ پر ساتھ ہائیکنگ کیا کرتی تھیں۔
جانگاساس کے تقریباً تمام پہاڑ اور ٹیلے ان کے قدموں کے نشانوں سے بھرے ہوئے تھے۔
مگر آج… وہ اکیلی تھی۔
لَیما کو اس دن کی باتوں پر واقعی پچھتاوا تھا۔
اس کے جذبات اس پر حاوی ہو گئے تھے، اور جب وہ پرسکون ہوئی تو اسے اندازہ ہوا کہ اس نے نیسا کو کتنا دکھ پہنچایا تھا۔
مگر پھر بھی، وہ خود کو معافی مانگنے پر آمادہ نہ کر سکی۔
چاہے کالج ہو یا نوکری، وہ ہمیشہ قیادت کرنے والی رہی تھی۔
اس نے کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا۔
ویسے بھی، اب نیسا کی ایک نئی دوست آ چکی تھی۔
اسے اس کی ضرورت کہاں رہی تھی؟
جتنا زیادہ لَیما یہ سوچتی گئی، اتنا ہی دل بوجھل ہوتا گیا۔
اس نے اپنی رفتار تیز کر دی… اور پھر اور تیز۔
مگر جب وہ پہاڑ کے آدھے راستے پر پہنچی، تو اچانک اس کا توازن بگڑ گیا۔
وہ جھاڑیوں میں دھڑام سے جا گری۔
اگلے ہی لمحے، اس کے ٹخنے سے درد کی ایک تیز لہر پورے جسم میں پھیل گئی۔
لَیما حَیان نے اپنے ٹخنے کو دوبارہ سیدھا کرنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی اس نے ذرا سا بھی حرکت دی، ایک تیز درد اس کی ٹانگ میں بجلی کی طرح دوڑ گیا۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ دوپہر ڈھل چکی تھی اور پہاڑ پر ہلکی ہلکی دھند پھیلنے لگی تھی۔ ہائیکنگ کے تجربے کی وجہ سے اس نے وہ راستہ چُنا تھا جس پر عام طور پر کوئی نہیں جاتا تھا۔
تب اسے اچانک احساس ہوا—
وہ پہاڑ میں پھنس چکی ہے!
اس نے فوراً بیگ سے موبائل فون نکالا، مگر وہاں کوئی سگنل نہیں تھا۔
اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی، مگر درخت کا سہارا لینے کے باوجود وہ بمشکل ہی خود کو سنبھال سکی۔
لَیما گھبرا گئی۔
اس پہاڑ پر اس کے سوا کوئی اور موجود نہیں تھا، اور جیسے جیسے اندھیرا بڑھ رہا تھا، اسے جنگلی جانوروں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
اس کے سر کی کھال سن ہونے لگی، اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
اس نے بار بار فون آن اور آف کیا کہ شاید سگنل مل جائے، مگر اس کی جان بچانے والا واحد فون بھی تیزی سے ڈِسچارج ہو رہا تھا۔
وہ زمین پر گھسٹتے ہوئے آگے بڑھی، پوری کوشش کر رہی تھی کہ کوئی ایسی آواز نہ نکلے جو جنگلی جانوروں کو متوجہ کر لے۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ اسے سمت کا بھی اندازہ نہیں رہا تھا—
ایسی حالت میں وہ اکیلی اس پہاڑ سے کیسے نکل سکتی تھی؟
جب لَیما مکمل طور پر مایوسی کے عالم میں تھی، تب اسے تیز قدموں کی آواز سنائی دی۔
اس نے سانس روک لی۔
اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
قدموں کی آواز قریب آتی گئی… اور پھر بالکل اس کے سامنے آ کر رک گئی۔
لَیما ششدر رہ گئی—
اور پھر جیسے خلا سے ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھا۔
لمبی، پتلی انگلیاں، نمایاں ہڈیاں، صاف اور گوری جلد—
وہ ہاتھ بے حد خوبصورت تھا۔
لَیما نے چونک کر سر اٹھایا اور نرم، شفیق آنکھوں سے نظریں ملیں۔
“یہ… آپ؟”
وہ حیرت سے بولی،
“ڈاکٹر اسٹافورڈ؟”
“کیا بات ہے؟ تم اتنی حیران کیوں لگ رہی ہو؟”
سیٹھ نے ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے کہا اور اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی زخمی دائیں ٹانگ اٹھانے کی کوشش کی۔
“آہ!”
لَیما درد سے چیخ پڑی۔
“ڈاکٹر اسٹافورڈ! بہت درد ہو رہا ہے!”
“پرسکون رہو،”
سیٹھ نے کہا۔ اس نے چند بار اس کے ٹخنے کو چھوا، معائنہ کیا، پھر بولا،
“بس جوڑ اتر گیا ہے، ہڈی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ فکر مت کرو، میں ابھی اسے ٹھیک کر دیتا ہوں، تم ٹھیک ہو جاؤ گی!”
“کیا؟ آپ—”
لَیما کچھ کہہ پاتی، اس سے پہلے ہی سیٹھ نے اس کا ٹخنہ مضبوطی سے پکڑ کر گھما دیا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے ٹخنے میں آگ بھڑک اٹھی ہو۔
اس نے ہونٹ زور سے بھینچ لیے، چہرہ زرد پڑ گیا، ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے اُبھر آئے۔
سیٹھ نے چند بار اور حرکت دی، اور لَیما تمام درد برداشت کرتی رہی۔
اس کے صبر اور برداشت نے سیٹھ کی دلچسپی بڑھا دی۔
“تم واقعی بڑی مضبوط عورت ہو،”
سیٹھ ہنسا۔
“میں نے پہلے جن مریضوں کا علاج کیا ہے، خاص طور پر نوجوان لڑکیاں— ایمرجنسی روم ان کی چیخوں سے بھر جاتا تھا۔”
لَیما کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔
اس نے آہستہ آہستہ دانت کھولے، گہرا سانس لیا، خود کو سنبھالا اور بولی،
“اندھیرا ہو رہا ہے، یہاں جنگلی جانور بہت ہیں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں چیخوں اور بھیڑیوں کو بلا لوں؟”
سیٹھ نے اسے دیکھا… اور مسکرا دیا۔
اس نے ٹخنا ہلانے کی کوشش کی۔
درد اب بھی تھا، مگر پہلے سے کہیں کم۔
سیٹھ نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔
لَیما نے ایک ہاتھ میں اپنی ہائیکنگ اسٹک پکڑی، اور دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو تھام لیا۔
یوں دونوں آہستہ آہستہ پہاڑ سے نیچے اترنے لگے۔
“میرے پاس آلات نہیں ہیں، اس لیے بس ابتدائی علاج کر سکتا ہوں،”
سیٹھ نے کہا۔
“ٹخنا سوجا ہوا ہے، گھر جا کر اس پر برف رکھنا۔
اور چند دن سخت ورزش مت کرنا، ورنہ جوڑ دوبارہ اتر سکتا ہے۔”
“ٹھیک ہے،”
لَیما نے آہستہ سے کہا۔
سیٹھ احتیاط سے درختوں کی شاخیں ہٹاتا رہا، اور اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لیے رہا۔
ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اس کے جسم سے ہلکی سی جراثیم کش دوا کی خوشبو آ رہی تھی۔
لَیما دل ہی دل میں مسکرا دی۔
بچپن میں وہ اس خوشبو سے بہت ڈرتی تھی…
مگر اب—
“تم کس بات پر ہنس رہی ہو؟”
لَیما چونک گئی۔
اس نے نظریں اٹھائیں اور اس کے حسین چہرے کو دیکھا—
اس کی نرم آنکھوں میں جیسے ستارے جھلملا رہے ہوں۔
لَیما حَیان کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے دل پر کسی نے زور سے ضرب لگائی ہو۔
اس عجیب سی گھبراہٹ کا احساس اسے اس دن کے بعد دوبارہ ہوا تھا، جب اس کی اُس شخص سے سخت لڑائی ہوئی تھی۔
اس نے تیوری چڑھائی اور لاشعوری طور پر سیٹھ کو خود سے دور دھکیلنا چاہا، مگر اس نے اس کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“ارے—”
“تم زخمی ہو اور چل نہیں سکتیں،”
سیٹھ نے سادہ لہجے میں کہا۔
“ضد چھوڑ دو۔”
لَیما نے ہونٹ بھینچ لیے اور اس کے صاف ستھرے، لمبے ہاتھ کو دیکھا۔
یہ وہی ہاتھ تھا جو اسکیلپل تھامتا تھا—
خوبصورت، متوازن اور نفیس۔
دوسری طرف، سیٹھ نرم مزاج، خوش شکل اور شائستہ تھا۔
اگر آج وہ نجات دہندہ بن کر نہ آتا، تو شاید وہ اب بھی پہاڑ میں پھنسی ہوتی۔
اسی سوچ کے ساتھ، اس کے ٹخنے سے ہلکا سا درد اُبھرا۔
اس نے تیوری چڑھائی اور لڑکھڑا گئی۔
“خیال سے!”
سیٹھ نے فوراً اس کی کمر تھام لی۔
اس نے ایک بڑا پتھر دیکھا، اس پر جمی گرد صاف کی اور اسے بٹھا دیا۔
“سوجن بڑھ گئی ہے،”
سیٹھ نے اس کی جراب اتار کر اچھی طرح معائنہ کیا۔
“بعد میں میرے کلینک آ جانا، میں نرس سے کہہ دوں گا کہ ٹھیک طرح سے دیکھ لے۔”
“ہمم… شکریہ،”
لَیما کی آواز نرم ہو گئی۔
اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
“آپ نے مجھے کیسے ڈھونڈ لیا؟”
سیٹھ ہلکا سا مسکرایا اور موبائل نکال لیا۔
اب وہ پہاڑ کے دامن کے قریب تھے، سگنل ڈیڑھ بار تھا۔
لَیما چونک گئی۔
اس کی اسکرین پر سب سے اوپر وہی پوسٹ تھی جو اس نے پہاڑ چڑھنے سے پہلے لگائی تھی۔
“میں نے تمہاری تصویر پر جیو ٹیگ دیکھا تھا،”
سیٹھ نے آہستہ سے کہا۔
“اسی لیے تمہارے پیچھے آ گیا۔”
“آ… آپ میرے پیچھے کیوں آئے؟”
“اکیلی لڑکی کے لیے جنگل خطرناک ہوتا ہے۔”
اس کے جواب نے لَیما کے دل میں عجیب سی کھلبلی مچا دی۔
سیٹھ مسکرایا، اس کے سامنے جھکا اور اپنی پیٹھ اس کی طرف کرتے ہوئے بولا،
“چڑھ جاؤ!”
“آپ کیا کر رہے ہیں؟”
“یہ راستہ مشکل ہے، میں تمہیں اُٹھا لیتا ہوں۔”
ایک لمحے کے لیے لَیما کا دل واقعی پگھل گیا۔
اس کی پیٹھ پتلی تھی، مگر محفوظ لگ رہی تھی۔
لیکن…
اُس شخص کے مقابلے میں—
اس نے ہونٹ کاٹ لیا اور فوراً خود کو سنبھال لیا۔
“نہیں، ٹھیک ہے،”
اس نے نرمی سے انکار کیا۔
“میں خود چل سکتی ہوں۔”
“ضد مت کرو!”
“میں ضد نہیں کر رہی!”
اس کی آواز اچانک بلند ہو گئی۔
لہجہ سخت تھا، مگر وہ اس کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
“آپ کی مہربانی کا شکریہ، ڈاکٹر اسٹافورڈ،”
وہ زبردستی مسکرائی۔
“ہم نیچے پہنچنے ہی والے ہیں۔ میں خود چل لوں گی، فکر نہ کریں۔”
“مگر—”
“میں واپس جا کر وہی کروں گی جو آپ نے کہا،”
لَیما نے کہا۔
“برف لگانا، مرہم لگانا، اور وقتاً فوقتاً چیک اپ۔
فکر نہ کریں، میں اکیلے سفر کی عادی ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ مُڑی اور ٹریکنگ اسٹک کے سہارے لڑکھڑاتے ہوئے نیچے اُترنے لگی۔
سیٹھ وہیں کھڑا رہ گیا۔
اس کی آنکھوں میں پیچیدہ جذبات تھے، جب وہ اس کی دبلی مگر ضدی پشت کو دور جاتا دیکھ رہا تھا۔
اسے محبت کا زیادہ تجربہ نہیں تھا۔
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ پہلی ملاقات کے بعد وہ اسے کیوں بھلا نہیں پایا۔
وہ خاص طور پر یہاں آیا تھا تاکہ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار سکے۔
کیا لڑکی کو پانے کی شروعات بے شرط ساتھ سے نہیں ہوتی؟
لیکن ان دونوں کے درمیان جیسے ایک بہت بڑا، اَن دیکھا فاصلہ تھا—
دو الگ دنیاؤں کا۔
پیر کی دوپہر، جب نیسا کینٹین جا رہی تھی، تو اس نے لَیما کو پینٹری کی طرف جاتے دیکھا۔
وہ اس کے پیچھے گئی۔
دروازے پر پہنچتے ہی اسے انسٹنٹ نوڈلز کی بو آئی۔
نیسا نے آہ بھری، اپنا کھانا اس کے سامنے رکھا اور کچھ نہیں کہا۔
لَیما چونک گئی۔
اس نے ڈبہ کھولا—
اندر ایک لذیذ بھنا گوشت اور رائس تھے۔
