Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 74 A Dangerous Arrangement
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 74 A Dangerous Arrangement
“تم… تم سب خاموش ہو جاؤ!”
زارمہ رامے شرمندگی اور غصے سے پاگل ہو چکی تھی۔ وہ پلٹ کر تیزی سے جانے لگی، مگر اونچی ایڑی میں اس کا پاؤں مڑ گیا اور وہ درد سے کراہ اٹھی۔
نیسا رامے اس کے قریب کھڑی تھی اور اس کی خستہ حالت کو ٹھنڈی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
یہ سب اسی کا کیا دھرا تھا۔
نیسا نے ہونٹ بھینچ لیے۔
اسے زارمہ پر کوئی ہمدردی نہیں تھی، بس یہ سوچ کر دل بھاری ہو رہا تھا کہ وہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ باہر والوں کی نظر میں وہ اور زارمہ ایک ہی تھے۔ ایسے خاندان کے ساتھ جڑی ہونا آخر شرمندگی کا باعث ہی بنتا ہے۔
جانے سے پہلے زارمہ نے نیسا کو ایسی نظروں سے گھورا کہ جیسے دانت پیس پیس کر توڑ دے گی۔
اولیور جونز مسکرایا اور مجمع کی طرف دیکھ کر بولا،
“یہ ایک غلط فہمی تھی۔ تقریب جاری رکھیے!”
ڈنر دوبارہ معمول پر آ گیا، مگر نیسا کا دل اب بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ وہ مڑنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے اولیور نے آواز دی۔
“مس رامے، ذرا رکیں۔”
نیسا کو مجبوراً پلٹ کر اس کا سامنا کرنا پڑا۔
اولیور کی نظر نیسا کے ہاتھ میں موجود یشب کی انگوٹھی پر پڑی، پھر اس نے اس کے برابر کھڑے ایہام زُمیر کو دیکھا۔
“کیا آپ ہمارا تعارف نہیں کروائیں گی؟”
نیسا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایہام کو اپنے قریب کھینچا۔
“یہ میرے شوہر ہیں، ایہام زُمیر۔
اور ایہام، یہ مسٹر اولیور جونز ہیں، اسٹار گروپ کے سی ای او، جن کا میں نے آپ سے پہلے ذکر کیا تھا۔”
اولیور نے ہاتھ بڑھایا، مگر ایہام ایک قدم پیچھے ہٹا اور صرف سر ہلا دیا۔
اولیور کی آنکھوں میں ابھرتی ہوئی عجیب سی کیفیت ایہام نے فوراً محسوس کر لی تھی۔
اس کی نگاہیں جیسے کسی چیز کے آر پار دیکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
ایہام کے ہاتھ لاشعوری طور پر پیچھے مٹھی بن گئے۔ اس کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ وہ چوکنا ہو چکا ہے۔
اولیور کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا۔
ایہام کا مصافحہ نہ کرنا اس کے لیے غیر متوقع تھا۔
وہ خشک سی ہنسی ہنسا اور جھینپ چھپانے کے لیے ہاتھ بالوں پر پھیر لیا۔
نیسا ہنستے ہوئے بولی،
“ایہام، پچھلی بار کارین مجھے نیچا دکھانا چاہتی تھی۔ اگر مسٹر جونز اس انگوٹھی کو اصلی نہ پہچانتے اور بات کو بڑھا چڑھا کر نہ کہتے تو شاید وہ کامیاب ہو جاتی!”
“کوئی بات نہیں،”
اولیور مسکرایا اور ایک نظر ایہام پر ڈالی۔
“میں قیمتی پتھروں کا شوقین ہوں۔ میں نے حقیقت ہی بیان کی تھی۔
مس رامے کے پاس جو ہے، وہ واقعی ایک نایاب جواہر ہے۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ شادی کی انگوٹھی ہے؟”
وہ معنی خیز انداز میں ایہام کی طرف دیکھنے لگا۔
“مسٹر زُمیر، یہ خوبصورت یشب آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟
میری شادی کو دس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، میں اس سال سالگرہ پر اپنی اہلیہ کے لیے بھی ایسی ہی ایک انگوٹھی لینا چاہتا ہوں۔”
نیسا فوراً کہہ دینا چاہتی تھی کہ یہ ایہام کا خاندانی ورثہ ہے، مگر اس نے محسوس کیا کہ ایہام کا انداز درست نہیں لگ رہا۔
اس کی آنکھوں میں وہی چوکسی تھی جو خطرے سے پہلے کسی جنگلی جانور کی ہوتی ہے۔
اور اولیور کی نگاہوں میں بھی ایک ان کہی سی عجیب بات چھپی ہوئی تھی۔
نیسا نے لمحہ بھر توقف کیا اور مسکرا دی۔
“یہ انگوٹھی میں نے اور میرے شوہر نے خود خریدی تھی۔”
ایہام چونک گیا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی بات کو سنبھال لے گی۔
نیسا نے بات آگے بڑھائی،
“شادی سے پہلے میرے شوہر چاہتے تھے کہ وہ مجھے کوئی زیور دیں، اس لیے ہم نے ہر جگہ دکانیں چھان ماریں۔
بڑی چھوٹی ہر نوادرات اور جیولری شاپ دیکھی، تب جا کر یہ انگوٹھی پسند آئی۔
وہ دکان گرین پائن اسٹریٹ کے قریب ہے۔
مالک ایک بوڑھی خاتون ہیں، اور ان کی دکان کی چیزوں کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔”
اس کی بات بالکل قابلِ یقین تھی۔
گرین پائن اسٹریٹ جانگاساس کی مشہور نوادرات مارکیٹ تھی، جہاں واقعی قیمتی جواہرات مل جایا کرتے تھے۔
اولیور کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
اس کے چہرے پر الجھن اور گہری ہو گئی۔
نیسا نے ایہام کا بازو تھاما اور مسکراتے ہوئے بولی،
“دیکھا ایہام، ہم نے گرین پائن اسٹریٹ جا کر بالکل ٹھیک کیا۔
کس نے سوچا تھا کہ ہمیں اتنا قیمتی جواہر مل جائے گا؟
واقعی سستا سودا پڑ گیا!
