Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 61 Secrets Unmasked
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 61 Secrets Unmasked
نیسا اپنی جگہ پتھر کی طرح جم گئی۔ اس کے پورے بدن میں کپکپی دوڑ رہی تھی۔
کافی دیر بعد اس کے منہ سے بس دو لفظ نکلے، “ناممکن!”
زارمہ کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی۔
نیسا کی نظر تیز تھی، وہ اسے گھور کر بولی، “یہ ہمارا گھر ہے۔ یہ گھر ابو نے امی کو دیا تھا! ہم برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ یہ ہمارا گھر ہے!”
“تمہیں یہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟” زارمہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لپکی۔ وہ تیز، کرخت آواز میں چلّائی، “تمہاری بےحیا ماں ہے کون؟ کیا وہ اس قابل ہے کہ میرے ابو اسے گھر دیں؟
وہ تو بس ترس کھا کر تمہیں یہاں عارضی طور پر رہنے دے رہے تھے! کم از کم تمہاری ماں نے میرے ابو کی خدمت تو کی تھی۔ مگر تم جیسی بدتمیز… تمہارے باپ کا تو پتا ہی نہیں!”
زارمہ نے بےرحمی سے باتیں کرتے ہوئے نِیار کی طرف انگلی اٹھائی، “اور یہ؟ تم سمجھتے ہو کہ یہ کہیں سے ٹپکا ہوا حرام زادہ رامے خاندان کے گھر میں رہنے کا حق رکھتا ہے؟!”
نِیار کا غرور اونچا تھا۔ وہ ہمیشہ اس عجیب رشتے کے داغ سے شرمندہ رہتا تھا۔
زارمہ نے اسی کمزوری پر انگلی رکھ کر اس کے اندر دبی ہوئی آگ بھڑکا دی۔
“تم بکواس کیا کر رہی ہو؟!”
وہ غصے سے اسے گھورنے لگا۔ اس کی مٹھیاں بھنچ گئیں، بازوؤں کی رگیں ابھر آئیں۔ اس نے ہاتھ اٹھایا، جیسے اسے مار دے۔
نیسا کو ڈر ہوا کہ کہیں وہ جذبات میں بہہ نہ جائے، وہ فوراً اٹھ کر اسے روکنے لپکی۔
زارمہ چونک گئی اور چند قدم پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب اسے یقین ہو گیا کہ نیسا اور نِیار اسے چھو بھی نہیں سکتے، تو وہ اور زیادہ زہر اُگلنے لگی، “بتاؤ! میں نے کیا غلط کہا؟ تمہارا پورا خاندان کچرا ہے! تم سب ذلیل ہو!”
“بس کرو، زارمہ!”
“ہاں میں نے کہا ہے، اب کیا کر لو گی؟” زارمہ آگے بڑھ کر نیسا کو دھکا دینے لگی، “اپنے حرام زادے بھائی کے ساتھ دفع ہو جا، کمبخت!”
نیسا نِیار کو بچاتے ہوئے زارمہ کے آگے ڈٹ گئی۔
مگر زارمہ وحشی تھی۔ اس نے نیسا کے بازو پر بےدریغ کئی خراشیں ڈالیں۔ نیسا کی گوری جلد پر خون کی لکیریں اُبھر آئیں۔
درد سے وہ ایک قدم پیچھے ہوئی۔ بےخیالی میں سیڑھی کا کنارا چھوٹ گیا اور وہ نیچے گرنے لگی!
عین اسی لمحے کسی طاقت نے پیچھے سے اسے تھام لیا۔ وہ چونکی، اور مضبوط بانہوں کی گرفت میں سنبھل کر ٹھہر گئی۔
“تم ٹھیک ہو؟” میرک کاردار نے فکرمندی سے پوچھا۔
نیسا کے ہونٹ لرز گئے۔ دل کی گھٹن، غصہ، ہلکی سی گھبراہٹ… بےشمار جذبات اس کی آنکھوں میں اُمڈ آئے۔ اس نے لب بھینچے، کچھ کہہ نہ سکی۔ وہ اس کی گردن سے ایسے لپٹ گئی جیسے وہی اس کا بچاؤ ہو، اور کانپتی آواز میں چیخ اٹھی، “شوہر…!”
میرک نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیرا اور ایک ہلکی سی ہنسی نکلی۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کا چہرہ سخت ہو گیا۔ اس نے وہاں موجود ہر شخص پر ٹھنڈی، کاٹتی نظر ڈالی۔
“یہ کیا ہو رہا ہے؟”
زارمہ کی یہ اس سے پہلی ملاقات تھی۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی—اُف، بچ گئی! میں تو تقریباً اس آوارہ سے شادی کر بیٹھتی!
مگر وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ یہ آدمی لمبا، خوبرو تھا۔ اس کے اندر ایک طاقتور رعب، مردانگی اور وقار بھرا تھا—جیسے کسی پرانے زمانے کا بادشاہ۔
زارمہ نے تھوڑی دیر بعد حقارت سے ناک سکوڑی۔
اچھا ہے تو کیا؟ لڑائی جھگڑے میں جیل جا چکا ہے—اس کے پاس ہے ہی کیا!
“اوہ، تو تم ہی ہو میرک؟” زارمہ کی نگاہ چبھتی ہوئی تھی۔ “نیسا کے نکمّے شوہر؟”
میرک کے چہرے پر سیاہی پھیل گئی۔
“تمہارے آنے سے کچھ نہیں ہوگا۔” زارمہ بولتی چلی گئی۔ “یہ ہمارا خاندانی معاملہ ہے۔ میرے ابو یہ گھر واپس لے رہے ہیں۔ میں آج انہیں یہاں سے نکالنے آئی ہوں!”
“نکالنے؟” میرک نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔ “کس بنیاد پر تم سمجھتی ہو کہ تم ایسا کر سکتی ہو؟”
“اس بنیاد پر کہ میں اپنے باپ کی بیٹی ہوں!” زارمہ نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا۔ “میں رامے خاندان کی بڑی بیٹی ہوں!”
نیسا کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ فوراً آگے بڑھ کر میرک کی قمیص کو پکڑ کر دبک گئی۔
میرک نے سر گھما کر اسے دیکھا۔ اس کی نگاہ نرم مگر فیصلہ کن تھی، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی تھی۔
نیسا ساکت رہ گئی۔ اس کی گھبراہٹ اتنی بڑھ گئی کہ بدن میں رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔
حساس زارمہ نے یہ سب دیکھ لیا۔
“ہاہ… کیا بات ہے؟” اس نے جان بوجھ کر آواز اونچی کر دی۔ “میرک، تم تو سادہ لگتے ہو۔ لگتا ہے تم اپنی بیوی کو جانتے ہی نہیں؟”
“زارمہ!” نیسا اب خود کو روک نہ سکی۔ اس نے اسے قتل کرنے والی نگاہ سے دیکھا۔
“کیا؟ مجھے چپ کرا رہی ہو؟” زارمہ نے فخر سے کہا۔ “تم چھ مہینے سے میری جگہ بن کر پھرتی رہی ہو، میری بہن! کیا تم نہیں چاہتیں کہ تمہارا شوہر یہ سب جانے؟”
“اپنا منہ بند کرو!”
“یہ رامے خاندان کی ناجائز اولاد ہے!” زارمہ اکڑ کر بولی۔ “اس کی ماں بےشرم عورت ہے! اس نے میرے ابو کو پھنسایا، نیسا کو جنم دیا، پھر کسی اور مرد سے ایک اور حرام زادہ بھی پیدا کر لیا! اب وہ دماغی مریضہ ہے، ہسپتال میں بڑبڑاتی رہتی ہے!”
نیسا نے بےبسی میں کانوں پر ہاتھ رکھ لیے، “بس کرو!”
“تمہیں پتا ہے اس نے تم سے شادی کیوں کی؟” زارمہ نے زہر گھولا۔ “جہیز اور پیسوں کے لیے—تاکہ میرے ابو سے رقم نکال کر اپنی ماں کا علاج کروا سکے!”
“زارمہ، تُو…!” نیسا چیخ اٹھی۔
وہ ٹوٹ گئی۔ اس کی آنکھیں سرخ، چہرہ زرد پڑ گیا۔ اس لمحے اسے یوں لگا جیسے اسے مجمع میں ننگا کر دیا گیا ہو۔ جس راز کو وہ بڑی مشکل سے چھپائے ہوئے تھی، زارمہ نے اسے ایک جھٹکے میں چاک کر دیا۔
شرم اور غصہ اس کے اندر آگ کی طرح بھڑکا۔ وہ لپکی اور زارمہ کو دھکا دے دیا۔
زارمہ لڑکھڑا کر تقریباً گری ہی تھی کہ غصے میں اس نے ایک گلدان اٹھا کر نیسا پر دے مارنے کے لیے ہاتھ بلند کیا، “میری طرف ہاتھ بڑھاتی ہے، کمبخت؟!”
مگر گلدان پھینکنے سے پہلے ہی کسی نے اس کی کلائی جکڑ لی۔
ایسا لگا جیسے اس کی ہڈی چٹخ جائے گی۔
“ک… کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو مجھے!”
میرک کاردار کی آنکھیں قاتل تھیں، جیسے وہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔
