Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 88 The Woman He’s Proud Of
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 88 The Woman He’s Proud Of
میرک کاردار کے چہرے پر اعتماد جھلک رہا تھا، اور نیسا رامے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“یہ مت سمجھو کہ نیسا باقی عورتوں جیسی ہے،”
وہ پُر یقین لہجے میں بولا۔
“وہ تمہاری سوچ سے کہیں زیادہ مضبوط اور قابل ہے، اور کسی بھی چیلنج سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اسی لیے میں اسے تماشائیوں کے عین درمیان والی نشست دوں گا، تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ اس کا شوہر دوسروں کو کس طرح پچھاڑتا ہے!”
اس خیال کے آتے ہی میرک کے چہرے پر خوشی چھلکنے لگی۔
وہ کان سے کان تک مسکرا رہا تھا، جیسے پہلے ہی جیت چکا ہو۔
وہ دروازہ کھول کر تیزی سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
زارِم اشہاب کچھ دیر تک اسے جاتے ہوئے خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔
پھر ہوش میں آ کر اس نے رابرٹ اور فرزان سدیدی کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا،
“کیا اس نے آج اپنی دوائی لی ہے؟”
“آخرکار!”
باقی دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔
میرک کے جاتے ہی انہیں اب بناوٹ نہیں کرنی پڑی تھی۔
وہ اپنی اصل حالت میں واپس آ گئے اور زارِم کے ساتھ محفل میں شامل ہو گئے۔
“تم دونوں تو کمال کے اداکار ہو!”
زارِم ہنسا۔
“یہاں آئے ہوئے ہو، مگر ایسے ظاہر کر رہے تھے جیسے دلچسپی ہی نہیں!”
“مجبوری ہے!”
رابرٹ ہنسا۔
“تم نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا؟
اتنا سیاہ تھا کہ مجھے لگا ابھی ہم سب کو قتل ہی نہ کر دے!”
“خیر، چھوڑو!”
زارِم نے جام اٹھایا۔
“چلو ایک جام اس کی کامیابی کے نام—
میچ میں بھی، اور اس کی محبت میں بھی!”
پرائیویٹ روم کے اندر محفل گرم تھی،
مگر باہر ایک مشکوک سا سایہ دبے قدموں حرکت کر رہا تھا۔
وہ ادھر اُدھر دیکھ کر ستون کے پیچھے چھپ گیا اور فون نکال کر دھیمی آواز میں بولا،
“مسٹر جونز… میں نے ابھی میرک کو ایک پرائیویٹ روم سے نکلتے دیکھا ہے۔
لگتا ہے وہ چند دوستوں کے ساتھ پارٹی کر رہا تھا…”
وہ ذرا ہچکچایا۔
چونکہ زارِم اس بار کا وی آئی پی ممبر تھا،
اس کے پرائیویٹ روم میں کسی اور کو داخلے کی اجازت نہیں تھی،
اس لیے اندر کیا بات ہو رہی تھی، کسی کو علم نہ تھا۔
“چھوڑو!”
دوسری طرف سے جھنجھلاہٹ بھری آواز آئی۔
“کیا تم نے ان کی کوئی بات سنی؟”
“نہیں…”
وہ دانت بھینچ کر بولا۔
“لیکن جب میرک جا رہا تھا تو میں نے دھندلا سا سنا…
وہ کسی باکسنگ میچ کی بات کر رہے تھے…”
فون بند ہو گیا۔
کچھ لمحے خاموشی کے بعد،
اولیور جونز نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ
جانگاساس میں ہونے والے تمام باکسنگ مقابلوں کی تفصیل نکالی جائے۔
دوپہر کے وقت نیسا رامے ذہنی صحت کے اسپتال پہنچی۔
نرس نے اسے دیکھ کر مسکرا کر کہا،
“آپ اپنی والدہ سے ملنے آئی ہیں؟”
“جی ہاں،”
نیسا نے نرمی سے جواب دیا۔
“کیا وہ آج کل ٹھیک ہیں؟”
“ان کی جسمانی حالت اچھی ہے،”
نرس نے بتایا۔
“بس بات کم کرتی ہیں۔
اس وقت جاگ رہی ہیں، آپ جا کر مل سکتی ہیں۔”
نرس اسے وارڈ کی طرف لے گئی۔
یہاں کے وارڈز کے دروازے خاص مادّے سے بنے تھے۔
ایک دروازے کے پیچھے لوہے کا دروازہ،
اور ہر وارڈ پر ایک خصوصی نرس تعینات تھی۔
نیسا کو یاد آیا کہ جب اس کی والدہ پہلی بار بیمار ہوئیں تھیں تو وہ کتنی گھبرا گئی تھی۔
آخرکار محلے والوں نے ہی مدد کر کے انہیں یہاں پہنچایا تھا۔
اس وقت جب نیسا نے یہ قید خانے جیسے دروازے دیکھے تھے،
تو اسے لگا تھا جیسے وہ اپنی ماں کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔
وہ بے بسی سے رو پڑی تھی۔
“رِمہ!”
نرس نے دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
وہ ایک گرم تولیہ نچوڑ کر وہیل چیئر پر بیٹھی عورت کے ہاتھ پر رکھتی ہوئی بولی،
“خوش خبری ہے—
آپ کی بیٹی آپ سے ملنے آئی ہے۔”
نیسا نے سامان میز پر رکھا،
اور نرس باہر چلی گئی،
ماں بیٹی کو تنہا چھوڑ کر۔
نیسا نے کنگھی اٹھائی
اور آہستہ آہستہ اپنی ماں کے بال سنوارنے لگی۔
اس کی والدہ کا چہرہ کبھی بے حد نفیس ہوا کرتا تھا،
اور سیاہ گھنے بال اس کی پہچان تھے۔
بیماری کے باوجود وہ آج بھی خوبصورت لگتی تھیں—
شاید اپنی عمر کی کئی عورتوں سے زیادہ۔
نیسا مسکرائی اور بالوں میں کلپ لگا دی۔
“امّی، دیکھیں،”
اس نے آئینہ دیتے ہوئے کہا،
“آپ کو یہ ہیئر اسٹائل پسند آیا؟”
رِمہ کی آنکھوں میں ہلکی سی جنبش آئی۔
وہ آئینے میں خود کو دیکھتی رہیں،
پھر نظریں اٹھا کر نیسا کو دیکھا۔
“تم…
نیسا ہو؟”
