Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance novelr50478 Aroos e Atish Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Aroos e Atish Episode 15
“اتنی خوبصورت عورت کو کوکیز بنانا بھی آتا ہے کیا؟”
چند بدتمیز مرد ایہام زُمیر کے گھر کے دروازے پر جمع ہو گئے تھے اور نیسا رامے کو گھور گھور کر بے ہودہ مسکراہٹیں اچھال رہے تھے۔
آس پاس اور بھی لوگ موجود تھے، مگر یہ غنڈے علاقے میں اپنی بدمعاشی کے لیے مشہور تھے۔ کوئی بھی اپنی جان خطرے میں ڈال کر مدد کرنے کو تیار نہ تھا۔ سب تماشائی بنے کھڑے تھے۔
اگر کسی کو الزام دینا ہوتا تو ایک طرف نیسا رامے کی حد سے زیادہ خوبصورتی تھی، اور دوسری طرف ایہام زُمیر کی لاپرواہی کہ وہ ایسی خوبصورت عورت کو گھر میں اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ یوں جیسے وہ خود دوسروں کو موقع دے رہا ہو کہ فائدہ اٹھائیں۔
نیسا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، چہرہ فق ہو گیا، مگر اس نے خود کو سنبھالنے کی پوری کوشش کی۔
“سنا ہے نئی دلہن کوئی امیر خاندان کی وارث ہے؟”
“تبھی تو! امیر وارث لڑکیاں کبھی کچن میں نہیں جاتیں، انہیں کوکیز بنانی کہاں آتی ہوں گی!”
“خوبصورت، لگتا ہے تم ہمارے مقامی رواج سے واقف نہیں ہو؟”
ان غنڈوں کی نظریں نیسا سے ایک لمحے کو بھی نہیں ہٹ رہی تھیں۔
“یہاں شادی کے بعد عورتوں کو پڑوسیوں کے لیے کوکیز بنا کر لانی پڑتی ہیں۔ تمہیں شادی ہوئے کئی دن ہو گئے، ہمیں تو ابھی تک کچھ ملا ہی نہیں…”
“معاف کیجیے، مجھے اس رواج کا علم نہیں تھا۔”
نیسا نے کانپتی آواز کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
“میں کوکیز بنا کر ضرور لے آؤں گی۔ میرے شوہر بس آنے ہی والے ہیں، براہِ کرم—”
وہ دروازہ بند کرنے ہی والی تھی کہ ایک آدمی نے گھٹنے سے دروازہ روک لیا۔ باقی دو قہقہے لگانے لگے۔ نیسا گھبرا گئی، گرفت ڈھیلی پڑی اور وہ لوگ زبردستی دروازہ توڑ کر اندر گھس آئے۔
ان کی نظریں لالچ اور ہوس سے بھری ہوئی تھیں۔
“واہ! ایہام… یعنی ایہام زُمیر تو عورتوں کے معاملے میں بڑا خوش نصیب نکلا!”
ان کے منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔
نیسا کو دل کی گہرائی سے نفرت محسوس ہوئی۔ اس نے فوراً اپنے دونوں بازو سینے کے آگے لپیٹ لیے اور ہوشیار نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔
“یہ میرا گھر ہے، فوراً نکل جاؤ!”
اس نے آواز بلند کی۔
“میرے شوہر ابھی آنے والے ہیں! تم سب جانتے ہو وہ کیسے ہیں!”
غنڈے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔
“بالکل جانتے ہیں! لڑائی ہوتے ہی ٹوائلٹ بھاگ جانے والا بزدل!”
“خوبصورت، لگتا ہے تم نہیں جانتیں۔ ایہام زُمیر تو پورا ڈرپوک ہے! ہر لڑائی میں پولیس کے ہاتھوں وہی قربانی کا بکرا بنتا ہے!”
“ہمیں تمہاری شادی میں آنا چاہیے تھا۔ اُس وقت ‘مبارکباد’ نہ دے سکے، اب دے دیتے ہیں…”
انہوں نے نیسا کو گھیر لیا، کچھ ہاتھ بڑھنے لگے۔
خوف اور گھن کے باوجود، نیسا کو اچانک وہ منظر یاد آیا جب ایہام زُمیر گھر کے باہر پنچنگ بیگ پر مکّے برساتا تھا۔
اس نے کبھی خود نہیں کیا تھا، صرف دیکھا تھا… مگر جانے کہاں سے ہمت آ گئی۔
اس نے انہی حرکتوں کی نقل کی اور ان غنڈوں کو اپنا پنچنگ بیگ بنا لیا، مکے برسانا شروع کر دیے۔
غنڈے چونک گئے، مگر اس کی مزاحمت نے ان کی گندی سوچ کو اور بھڑکا دیا۔
“اوہو! تیز مرچ ہے!”
نیسا نے گھر کے سامنے رکھا ایک ڈنڈا اٹھا لیا۔ اس وقت وہ واقعی خوفناک لگ رہی تھی۔
“نکل جاؤ! دفع ہو جاؤ یہاں سے!”
“خوبصورت، یہ سب فضول ہے!”
وہ ہنسے۔
“ڈنڈا سنبھالنا نہیں آتا تو خود کو زخمی کر لو گی۔ آؤ، ہم سکھا دیتے ہیں!”
نیسا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ خوف، دہشت، بے بسی… سب احساسات ایک ساتھ اس پر ٹوٹ پڑے، سانس گھٹنے لگا۔
غنڈے اور بے قابو ہو گئے۔ ان میں سے دو نے لڑکی کو گھسیٹ کر اندر کی طرف لے جانا چاہا…
تب اچانک دروازہ زور سے دھماکے کی آواز کے ساتھ کھلا!
وہ کچھ سمجھ پاتے، اس سے پہلے ہی دو زور دار ضربیں ان کے سروں پر پڑ چکی تھیں۔
نیسا ساکت کھڑی دیکھتی رہی۔ چند لمحے پہلے اکڑنے والے مرد اب زمین پر پڑے سر پکڑے کراہ رہے تھے۔
روشنی کے سامنے کھڑا ایہام زُمیر برفیلے تاثرات کے ساتھ انہیں گھور رہا تھا۔ بغیر کچھ کہے بھی وہ حاکمانہ اور خوفناک لگ رہا تھا۔
جیسے ہی نیسا نے اسے دیکھا، ضبط ٹوٹ گیا۔ آنسو بہنے لگے۔ وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔
ایہام زُمیر نے نرمی سے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھا۔
