Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 76 Storm Before the Fall

میرک کاردار کچھ لمحوں کے لیے بالکل خاموش رہ گیا۔
“بیوی… مجھے تو لگا تھا ہم نے مسٹر زیڈ پر بات کرنا بند کر دی ہے؟”

اولیور جونز، مِہران کاردار کے نجی کلب کے باہر انتظار کر رہا تھا۔

یہ کلب اسپلینڈر ماؤنٹین کے دامن میں واقع تھا، نہایت خفیہ جگہ پر۔ چاروں طرف گھنے چوڑے پتوں والے درخت تھے، اور ان کے درمیان سیاہ چشموں اور سوٹ میں ملبوس باڈی گارڈ قطار میں کھڑے تھے، جن کے چہروں پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا۔

کافی دیر بعد آخرکار ایک شخص باہر آیا اور نہایت ادب سے اولیور کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔

مِہران کاردار ابھی ابھی سپا سے فارغ ہوا تھا۔
وہ نرم سے ڈیک چیئر پر نیم دراز تھا، جبکہ ایک شخص اس کے پاس گھٹنے ٹیکے اس کی مالش کر رہا تھا۔

اولیور اندر داخل ہوتے ہی اعلیٰ درجے کے سگار کی خوشبو پہچان گیا۔

“سر… یہ خوشبو… کیا یہ لارُوکس، نیسارس کی ہے؟”

“ناک تیز ہے تمہاری!”
مِہران کاردار نے آنکھ کے کنارے سے اس کی طرف دیکھا اور ٹھوڑی کے اشارے سے کسی کو حکم دیا کہ اولیور کے لیے اسٹول لے آئیں۔

اولیور خوشامدانہ مسکراہٹ کے ساتھ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

“یہاں کیوں آئے ہو؟”
مِہران کاردار کی آنکھیں آدھی بند تھیں۔ وہ سگار کا کش لے رہا تھا، اور اس کا رویہ اولیور کے لیے خاصا تحقیر آمیز تھا۔

یہ محض تکبر نہیں تھا —
وہی شخص تھا جس نے اولیور کو تربیت دی تھی۔ اگر وہ نہ ہوتا، تو اولیور آج اس مقام پر نہ پہنچ پاتا۔

عام حالات میں اولیور جانگاساس میں ہی رہتا، اور شاذونادر ہی سینٹرولِس آتا۔
آج اس کا راتوں رات یہاں پہنچ جانا اس بات کی علامت تھا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔

“سر، میں…”
اولیور نے ہونٹ تر کیے، کچھ ہچکچایا، پھر بولا،
“میں جرأت کر کے پوچھنا چاہتا ہوں… کیا مسٹر زیڈ خوش آمدیدی ڈنر کے بعد سے کاردار خاندان میں ہی مقیم ہیں؟”

مِہران کاردار نے اچانک آنکھیں کھول دیں۔
“یہ سوال کیوں؟”

“بس… تصدیق کرنا چاہ رہا تھا۔”

“بالکل نہیں۔”
مِہران کاردار نے لاپروائی سے کہا۔
“وہ ایک جگہ زیادہ دیر ٹھہرتا ہی نہیں۔ باپ کی سرپرستی ہے، دنیا میں گھومے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا!”

اولیور کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“تو کیا وہ جانگاساس میں ہیں؟”

“فضول باتیں مت کرو!”
مِہران کاردار جھنجھلا گیا۔
“وہ جانگاساس کیا کرے گا؟ تمہاری کمپنی کے لیے خیرات؟
میں نے سنا ہے وہ حال ہی میں چیس لینڈ گیا ہوا ہے۔
اس وقت وہ میلوریان میں اپنے نانا کے گھر ہے۔”

“میلوریان؟”

“ہاں۔”
مِہران کاردار نے سگار کے دو کش لیے۔
“پچھلی بار میں اس سے حساب برابر نہ کر سکا، شاید اسی لیے وہ چھپا بیٹھا ہے۔
وہاں کچھ اثاثوں کا معاملہ ہے، اس لیے میرک کاردار اپنے نانا کے لیے کام کر رہا ہے۔”

اس کے لہجے میں حسد صاف جھلک رہا تھا۔

“کم بخت خوش قسمت ہے… دونوں نانا اس پر جان چھڑکتے ہیں۔
دنیا کی ہر اچھی چیز اسی کے حصے میں آتی ہے!”

اولیور جتنا سنتا گیا، اتنا ہی اس کا شک گہرا ہوتا گیا۔

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ دھیرے سے بولا،
“سر… مجھے لگتا ہے میں نے اسے جانگاساس میں دیکھا ہے…”

مِہران کاردار چونک گیا۔
“کیا کہا تم نے؟”

“یقین سے نہیں کہہ سکتا، سر۔”
اولیور نے وہ فائل دونوں ہاتھوں سے آگے بڑھائی جو اس کے آدمیوں نے تیار کی تھی۔

فائل میں میرک کاردار (بطور: ایہام زُمیر) کی مکمل معلومات تھیں —
شناختی کارڈ کی نقل، ماضی کا ریکارڈ… سب کچھ۔

مِہران کاردار نے تفصیل سے کاغذات دیکھے۔
اس کے اندر شکوک ابھرنے لگے، چہرہ سخت ہوتا گیا۔

لیکن جیسے ہی اس کی نظر اس بات پر پڑی کہ وہ شخص شادی شدہ ہے، اس کا کریمنل ریکارڈ ہے، اور سوائے بیوی نیسا رامے کے اس کا کوئی خاندان نہیں —
اس کی تیوری ڈھیلی پڑ گئی۔

“یہ آدمی میرک کاردار سے بہت مشابہ لگتا ہے…”
مِہران بڑبڑایا۔
“مگر اس کا کوئی خاندان نہیں، جیل جا چکا ہے… یہ بات میل نہیں کھاتی!”

پھر طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولا،
“اور میرک؟ وہ تو مغرور ہے۔ میں نے دس سے زیادہ حسین عورتیں بھیجیں، ایک کو بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔
کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ نیسا رامے… اس کا دل جیت سکتی ہے؟
یہ مضحکہ خیز ہے!”

مِہران کاردار کا موڈ پہلے ہی خراب تھا۔
کاردار خاندان کے سربراہ نے اس کی ذیلی کمپنی چھین لی تھی، وہ خاندان میں مذاق بن چکا تھا۔

اور اولیور آج آ کر شکوک ڈال رہا تھا۔

“اولیور، عقل استعمال کرو!”
وہ جھنجھلا کر بولا۔
“دنیا میں ہم شکل لوگ بہت ہیں۔
کل کسی نے فون کر کے کہا کہ اس نے مجھے موانیائن میں دیکھا ہے!”

(جاری ہے…)