Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 47 A Door That Wouldn’t Open

پچھلے چند دنوں سے اس پراجیکٹ میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔
نیسا اور اینی اشہاب گروپ کے اندر داخل ہونے میں بھی ناکام رہیں۔

اینی مکمل طور پر دل برداشتہ ہو چکی تھی۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھ گئی، جیسے ہار مان چکی ہو۔

سورج آگ برسا رہا تھا۔ گرمی اعصاب پر سوار ہو رہی تھی۔

نیسا مسکراتے ہوئے اس کے لیے پانی کی بوتل لے آئی۔
“چلو کہیں لنچ کر لیتے ہیں،” اس نے نرمی سے کہا، “دوپہر میں پھر کوشش کریں گے۔”

“کوئی فائدہ نہیں، نیسا۔” اینی کی آواز میں مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔
“لگتا ہے فیضان اشراف سچ ہی کہہ رہا تھا۔ سینٹرولِس کی مارکیٹ فتح کرنا آسان نہیں۔ اتنے دن ہو گئے، مسٹر اشہاب تو دور کی بات، ہم کسی معمولی ذمہ دار شخص سے بھی نہیں مل سکے۔

“میرا خیال ہے ہمیں چھوڑ دینا چاہیے…” اینی نے منہ بسور لیا۔
“پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا!”

“ایسی بات مت کہو!” نیسا پُرامید تھی۔
“تم دو سال سے سیلز میں ہو۔ تم جانتی ہو کہ ایک ہی ملاقات میں ڈیل فائنل نہیں ہوتی۔ جیسے ہی ہمیں اپنی پروپوزل پیش کرنے کا ذرا سا بھی موقع ملا، یہ ہمارے لیے بہت بڑی پیش رفت ہوگی!”

“مگر موقع تو ملے!” اینی نے جھنجھلا کر کہا۔

ابھی اینی اپنی بات مکمل ہی کر رہی تھی کہ ایک سیاہ لگژری گاڑی عمارت کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی۔ قریباً دس سیکیورٹی گارڈز فوراً مستعد ہو گئے اور استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔

گاڑی سے ایک نوجوان اترا۔ وہ کسی سیلیبریٹی جیسا دکھائی دیتا تھا۔ اس کے انداز میں بڑے خاندان کا غرور جھلک رہا تھا۔

اینی نے فوراً پہچان لیا کہ وہ زارِم اشہاب ہے۔ اس نے جوش میں نیسا کا بازو تھپتھپایا۔

“یہ مسٹر اشہاب ہیں!” اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“واہ! تصویروں سے بھی زیادہ ہینڈسم ہیں۔ کتنے اسٹائلش اور پُرکشش… لگتا ہے فیضان اشراف اس بارے میں بھی سچ کہہ رہا تھا!”

نیسا نے آنکھیں گھما دیں۔

وہ اینی کی طرح دیوانی نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ موقع ضائع نہیں کیا جا سکتا!

اگر وہ پروپوزل براہِ راست مسٹر اشہاب تک پہنچا دیتی، تو یہ سینکڑوں اپائنٹمنٹس سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا۔

نیسا نے دانت بھینچے اور تیزی سے آگے بڑھی۔

مگر اردگرد کھڑے لمبے چوڑے سیکیورٹی گارڈز نے فوراً راستہ روک لیا۔ وہ ایسی لڑکیوں کے عادی تھے۔ انہیں لگا یہ بھی کوئی فین گرل ہے جو اپنے باس کے پیچھے پڑ گئی ہے، چنانچہ انہوں نے دیوار بنا کر نیسا کو باہر ہی روک لیا۔

“سر، مجھے مسٹر اشہاب سے ایک ضروری بات کرنی ہے—”

“مس، یہاں آنے والا ہر شخص یہی کہتا ہے!”

“ایسا نہیں ہے!” نیسا گھبرا کر سرخ ہو گئی۔
“میرے پاس سیلز پروپوزل ہے۔ یہ مسٹر اشہاب کا زیادہ وقت نہیں لے گا۔ مجھے صرف پانچ منٹ چاہئیں… تین منٹ بھی کافی ہیں۔ اگر وہ دیکھنا نہ چاہیں تو میں زبانی سمجھا دوں گی!”

گارڈز نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔ پوری ہم آہنگی سے انہوں نے نیسا کو دونوں طرف سے پکڑ کر عمارت سے باہر دھکیل دیا۔ ایک ساتھ چھوڑا، اور وہ تقریباً منہ کے بل گر ہی پڑی۔ اینی فوراً لپکی اور اسے سنبھال لیا۔ وہ غصے میں گارڈز سے بحث کرنے لگی۔

“مس، بس کریں!” گارڈز بھی عاجز آ گئے۔
“یہ طریقہ بہت پرانا ہو چکا ہے۔ کوئی نیا بہانہ سوچیں!”

“آج کل سب لڑکیاں امیروں سے شادی کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہیں!” ایک نے مذاق اڑایا۔
“ہاہ! مس، اگر واقعی امیر شوہر چاہیے تو آج رات کاردار خاندان دلہن تلاش کر رہا ہے۔ سپلینڈر ڈائنیسٹی میں دعوت ہے۔ امیر لوگ ہوں گے۔ ہمارا باس بھی آئے گا۔ موقع مت گنوائیں!”

“ارے، کیا یہ اندر جا بھی پائیں گی؟ ہاہاہا…”

نیسا سُن ہو گئی۔ وہ لنگڑاتی ہوئی آگے بڑھی۔
“سر… یہ دعوت کہاں ہو رہی ہے؟”

گارڈز نے اسے بےبسی اور تمسخر بھری نظر سے دیکھا۔

“سپلینڈر ڈائنیسٹی! ہاہ، نیک تمنائیں، لڑکی!”

نیسا نے ان کی حقارت کو نظرانداز کر دیا اور ہوٹل کا نام پوری سنجیدگی سے ذہن میں محفوظ کر لیا۔

اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی پروپوزل کو مضبوطی سے تھاما۔
اس کے خوبصورت چہرے پر وہی پراعتماد اور پُرامید مسکراہٹ واپس آ گئی۔

ادھر، زارِم اشہاب نے پیچھے ہونے والی ہلچل مدھم سی سنی۔ عمارت میں داخل ہونے سے عین پہلے وہ لاشعوری طور پر مڑ کر دیکھ بیٹھا۔

نہ دیکھتا تو بہتر تھا۔

دیکھتے ہی اس کا دماغ خالی ہو گیا، اور وہ وہیں جم سا گیا۔

“ک… کیا ہوا؟”

“لگتا ہے دو خواتین آپ سے ملنا چاہتی تھیں،” اس کے اسسٹنٹ نے دھیمی آواز میں کہا۔
“مگر سیکیورٹی نے انہیں باہر نکال دیا۔”

زارِم کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سرد لہر دوڑ گئی۔ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

اس نے فوراً موبائل نکال کر مسٹر زیڈ کو کال ملائی۔

“مسٹر زیڈ… آپ کی بیوی سینٹرولِس میں ہے۔ مگر مجھے نہیں معلوم وہ یہاں مجھ سے کیوں ملنے آئی تھی…”
“اُم… کیا مجھے ان سے ملنا چاہیے یا نہیں؟”