Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episoode 02)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episoode 02)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
چوکیدار کی پوچھ گیچھ کے بعد اندر کا نظارہ نہایت ہی قابل غور تھا، ایک طرف 2 بڑے کتے باچھیں کھولے کسی بھی لمحے حملے کے لئے تیار بیٹھے تھے جبکہ دوسری طرف نہایت ہی وسیع و عریض خوبصورت پھولوں سے سجا لان جہاں پہ مالی تراش خراش میں مصروف تھا ۔
مختصر انتظار کے بعد بچوں کی آیا نے انھیں اندر آنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ساتھ بتانے لگی بچے ابھی دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں میں ابھی انکو لاتی ہوں ۔
عائشہ کے سوال پہ آیا کو پلٹنا پڑا جی وہ بیگم صاحبہ رات دیر سے گھر آئیں تھیں لہذا ابھی سو رہی ہیں ۔
بچوں کی ساری ذمہ داری میرے ذمہ ہے ۔آپکو کوئی بھی مسئلہ ہو آپ مجھے پیغام دے سکتی ہیں ۔ آیا نے اپنی حیثیت کو واضح کر دیا جبکہ عائشہ کو آنے والی صورت حال کا اندازہ بخوبی ہو چکا تھا ۔
5منٹ کے بعد 7 سالہ بسیلہ اور 5 سالہ احمر اپنی شوخ چنچل حرکتوں کے ساتھ آ دھمکے ۔ساتھ ہی آیا نے 5 ہزار روپے عائشہ کو ایڈوانس میں پکڑا دیے اور باقی 15 ہزار آپ کو مہینے کے آخر میں ملیں گے ۔بیگم صاحبہ نے کل ہی مجھے دیے تھے تاکہ میں آپ تک پہنچا دوں، ہر موقعے پہ آیا اپنی حیثیت کو واضح کر رہی تھی ۔ ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے عائشہ نے نہایت ادب سے جواب دیا۔۔۔
عائشہ کی شخصیت شناس طبعیت اس بات کا بخوبی اندازہ کر سکتی تھی ان بچوں کو پڑھانا کسی چیلنج سے کم نہ تھا ۔ لیکن وہ بھی ہر چچیلنج کے سامنے ڈٹ جانے والوں میں سے تھی ۔
خیر اگلی صبح 10 بجے سے 1 بجے تک انکو دنیاوی تعلیم سے لے کر قرآن پڑھانے کا حکم نامہ جاری ہوا ۔بچوں کے اندر خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی لیکن بعض اوقات یہ چیز انھیں بدتمیزی کی طرف لے جاتی ۔
عائشہ کی سحر انگیز شخصیت سے بچے آہستہ آہستہ کافی حد تک اس سے مانوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
********************************
بسیلہ احمر کیسے جا رہی ہے تم دونوں کی ٹیوشن؟؟؟ عبداللہ نے صوفے کے اوپر خود کو گراتے ہوئے پوچھا ۔
دونوں نے یک زبان ہو کر ضرورت سے زیادہ اونچی آواز میں بولا “بہت ہی اچھی جا رہی ہے”۔
عبداللہ نے لمبی سانس کھینچتے ہوئے بولا تم لوگوں کی ٹیچر کو تو دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی بھی وقت بغل سے “بم “نکال کر پھاڑ دیں گی، اور جو جہازی سائز کا ٹینٹ اوڑھا ہوتا ہے دیکھ کر ہی سانس بند ہوتی ہے ۔۔۔
عبداللہ باز آ جاوء بھابھی نے مصنوعی غصہ دکھایا .
چاچو آپ کیا جانیں ہماری ٹیچر کتنی اچھی ہیں ، ہمیں تو دل و جان سے پیاری ہیں دونوں پر جوش لہجے میں بولے!
اچھا چاچو سے بھی اچھی؟؟؟جی ہاں!!!!
ہاے رے میرے نصیب آج یہ بھی دن دیکھنا تھا بھابھی، عبداللہ نے شکستہ دل ہونے کی بھرپور کوشش کی ۔ بچوں سمیت بھابھی کی بھی ہنسی چھوٹ گئی ۔۔۔
ذرا دھیان رکھنا بھابھی کہیں دہشت گرد ہی نہ بنا دے ہمارے جشم و چراغوں کو، اس کا حلیہ دیکھ کر مجھے تو خوف آتا ہے ۔
کالے برقعے میں ڈھکی دہشت گرد !!!
چاچو آپ ایسی باتیں نا ہی کریں تو بہتر ہے ورنہ ہم اپنی ٹیچر کو بتا دیں گے !!!
ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ٹیچر کو آتے ہوئے اور یہ دیکھو کیسے گن گا رہے ہیں ۔
بھابھی ذرا چیک کرنا کوئی منتر تو نہیں پڑھتی ان کے اوپر؟! عبداللہ تم اپنی ٹانگ نہ ہی اڑاو تو بہتر ہے ۔
بھابھی ابھی تو مجھے آپ پہ بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے ۔ ابھی تو اس ٹیچر کو دیکھنا پڑھے گا عبداللہ سر کھجاتے ہوا بولا ۔
خبر دار !!! عبداللہ جو اس طرف جھانکے بھی ، اس نے اسی شرط پہ آنا شروع کیا ہے کہ پردہ کی حد کو پار نا کیا جائے، ورنہ وہ نہیں پڑھاے گی ۔
بھابھی شہر بھرا پڑا ہے اس طرح کی مڈل کلاس لڑکیوں سے ۔ 1 چھوڑ سینکڑوں ٹیچرز مل جائیں گی ۔
عبداللہ تم اس سے دور ہی رہو تو بہتر ہے ۔
جبکہ عبداللہ کے دل میں تجسس بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
*****************************************
آپی آپی!! زینب رقیہ 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہانپتی اس کے پاس پہنچی ۔ کیا ہو گیا ہے میری ننھی چڑیلوں کو ؟؟ دیوار چین سر کرنے کی دعوت ملی ہے جو اتنا چلا رہی ہو؟؟؟
آپی اگر جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کریں؟!
نہیں کوئی جان کی امان نہیں ہو گی، دونوں نے ایک ایک کام کرنا ۔
توبہ توبہ آپی آجکل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں رہا ، دونوں نے منہ بسورتے ہوا بولا۔ایک تو خوشخبریاں سناو اور اوپر سے سلواتیں بھی سنو ۔
زینب رقیہ مصنوعی غصہ دکھا رہی تھیں، جبکہ عائشہ کا موڈ انکو چھیڑنے کا ہو رہا تھا ۔
اچھا چلو ایک معاہدہ کرتے ہیں رقیہ میرے سر میں مالش کرے اور زینب پوچا لگائے گی ۔۔۔
نا بابا نا دونوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے، اس سے بہتر ہے کہ ہم اس خبر کو شام تک ہضم کر لیں اور آپ شام تک تڑپتی رہیں ۔جب تک امی آپکو اپنی عدالت میں پیشی کے لئے بلائیں ۔
اندر سے عائشہ کو بھی فکر لا حق ہو رہی تھی بولی اچھا بتا بھی دو اب، کتنی دیر میرا سر کھاوء گی ۔ دونوں بہت ہی نالائق ہو۔ دونوں نے منہ بسورتے ہوئے بولا !
ابھی کاٹن کا ایک ایک سوٹ جرمانہ ہے ۔چلو ٹھیک ہے ننھی چڑیلو لے دوں گی دونوں کو۔ عائشہ نے ہاتھ جوڑ دیئے ۔
آج کی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ درس قرآن کے بعد امی کو ایک جاننے والی آنٹی جمیلہ ملی ہیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مغیث کے رشتے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ عائشہ کے چہرے کے رنگ بدلے لیکن اندر کی کیفیت کو چھپاتے ہوئے مصنوعی خفکی دکھائی “۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا “اور وہ بھی مرا ہوا۔
محترمہ آپی جان ہمارے ہونے والے بہنوئی جی خوبیوں سے بھرپور ہیں ۔
خوبی نمبر 1:صوم و صلاتہ کے پابند اور سنت رسول اللہ علیہ وسلم کے گرویدہ ۔
خوبی نمبر 2:آرمی میں کیپٹن ہیں اور وہ کاکول سے واپسی پر ہمارے گھر آپ کو دیکھنے ہمارے گھر آ رہے ہیں ۔
انکی امی تو آپ کو منتخب کر چکی ہیں اب صرف وہ آپ کا دیدار کرنا چاہتے ہیں ۔
ہمیں تو پورا یقین ہے کہ وہ دل کی بازی ہار جائیں گے ۔ دونوں چٹخارے لے کر بول رہی تھیں جبکہ عائشہ شرم سے لال پیلی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
آخر وہ دن بھی آگیا جب کیپٹن مغیث اپنے والدین کے ساتھ آرہے تھے ۔ گھر میں چہل پہل تھی، پہلے سے مرتب گھر کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا جا رہا تھا ۔اپنی حیثیت کے مطابق کھانے کا اہتمام ہوا ۔
عائشہ کو خاص ہدایات جاری کی گئیں ۔
زینب رقیہ کو تو بس موقع چاہیئے تھا اسکو چھیڑنے کا، انکے قہقہے فلک گیر ہو رہے تھے ۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہو رہی تھیں ۔
دستک نے عائشہ کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیا ۔چہرے کی چمک میں شرم کی لالی اسکے سراپے کو چار چاند لگا رہی تھی ۔
