Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 03)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

چہرے کی چمک میں شرم کی لالی اسکے سراپے کو چار چاند لگا رہی تھی، برقعے اور سفید دھاری دھار چادر میں لپٹی یہ معصوم کلی کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔ شرم سے جھکی سیاہ پلکوں کی جھالر اور سفید نورانی چہرہ کسی بھی نوجوان کی دھڑکنوں کو منتشر کرنے کے لیے کافی تھا ۔

امی اور آنٹی جمیلہ برآمدے میں محو گفتگو تھیں جب عائشہ کو بابا نے چائے لانے کے لئے بیٹھک میں بلا بھیجا ۔

طشتری میں چائے کے ساتھ پکوڑے اور بسکٹ سجائے اور جانے کی ٹھان لی اوپر سے رقیہ زینب کی چہ مگویاں اس کا سانس پھلا رہیں تھیں ۔ تم دونوں ادھر ہی بیٹھو اور میری واپسی تک ادھر سے نہیں ہلنا سمجھی تم دونوں !!

آپی ہماری فکر نا کریں اپنی خیر منائیں ۔

مجھے ذرا واپس آنے دو پھر دیکھنا!!!

چھوٹی سی بیٹھک میں 4 پلاسٹک کی کرسیاں اور ایک پلاسٹک کی میز کے علاوہ ایک کونے میں چارپائی بچھی تھی جس پہ نہایت مہارت سے کڑھی چادر بچھی تھی، اور پھر چارپائی کے نیچے امی کی سلائ مشین کو ڈھانپا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

طشتری تھامے وہ دھیرے سے اندر داخل ہوئی اور ہلکے سے سلام بولا جسکو بمشکل بابا ہی سن پائے ۔ بابا نے چائے انڈیلنے کا حکم صادر کیا ، کانپتے ہاتھوں کے ساتھ چائے انڈیلتے نظر فوجی صاحب کے جوتوں پہ گئی، دل میں سوچا اتنے بڑے پاوں؟!!! اس بندے کا ایک جوتا پڑے تو بندہ 10 میل دور گرے ۔ عائشہ اندر ہی اندر سوالات کے جوابات خود ہی دے رہی تھی ۔۔۔

عائشہ کا حسین سراپہ کیپٹن مغیث کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کئے جا رہا تھا ۔ عائشہ کو تو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے ۔

ایک دفعہ نظر اٹھانے کی کوشش کی لیکن مغیث کی والہانہ نگاہوں کی تاب نہ لا سکی تو فورا نظروں کو جھکا لیا ۔۔۔

بابا نے مغیث کو مخاطب کرتے ہوئے بولا آپ نے کچھ پوچھنا ہے تو عائشہ سے پوچھ سکتے ہیں ۔۔

عائشہ کی تو جان پہ بن رہی تھی پہلے ہی اوپر کا سانس اوپر تھا اور ابھی سوال و جواب کا سلسلہ، یا اللہ تو ہی آسانی کر دل ہی دل میں ورد کئے جا رہی تھی ۔

انکل مجھے تو کچھ خاص نہیں پوچھنا ان سے بس یہی کہ انکو میرے مختلف علاقوں میں تبادلے سے کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا میرا مطلب ہے آپ لوگوں سے دوری کا؟؟؟؟؟

مغیث نے سوالیہ نظروں سے عائشہ کے چہرے کو اپنے حصار میں لے لیا، عائشہ نے فورا گردن نفی میں ہلا دی ۔

عائشہ آپکو کچھ پوچھنا ہے تو آپ پوچھ سکتی ہیں مغیث سے۔۔۔۔

جی نہیں مجھے اور کچھ نہیں پوچھنا بڑی مشکل سے گلے سے آواز نکالی ۔۔۔

شکر شکر کر کے بابا نے اس کو واپسی کا عندیہ سنا دیا ۔۔۔

باہر نکلتے ہی اس نے لمبی سانس کھینچی ۔۔

***************************************

اوئے کمینے ظہیر تجھے کتنے دنوں سے فون کر رہا ہوں تو فون کیوں نہیں اٹھاتا کدھر تھا ؟؟

نہیں یار بس ادھر ہی تھا بس اس دن پارٹی سے رات واپسی پر ڈیڈ نے دھر لیا آو دیکھا نا تاؤ، بس کچھ پوچھ نا یار صرف مارا نہیں ہے باقی کسر نہیں چھوڑی ۔

ظہیر افسردہ دل کے ساتھ عبداللہ کو اپنا دکھڑا سنا رہا تھا ۔

کوئی نہیں یار تو دل کیوں جلاتا ہے ؟!

یہ آنی جانی بات ہے ۔۔۔۔عبداللہ نے وقتی طور پر تسلی دی ۔۔۔

نہیں یار ابھی تو مجھے اپنے ساتھ آفس آنے کو کہا ہے اور پھر چار و نا چار جانا پڑھ رہا ہے اور واپسی پہ اتنی تھکاوٹ ہوتی ہے۔۔۔

اچھا تو سنا کیا ہو رہا ہے آجکل؟؟؟ کس کے ساتھ نئی دوستی چل رہی ہے ؟؟ ظہیر نے پوچھا

کوئی ایک ہو تو پوچھ ابھی تو نام بھی یاد نہیں رہتے، وہ یاد ہے پارٹی والی رات سمیرا جسکو ہم نے گھر واپسی پہ لفٹ دی تھی وہ بڑے میسجز بھیج رہی ہے ، ملنے کا بھی بہت اصرار ہے اس کا ، کسی دن چلتے ہیں اس سے ملنے، ہاں ٹھیک ہے یار ۔۔۔۔ ظہیر نے ہامی بھری ۔۔۔۔

اوئے چھٹی کب ہے تجھے؟؟ عبداللہ نے پوچھا

او یار ابھی چار دن ہی تو ہوئے ہیں جاتے ہوئے چھٹی کا پوچھا تو ڈیڈ نے میری درگت بنا دینی ہے ۔۔۔

عبداللہ یار تو بڑے بھائی کا چہیتا ہے سر پہ نا والدین ہے ہیں جو پوچھ تاچھ کریں اور بڑے بھائی نے انگلی پہ چھالے کی طرح رکھا ہوا ہے ، جتنی مرضی آوارہ گردی کر لے تجھے تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے اور ادھر میرے ابا حضور ہیں ہر وقت انکی کڑی نظریں میرا تعاقب کرتی ہیں ۔۔۔

بس اب اتنا غمگین نہ ہو جیسے تو تو کبھی باہر گیا ہی نہیں ہے عبداللہ نے کھری سنا دی ۔۔۔۔

میرے بھائی کو شکایت کا موقع ہی نہیں ملتا میرے ہر وقت ٹاپ نمبر جو ہوتے ہیں لالے ۔۔۔۔۔

جوانی میں ادھر ادھر تھوڑی بہت مستی تو چلتی ہے میرے یار ۔۔۔۔ عبداللہ بولا ۔۔۔

خیر چل تو دل نہ جلا تیرے غم کا بھی مداوہ کرتے ہیں ۔۔۔

۔

**************************************

عائش میری بچی وہ لوگ تو کافی مطمئن گئے ہیں اور بولا ہے استخارہ کے بعد بات پکی کریں گے انشااللہ ۔۔

امی بابا رات کو اپنی لاڈلی سے مشورہ کر رہے تھے، اگر کوئی اعتراض ہے تو بتا دو کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔۔۔۔

نہیں بابا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے جیسے آپ کو بہتر لگتا ہے کر گزریں ۔۔۔۔۔

کیپٹن مغیث تو پہلی ہی نظر میں دل میں گھر کر چکے تھے ۔

عائشہ کے دل نے انگڑائی لی شاید یہی ہے وہ شخص جس کو میرے دل کا بادشاہ بننا ہے ۔۔۔۔۔

فجر کی نماز کے بعد صلاتہ الاستخارہ ادا کی اور ساتھ ہی دعاوں کا لا متنائ سلسلہ جو اس کا روز کا معمول تھا ۔۔

آہستہ آہستہ سورج کی کرنیں اپنی تپش لا رہی تھیں ۔۔۔

فورا پراٹھوں کے لئے تازہ آٹا گھوندا اور ساتھ چائے بھی چڑھا دی۔۔۔

امی سب کو بلائیں ناشتے کے لئے مجھے دیر ہو رہی ہے ابھی ٹیوشن کے لئے بھی نکلنا ہے ۔۔

عائش میری گڑیا آج تو آپکو اکیلا جانا پڑے گا میں واپسی پہ آپکو لینے آوں گی انشااللہ۔۔۔

ابھی ایک سوٹ مکمل کر کے پہنچانا ہے تیرے بابا کے ہاتھ ۔

ٹھیک ہے امی آپ پریشان نہ ہوں وہ حجاب نقاب پہنتے ہوئے بولی ۔۔

بچوں کے گھر کے قریب ہی تھی کہ پیچھے سے ٹائر کی چرچراہٹ سنائ دی مڑ کے دیکھا ہی تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *