Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 13)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 13)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
مجھے ٹھکانے لگانے کے شوق میں تم اپنی بندوق گاڑی میں ہی چھوڑ گئے تھے غالبا،عائشہ نے فاتحانہ انداز میں اس کو مخاطب کیا، گاڑی سیدھے طریقے سے چلاو ورنہ تمھاری کھوپڑی شیشے سے باہر اچھل کر جائے گی سمجھے تم؟!
عبداللہ نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولا ۔۔۔
بندوق رکھ دو نیچے تمھاری نازک کلائیاں اور نازک ہاتھ تھک جائیں گے ۔۔۔
تم میری تھکاوٹ کی فکر نا کرو اپنی خیر مناوء!عائشہ نے دانت پیسے ۔۔۔
تمھیں بندوق چلانی بھی آتی ہے یا مجھے صرف ڈرا رہی ہو ؟؟میرے خیال میں مجھے گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے تمھیں پریکٹس کروانی چاہیئے اسی بہانے تیتروں کا شکار بھی ہو جائے گا ۔۔۔
خبردار جو ادھر سے ہلنے کی کوشش کی تو!عائشہ سیخ پا ہو رہی تھی ، تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو ۔۔۔
اگر یہ نرمی ہے تو سختی پتا نہیں کیا ہو گی؟!عبداللہ نے مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
منہ بند کرو اور گاڑی چلاو!!عائشہ کی برداشت جواب دے رہی تھی، اس شخص سے نفرت اور بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد بولا محترمہ عائشہ عبدالشکور منہ بند کرنا تو کافی مشکل ہے اس لیئے کہ میں پوری رات سو نہیں پایا اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر گاڑی چلاتے ہوئے مجھے نیند آگئی تو ایکسیڈنٹ کی ذمہ دار آپ ہونگی لہذا اگر خیرو عافیت سے گھر پہنچنا چاہتی ہو تو مجھے باتیں کرنے دو ورنہ نیند کا غلبہ لازمی بات ہے ۔۔۔۔
تم کتنے کمینے اور ڈھیٹ انسان ہو !میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں تمھارا سر پھاڑ دوں ۔۔۔۔
میرے خیال میں ابھی سر پھاڑنے کیلئے وقت مناسب نہیں ہے، ناک تو تم توڑ چکی ہو لہذا سر کیلئے کوئی اور دن مقرر کر لیتے ہیں ۔۔ میں سنجیدہ ہوں تم یہ بندوق نیچے رکھ دو میں تمھیں تمھارے گھر ہی لے کر جا رہا ہوں ۔۔۔۔
جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا یہ بندوق تانے رکھوں گی ۔۔
تانے رکھو اگر خود کو تھکانے کا شوق ہے اسکے اندر ایک گولی بھی نہیں ہے، یہ صرف ڈرانے کیلئے رکھی تھی پاس!!
عائشہ شدید غصے سے تلملا رہی تھی کہیں سے بھی راہ فرار نظر نہ آرہا تھا ۔۔۔
آخری حل گاڑی سے کودنے کا ہی ہے اس نے سوچا، دیکھتی ہوں گاڑی جب تھوڑی آہستہ رفتار میں ہو گی تو کود جاوءں گی ۔۔۔ اس لفنگے کے جال میں کبھی بھی نہیں پھنسوں گی، اس گھٹیا انسان سے بحث سے بہتر ہے اپنے مسنون اذکار شروع کر لوں، دل ہی دل میں اپنے رب کی بارگاہ میں التجایئں شروع کر دیں ۔۔۔
عبداللہ کو اسکی خاموشی کاٹ کھا رہی تھی اس سے رہا نا گیا اچھا یہ بتاو تمھیں گرمی نہیں لگتی؟ یا سانس نہیں بند ہوتی اتنی شدید گرمی میں اس تنبو میں لپٹ کر ؟؟؟سر سے پاؤں تک تو تم ڈھکی رہتی ہو ۔۔۔
مجھے دنیا کی گرمی منظور ہے جہنم کی گرمی سے !! انتہائی سخت لہجے میں جواب دیا،گرمی مجھے لگے یا نہ لگے تمھیں کیا تکلیف ہے ؟؟؟اپنے کام سے کام رکھو !!!!
میں تو صرف اپنی معلومات میں اضافے کے لئے پوچھ رہا تھا کہ اسلامی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے ؟یا صرف مولوی حضرات اپنی بیویوں بیٹیوں کو ہر وقت دبانے کےلئے حجاب پردے کے رٹے لگاتے رہتے ہیں ۔۔۔۔
تم جیسے جاہلوں نے کبھی قرآن و سنت کو پڑھا ہو تو پتا ہو کہ کیا احکامات ہیں ؟!
“”عورت گھر سے باہر نکلے تو سر سے پاؤں تک چھپی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، عورت پوری کی پوری عورہ(چھپانے کے لائق )ہے “”۔۔۔ ترمزی :1163
یہ کہہ کر عائشہ نے گاڑی کے لاک کو کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی ۔۔۔۔
عبداللہ گاڑی ھارڈ چھولڈر پہ لے آیا اور سنجیدگی سے گویا ہوا ۔۔۔ گاڑی میں سینٹرل لاک لگا ہے جب تک میں نہیں چاہوں گا تم گاڑی سے نا نکل سکتی ہو اور نا اس کا شیشہ نیچے اتار سکتی ہو ، سمجھی تم اب آرام سے جدھر بیٹھی ہو ادھر ہی بیٹھی رہو میں نے تمھیں بتایا ہے کہ میں تمھیں واپس تمھارے گھر لے کر جا رہا ہوں تو پھر تم کیوں اعتبار نہیں کرتی؟!
تم ہو اعتبار کے قابل ؟!اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود تم چاہتے ہو میں تم پہ اعتبار کروں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ غصے سے چلائی ۔۔۔
اچھا نا کرو اعتبار ! اب تمھارے گھر سے ایک ڈیڈھ گھنٹے کی مسافت باقی ہے اگر تم چاہتی ہو تو میں تمھیں ادھر ہی اتار دیتا ہوں اور اگر موٹر وے پہ چلتی گاڑی تمھیں لفٹ دے دیتی ہےتو ان کے ساتھ چلی جاوء شاید تمھیں کوئی اعتباری بندہ مل جائے ۔۔۔
ہاں اتار دو مجھے ادھر ہی عائشہ چلائی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئی، تم میری ذمہ داری ہو میں تمھیں لے کر آیا تھا اور ابھی میں ہی واپس چھوڑوں گا ۔۔۔ پلیز میرا یقین کرو! ادھر رک کر تم اپنا وقت ضائع کر رہی ہو اور اگر تم لفٹ مانگو بھی تو لوگ تمھارے حلیے سے ڈر جائیں گے۔۔۔
خبردار تم نے ایک لفظ بھی میرے حلیے کے بارے میں بولا سمجھے تم!!
اچھا نہیں بولتا، ابھی سیدھے چلتے ہیں ۔۔ 6 تو ادھر ہی بج گئے ہیں تم چاہتی ہو تمھارے بابا کے کام جانے سے پہلے تم گھر پہنچ جاوء تو پھر آرام سے بیٹھی رہو ۔۔۔۔۔
تمھیں کیسے پتا چلا میرے بابا کے کام پہ جانے کا وقت کیا ہے ؟؟
مجھے سب پتا ہے پورے 2 ہفتے تمھارا پیچھا کیا ہے تمھارے بارے میں تمام معلومات حاصل کیں ہیں، تمھاری دو اور چھوٹی بہنیں ہیں بھائی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
عائشہ نا چاہتے ہوئے بھی دھاڑیں مار کر رونا شروع ہو گئی، شدید بےبسی اور مجبوری کی کیفیت اسے اندر ہی اندر چاٹ رہی تھی ۔۔۔۔
10 منٹ کے بعد عبداللہ کی برداشت جواب دے گئی اور بولا بس کرو اب یہ رونا دھونا اور میری بات غور سے سنو!!!
مجھے نہیں سننی تمھاری کوئی بھی بات، تم کتنے بےضمیر انسان ہو، کتنی اذیت سے میں گزری ہوں اور میرےامی بابا تم تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، تمھارے مال و متاع نے تمھیں اندھا کر دیا ہے ، اچھائی اور برائی میں کوئی فرق نہیں ہے تمھارے نذدیک، جب دل چاہا جہاں دل آگیا اس پہ جھپٹ پڑے لیکن یاد رکھو اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اس نے تمھیں ڈھیل دی ہوئی ہے لیکن جب اسکی گرفت میں آگئے تو شاید توبہ کا موقع بھی نا مل سکے ۔۔۔
عبداللہ نے سب خاموشی سے سنا اور پھر لمبی سانس کھینچتے ہوئے بولا ۔۔
عائشہ نکاح کر لو میرے ساتھ!!!
