Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 12)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 12)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
عائشہ نے اللہ کا نام لے کر اپنا حجاب درست کیا اور نقاب پہنا اور پھر میز اور صوفے کو پیچھے دکھیلنا شروع کر دیا ۔
تم دروازے سے 2 میٹر دور ہو کر کھڑے ہو جاوء جب دور ہٹ گئے تو مجھے بتا دینا ۔
دروازہ کھولنے سے پہلے نظر اپنی مخروطی ہاتھوں پہ گئی جو مہندی کے دیدہ زیب نقش و نگار سے سجے تھے فورا اپنے دستانوں کی تلاش شروع کر دی لیکن صرف ایک ہی ڈھونڈ پائی، عبداللہ کے ساتھ ہاتھ پائی کے دوران ایک کہیں کھو گیا تھا شاید ، دکھی دل کے ساتھ ایک کو پہنا اور دوسرے ہاتھ کو اپنے “خمار” سے ڈھانپ لیا ۔۔
کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کنڈی پہ ہاتھ رکھا عائشہ پہ شدید گھبراہٹ اور خوف طاری تھا ۔۔۔
باہر عبداللہ نے التجا کی کہ جلدی کرو روشنی پھیلنے سے پہلے ہمیں یہاں سے نکلنا تاکہ گاؤں کا کوئی شخص تمھیں نا دیکھ پائے ۔۔۔عائشہ کے دل ودماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں کہ یہ ابھی کسی نیئے منصوبے کے تحت اسکو اپنے جال میں پھانسنا چاہتاہے ۔۔۔
خیر اللہ پہ توکل کر کے کنڈی کھول دی، عبداللہ کو ڈرائنگ روم کے دوسرے کونے میں کھڑا اپنا منتظر پایا ۔۔۔
عبداللہ بولا ہمیں فورا یہاں سے نکلنا ہے لیکن تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا، جو بھی کھانا ہے کچن میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ۔۔نہیں مجھے کچھ بھی نہیں کھانا مجھے صرف اپنے گھر پہنچنا ہے عائشہ نے خشک لہجے میں جواب دے کر صحن کی طرف دوڑ لگادی جبکہ عبداللہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا اسکے پیچھے ہو لیا ، گاڑی کی اگلی سیٹ کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا جسکو عائشہ نے مسترد کرتے ہوئے پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دی ۔۔۔۔
تاریک رات کے اندھیرے چھٹ رہے تھے اجالے کی سفید دھاری اس ویران فارم ہاوس میں روشنی لا رہی تھی ، عائشہ کا دل شدت غم سے چور تھا آنسو جھلک کر آنکھوں کی باڑ توڑنے کے لئے بےتاب تھے۔۔ ۔ اس کو یہ غم اندر ہی اندر چاٹ رہا تھا کہ کیسے امی بابا اور دونوں بہنوں نے رات کیسے گزاری ہو گی؟ کتنے تڑپے ہوں گے وہ میرے لئے، عبداللہ کیے لئے دل میں نفرت اور بڑھی ۔۔۔
پجیرو 4×4 اپنے سفر پہ رواں دواں تھی، مسلسل خاموشی کو عبداللہ نے توڑا ۔۔۔۔
عائشہ اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ، مجھے پتا ہے کہ میں نے انجانے میں بہت زیادتی کی ہے تمھارے ساتھ جو میں ہرگز نہیں چاہتا تھا لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگیا تھا، تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو جس نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے پوری رات میں ایک منٹ کےلئے سو نہیں پایا، میں نے ہار کبھی تسلیم نہیں کی جو چیز مجھے پسند آجاتی ہے وہ بس میری ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
عائشہ نے کسی بات کا جواب نا دینا ہی مناسب سمجھا اور بس غم و غصے سے اپنی انگلیاں چٹخا کر رہ گئی ، اس کا دل کر رہا تھا اس کا سر پھاڑ دے ۔۔۔
تم کوئی جواب نہیں دے رہی اب تو میں تمھیں تمھارے گھر بحفاظت چھوڑنے کے لئے جا رہا ہوں ۔۔
عائشہ کھول کر رہ گئی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد بولا ابھی 10 منٹ میں سروس سٹیشن آ رہا ہے کچھ کھانے پینے کےلئے لینا یے تو بتا دو میں تمھارے لیے لے آؤں ۔۔
مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے مجھے اپنے گھر پہنچنا ہے ابھی اور اسی وقت سمجھے تم ؟! عائشہ نے کاٹ دار لہجے میں جواب دیا ۔۔۔
شکر ہے تم نے کسی بات پہ تو جواب دیا ہے ورنہ میں ویسے ہی اپنی توانائی اکیلے بول بول کر ضائع کر رہا تھا۔۔۔
عائشہ غصے سے آگ بگولہ ہو رہی تھی بولی،،، تمھاری گردن پہ تلوار رکھی گئی تھی کہ مجھے اغوا کرو اور اپنی حوس کا نشانہ بناو ،یہ تمھارا خود کا اختیار کردہ راستہ ہے جس کا کٹھن سفر تمھارے لیے تکلیف کا باعث بن رہا ہے ۔۔تم نے میرے حجاب پہ ڈاکا ڈالا ہے اور تم چاہتے ہو کہ تمھارے اس زبانی معافی نامے پہ میں بچھ بچھ جاوءں، تمھارے گلے میں پھولوں کے ہار پہناوں، میڈل اور ٹرافیاں دو، جیسے کے-ٹو فتح کر کے آرہے ہو تم ۔۔۔ عائشہ اپنے دل کی ساری بھڑاس نکالنے کا تہیہ کر چکی تھی ۔۔۔
تمھیں کیا خبر بے حس فصلی بٹیرے میری زندگی میں سب سے عزیز ترین چیز باکردار اور باحجاب رہنا ہے، میرا حجاب میری پناہ گاہ ہے، تم جیسے حوس پرستوں کی میلی نظروں سے بچاو کی تدبیر ہے ، میرا نقاب میرا نور ہے ، تم نے مجھے بےنور کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔
کاش تمھاری کوئی بہن ہوتی تو تم یہ درد محسوس کرتے کہ کیسے دوسروں کی بیٹیوں کی طرف میلی نظر اٹھاتے ہیں،
عبداللہ مکمل توجہ سے آسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔تمھیں بولنے کا پورا حق ہے جو کہنا چاہتی ہو کہو میں سن رہا ہوں ۔۔۔لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی تمھیں ہی کیوں اتنا شوق ہے حجاب اور نقاب کا باقی 95 فیصد لڑکیاں تو کوئی شوق نہیں رکھتیں ۔۔۔۔
“اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو!اور سیدھی بات کہو ۔اللہ تمھارے کاموں کو سنوار دے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اسے بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔” الأحزاب:70۔71
میرے لئے اسوہ حسنہ صحابیات رضی اللہ عنھن ہیں، میرے لیے حجت قرآن و سنت ہے ، میں اپنے رب کے حکم بجا لانے کی پوری کوشش کرتی ہوں وہی رب جس نے مجھے ہر نعمت سے نوازا ہے اور وہی رب جس نے مجھے تم جیسے بھیڑیے سے نجات دلائی تو پھر کیوں اس کا شکر ادا نا کروں اور اس کا حکم کیوں نا مانوں؟!
چلو تم نے کسی قابل تو سمجھا ہے مجھے فصلی بٹیرا اور بھیڑیا دونوں نام ہی کافی خوبصورت لگے ہیں اور مجھے پسند آئے ہیں ۔۔۔۔ اس نے قہقہہ لگایا ۔
اچھا فرض کرو اگر میں تمھیں گھر نہ چھوڑوں تو کیا کرو گی، ؟؟؟میرا کیا بگاڑ لو گی ؟؟؟۔۔۔۔عائشہ کا دل ایک لمحے کےلئے دھڑکنا بھول گیا لیکن وہ اپنی کمزوری کو چھپاتے ہوئے بولی
“یقینا میرے ساتھ میرا رب ہے وہ یقینا میرے لئے رستہ پیدا کرے گا “۔الشعراء 62
