Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 01)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

وقت کا کیا ہے پر لگا کر اڑ جاتا ہے دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

عائشہ آپی یاد ہے جب ہم مری گئے تھے ، کتنا مزا آیا تھا ، جیسے ہم آسمان کی بلندیوں کو چھو لیں گے اور اگر نیچے دیکھا تو پتھر کے ہو جائیں گے ۔۔۔

آہ کیسا وقت تھا وہ بھی آپی؟؟ زینب نے ٹھنڈی سانس لی جبکہ عائشہ کا پورا دھیان اپنی کتابوں پہ مرکوز تھا ۔۔۔

زینب پڑھنے دو مجھے! خود تو کتابیں کھولتے ہوئے تمھاری جان جاتی ہے کم از کم مجھے تو کچھ کرنے دو نالائق ۔۔

آپی آپ بھی نا اتنی باسی باتیں کرتی ہیں کہ اگلے ہی لمحے انسان کو ہیضہ اور دست شروع ہو جائیں توبہ توبہ اللہ کی پناہ ۔۔۔

زینب کی بچی میں نکالتی ہوں تیرے اندر کی ساری بھڑاس ادھر ہی ٹھہر ذرا ۔

آپی نے بھی قینچی چپل دے ماری جبکہ نشانہ خطا ہو کر اندر آتی رقیہ کے سینے میں پیوست ہوگیا جو بچاری ابھی جھاڑو سے فارغ ہو کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔۔

عائشہ آپی مجھے کس خوشی میں لتاڑا جا رہا ہے؟! رقیہ کی التجا اور زینب کی معنی خیز ہنسی نے اس کا پارا اور چڑھا دیا ۔۔

آج میں نے اس زینب کو نہیں چھوڑنا پیچھے ہٹو رقیہ ذرا !!

زینب نے چھلانگیں لگا کر رقیہ کے پیچھے پناہ لی اور پھر اونچی آواز میں آپی کو اور چڑانے کی ٹھانی

“میری خوبی پے رہتے ہیں یہاں اہل زباں خاموش

میرے عیبوں پہ چرچا ہو تو گونگے بول پڑتے ہیں “

عائشہ اور رقیہ بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی

چھوٹی تو بہت شرارتی ہے،سدھر جا ابھی بھی وقت ہے تیرے پاس ہے ۔

آپی آپ کی اس بات سے کھٹی ڈکاریں شروع ہو جائیں گیں بس کر دیں اور اپنی کتابوں کو سینے میں اتاریں

*************************************

عبداللہ کیا ارادہ ہے آج شام پھر ہو جائیں دو دو ہاتھ؟؟سمیر کے ہاں پارٹی کا اہتمام ہے بہت ساری تتلیاں بھی ہمارا دل لبھایں گی ۔ ظہیر پرجوش انداز میں عبداللہ کو قائل کرنے میں کوشاں تھا ۔

ظہیر تو فکر کیوں کرتا ہے یار محفل کو تو تیرے یار نے ہی لوٹنا ہے ۔عبداللہ اپنے کالر کو جھاڑ کر فخریہ انداز میں بولا ۔

چل دیکھتے ہیں پھر کون کتنے پانی میں ہے؟ ظہیر بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہ تھا ۔

عبداللہ بہت بڑے بزنس مین جمال خان کا بیٹا دولت کی ریل پیل اوپر سے اللہ نے مردانہ وجاہت سے نوازا، بلا کا ذہین لیکن حلقہ احباب گندے تالاب کی گندی مچھلیوں کے مترادف جنکو اول درجے کے دل پھینک اور آوارہ مزاج کہنا کافی حد تک مناسب تھا ۔۔۔

محفل اپنے عروج پہ تھی مرد و زن کا کھلم کھلا اختلاط، عریاں لباس اور خوشبو میں معطر دعوت نظارہ دیتی رنگ برنگی تتلیاں جو کسی بھی لحاظ سے مسلمان گھرانوں کی باسی نہیں لگتی تھیں ۔۔۔۔

*************************************

عائش میری بچی کہاں ہو؟ تیرے بابا آگئے ہیں ان کے لئے دو روٹیاں ڈال اور دال کو تازہ بگھار بھی دے لے ۔امی نے سلائ مشین چلاتے ہوئے آواز لگائی ۔

نماز سے فراغت کے فورا بعد ہی عائشہ کچن کی طرف لپکی اور تازہ پھلکیوں کے ساتھ تڑکے والی دال طشتری میں سجا کر بابا کو پیش کی، سلام کے بعد پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔۔

کام کے حال احوال کی پوچھ گیچھ اس کا روز کا معمول تھا ۔ جبکہ امی قمیض کی ترپائ میں مصروف تھیں ۔

گھر میں سب سے بڑی ہونے کا شرف اسے ہی حاصل تھا اسکے ساتھ ساتھ اپنے بابا کی آنکھوں کا تارہ، بابا بھی اکثر فرحت جذبات میں اکثر اسے بیٹے کے لقب سے نوازتے، بولتے میری بچی میرا مان اور ایک بہادر بیٹے جیسی ہے۔

دو کمروں کے اس گھر میں نسیم بیگم کی سلیقہ شعاری نے گھر کا سکون کبھی خراب نہ ہونے دیا، اپنی غربت کا کبھی رونا نہ رویا بلکہ ہر وقت اپنے ساتھ ساتھ تینوں بیٹیوں کو بھی اللہ کا شکرگزار بنایا ۔۔

سبزی فروش عبدالشکور نےرزق حلال کما کر تینوں بیٹیوں کو پالا جبکہ نسیم بیگم کو سلائ میں مہارت حاصل تھی جس نے کافی حد تک چھوٹی چھوٹی ضروریات زندگی کو پورا کیا۔ سکول کے یونیفارم سے لے کر کاپی کتابوں کا خرچا ۔۔۔

بیٹے کی کمی اللہ کی رضا سمجھ کر کبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا ۔۔۔

عائشہ ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ،شرم وحیا کا پیکر،قرآن و حدیث سے بھرپور لگاؤ رکھنے والی وہ خوبصورت دوشیزہ کہ جس پہ ایک نظر ڈالنے والا آنکھ جھپکنا بھول جائے ۔

خوبصورت گول مٹول معصوم چہرہ،جھیل جیسی گہری بڑی آنکھیں اور گھنی پلکوں کی جھالر مخاطب کو متاثر کئے بنا نہ رکے ۔۔۔

بابا مجھے آپ کی اجازت درکار تھی، بابا وہ میری دوست سبین کی کزن کو اپنے بچوں کی ٹیوشن کے لئے ہوم ٹیوٹر چاہیئے،اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ گھر سے الگ ایک کمرہ ہےجہاں پہ باقی مکینوں کا داخلہ ممنوع ہو گا وہاں پہ صرف میں اور انکے 5 اور 7 سال کے دو بچے ہونگے جنکو میں نے پڑھانا ہے ۔۔۔ مودبانہ انداز میں عائشہ نے تفصیلات سے آگاہ کیا ۔۔

عبدالشکور نوالہ منہ میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنی ہونہار بچی کی تجویز پر غورو فکر بھی کر رہے تھے ۔ اچھا چلو مجھے استخارہ کر لینے دو تو پھر دیکھتے ہیں انشاءاللہ ۔

بابا امی مجھے چھوڑ اور لے بھی آیا کریں گی کیونکہ ان کا گھر ہمارے گھر سے 3 گلیاں چھوڑ کر ہی تو ہے ۔۔۔

میں تو یہی چاہ رہی تھی بچے ادھر ہی آ جاتے تو اچھا تھا لیکن ان لوگوں کا اصرار ہے کہ ٹیوٹر گھر ہی آئے امی بولیں ۔

صبح کام جانے سے پہلے بابا نے اجازت دے دی اور ساتھ امی کو جانے کی تنبیہ بھی کی۔

عائش کے بابا ان لوگوں نے منہ مانگی رقم دینے کا اقرار کیا ہے اور ساتھ یہ بھی بولا ہے کہ ہم چاہتے ہیں ہمارے بچے ان چھٹیوں میں کچھ قرآن بھی سیکھ لیں ۔

کتنے دن اور کتنے گھنٹوں کے لئے جانا ہے؟؟؟ بابا نے پوچھا

سوموار سے جمعرات روزانہ 3 گھنٹے عائشہ نے جواب دیا۔

گہری سانس لے کر بابا بولے چلو ٹھیک ہے باقی جو اللہ کو منظور ہو گا ۔

ظہر کی نماز کے بعد دونوں ماں بیٹی پیدل چلنے کے بعد مطلوبہ گھر کے باہر موجود تھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *