Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 15)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 15)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
تمہاری بندوق میں نے پیچھلی سیٹ پہ رکھ دی ہے یہ کہہ کر اس نے
اپنی گلی کی طرف دوڑ لگا دی اور عبداللہ جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔ گرمیوں کے سورج نے صبح 8بجے ہی اپنی تپشِ دکھانی شروع کردی ۔۔۔عائشہ کے پیچھے اڑتی دھول عبداللہ کے دل کو ویران کرگئی وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اس کا فون جو ریکارڈنگ پہ لگا ہوا تھا فورا یاد آیا۔۔۔جو اگلی مسافر سیٹ کے اوپر چارجر سمیت پڑا تھا دل چاہا کہ اس کو سنوں لیکن ابھی فون ہاتھ میں ہی لیا تھا کہ تھانیدار کی کال آ گئی ۔۔۔ ہاں بھئ تمھیں تمھاری رقم مل گئی تھی ؟؟؟ عبداللہ نے پوچھا۔۔۔ جی سر مل گئی تھی بڑی مہربانی آپ کی ۔۔۔
سر لڑکی کا باپ آیا تھا رپورٹ درج کروانے روائتی انداز اپنایا تو ادھر ہی ڈھ گیا۔۔۔ کیا بولا تھا تم نے ؟؟؟کہنا کیا تھا سر جی بس یہی بولا کہ تمھاری لڑکی خود بھاگ گئی ہے کسی آشنا کے ساتھ اتنا بولنا تھا کہ اس کو دل کا دورہ پڑااور تھانے میں ہی گر گیا۔۔۔ ہمیں اس کو قریبی ہسپتال پہنچانا پڑ گیا۔۔۔اب کیا حکم ہے سر جی؟؟ کون سے ہسپتال ہے لڑکی کا باپ ؟؟ عبداللہ کو مزید پریشانی نے آن گھیرا۔۔۔لڑکی کے باپ کو قریبی ہسپتال پہنچا دیا ہے سول پہنچنے تک اس کی جان بھی جا سکتی تھی ۔۔۔اب یہ نہیں پتا کہ بچ پائے گا بھی یا نہیں اس کی حالت کافی تشویش ناک تھی ۔۔نام کیا ہے ہسپتال کا؟؟؟؟
افضل اسپتال ہے جی ۔۔۔شکریہ بتانے کا آئندہ بھی کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے بتا دینا تمھارا چائےپانی پہنچا دوں گا۔۔۔
عبداللہ نے فراغ دلی کا مظاہرہ کیا ۔۔۔۔
عبداللہ نے سر کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا کیا کر دیا ہے میں نے اس لڑکی کے ساتھ؟؟؟ اس بے قصور نے کتنا اور خمیازہ بھگتنا ہے ؟؟؟گاڑی فورا افضل ہسپتال کی طرف دوڑا دی ۔۔
ریسیپشن پہ پہنچتے ہیں عبدالشکور نامی مریض کا پوچھا اور سارےخرچے کا ذمہ خود لیا۔۔۔نرس نے بتایا حالت کافی تشویش ناک ہے کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ بچ پائیں گے یا نہیں ۔۔۔۔آپ لوگ جتنی کوشش کر سکتے ہیں پلیز کریں۔۔۔
پیسے کی فکر نہ کریں یہ سب میں کروں گا لیکن مریض کے لواحقین کو اس بات کا علم نہ ہو پلیز۔۔میں آپ سے فون پے رابطے میں رہو ں گا اس بات کا بھی لواحقین کو علم نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔
جی سر ٹھیک ہے۔۔ عبداللہ نے اپنے بٹوے سے دس ہزار نکال کر ایڈوانس میں دے دیئے باقی مجھے بعد میں بتا دینا میں سب ادا کر دوں گا۔۔۔
********************************
عائشہ نے دروازے کو پوری قوت کے ساتھ پیٹنا شروع کردیا جیسے ابھی ہی کوئی اسے اچک لے گا٬ غم وخوف کی ملی جلی کیفیت تھی۔۔۔ اس کے آنسو سیلاب کی طرح بہہ رہے تھےاور اور اس کے نقاب کو مکمل طور پر گیلا کر چکے تھے کون ہے ؟؟؟اندر سے رقیہ کی سہمی آواز آئی ۔۔۔میں ہوں عائشہ رقیہ نے دھڑ سے دروازہ کھولااور عائشہ کے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔دونوں بہنیں خوب روئیں امی بابا کدھر ہیں؟؟؟ آپی وہ دونوں تو تھانےگئے تھے٬آپکے اغوا کی رپورٹ درج کروانے لیکن بابا کو ادھر ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اب قریبی ہسپتال میں داخل ہیں امی نے ہسپتال میں موجود کسی عورت کے فون سے گھر فون کیا تھا۔زینب بھاگی ہوئی عائشہ کے ساتھ لپٹ گئی آپی آپ کہاں چلی گئی تھیں؟؟؟
امی کتنی دیر گلی میں بے ہوش پڑی رہیں تو کسی راہگیر نے ان کو ہسپتال پہنچایا پھر واپس گھر بھی چھوڑ گیا….
ان کو 10 ٹانکے لگے ہیں شدید چوٹ آئی ہے آپی ہم پوری رات نہیں سوئے بابا نے سارا علاقہ چھان مارا کہ شاید آپ کہیں مل جاؤ پھر فجر کے بعد فیصلہ کیا کے پولیس کو بتاتے ہیں لیکن شکر ہے آپ صحیح سلامت واپس آگئی ہیں آپ کے ساتھ کیا ہوا کس نے کیا یہ سب آپ کے ساتھ؟؟؟؟ بعد میں بتاؤں گی ساری تفصیل ابھی مجھے اسپتال جانا ہے تا کہ امی بابا کو تسلی ہو جائے۔۔
آپی آپ ابھی پھر باہر نکلیں گی تو یہ نہ ہو وہی لوگ دوبارہ آپ کو اٹھا لیں۔۔۔
نہیں رقیہ وہ ابھی مجھے نہیں اٹھائے گا آنکھوں میں آئی نفرت رقیہ سے چھپی نہ رہ سکی۔۔
مجھے پہلے بھی میرے رب نے بچایا ہے اور ابھی بھی وہی حفاظت کرنے والا ہے پانی لاؤ فورا مجھے ابھی جانا ہے۔۔
تم دونوں بہنوں نے دروازہ بلکل نہیں کھولنا جب تک میں واپس نہ آجاؤ کسی کے لیے بھی نہیں۔۔ٹھیک ہے آپی اپنا خاص خیال رکھنا میری ٹیوشن والے پیسے لے آؤ!!!!
ادھر سرہانے کے نیچے پڑے ہوئے ہیں آپی یہ تو صرف 5000 ہیں انہوں نے توبولا تھا 20000 دیں گے۔۔۔۔
کوئ نی دیئے ابھی تک لیکن تم لوگ پریشان نہ ہوں میں اپنی بالیاں بیچ دوں گی کانوں کو ہاتھ لگایا تو ایک بالی غائب تھی۔۔۔
لیکن رقیہ زینب کو پریشانی سے بچانے کے لیے بات گول کر گئی۔۔میں چلتی ہوں۔امی بابا سے مل کر جلد ہی آ جاؤں گی انشااللہ ۔۔۔ ٹھیک ہے دونوں بہنیں یک زبان ہوئی اسلام و علیکم۔۔۔
وعلیکم سلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر دونوں بہنوں نے لکڑی کا کمزور دروازہ بند کر لیا۔۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی امی کو ویٹنگ ایریا میں پایا امی کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں تھا عائشہ واپس آگئی ہے۔۔۔ دونوں ماں بیٹی لپٹ کر خوب روئیں٬امی میں بابا کو دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔
وہ مجھے دیکھ کر ٹھیک ہو جائیں گے انشااللہ ۔۔نہیں عائشہ ڈاکٹر نے منع کیا ہے لیکن میں ایک دفع کوشش کرتی ہوں۔۔۔
**********************************
عبداللہ کی فام ہاوس واپسی ہو چکی تھی مسلسل سفراور نیند کی کمی اسکے سر کو بھاری کیے جا رہی تھی سوچا کمرے میں جا کر کچھ دیر سوجاوں جیسے ہی بستر پر لیٹا کوئی چیز اس کو چبھی لائٹ آن کی تو عائشہ کی سونے کی بالی تھی عبداللہ کتنی دیر محبت سے دیکھتا رہا بٹوے میں ڈالنے کے لئے اٹھا ہی تھا تو نظر نیچے پڑے کالے دستانے پہ گئی ناچاہتے ہوئے بھی اس کو چوم ڈالا عائشہ تمھاری دو خوبصورت نشانیاں میرے پاس تمہاری موجودگی کا پتہ دیتی رہیں گی ڈرائنگ روم میں آ کر وسکی اور بیئر کی بوتلوں کو لان کے ایک کونے میں لاکر توڑ دیا۔۔۔اور دل سے وعدہ کیا ان کے قریب بھی نہیں جاؤں گا 4 گھنٹےکی مسلسل نیند کے بعد فون کی بز بز نے اس کو اٹھایا دوسری طرف سمیر تھا ۔۔۔ سوئی ہوئی آواز میں ہیلو بولا۔۔
ہاں لالے کیا ہوا ؟؟؟چھوڑ ایا ہے اپنی محبوبہ کو اس کے گھر ؟؟؟؟وہ تو چلی گئی لیکن اس کی یادوں کو نکالنا بہت ہی محال ہے سمیر کو باقی روداد بھی سنا ڈالی۔۔۔
پھر بولا میں آج شام تک واپس آ جاؤں گا بھیا کو کو بولوں گا آپ لوگ نہیں آسکے تو مجھے پھر واپس آنا پڑ گیا ہے
**********************************
امی میری عزت تو بچ گئی ہے لیکن بابا کی صحت چلی گئی ہے ٬یہ سب میری وجہ سے ہوا عائشہ کے آنسو اپنی شدت کے ساتھ رواں تھے امی میں نے بابا کی پگڑی کو زمین بوس نہیں ہونے دیا میں نے اپنی جان پر کھیل کر اپنی عزت بچائی ہے۔۔
امی دیکھیں کیسے اس نے مجھے گردن سے دبوچا ہے لیکن مجھے آپ کی دعاؤں نے بچایا ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز مجھے اس شخص کے شر سے بچا رہی تھی۔۔۔
میری بچی تو ہماری آنکھوں کا تارہ ہے ہمیں تم پر پورا بھروسہ ہے ۔ امی نے اپنے سینے میں لپٹا لیا۔۔۔اور خوب روئیں امی محلے میں تو کسی کو نہیں پتا یا کسی رشتہ دار کو؟؟؟ نہیں ہم نے کسی کو نہیں بتایا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میری بچی واپس آ گئی ہے۔۔۔امی وہ عبداللہ تھابسیلہ احمر کا چاچو جس نے مجھے اغواء کیا تھا ۔۔لیکن اسے منہ کی کھانی پڑی ہے مجھے شک تھا کہ لیکن میں نے اپنی زبان سے کچھ نہیں نکالا میں نہیں چاہتی تھی یہ امیر لوگ الٹا ہمیں ہی بد نام کریں۔۔۔
امی اس نے مجھے نکاح کرنے کو کہا تھا لیکن میں نے صاف انکار کردیا میں کبھی بھی اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہونے دوں گی میں تو کیپٹن مغیث کی امانت ہوں۔۔۔
کیپٹن مغیث کا سن کر امی کے رونے میں مذید تیزی آ گئی۔۔۔
