Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 06)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 06)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
لش لش کرتی مرسیڈیز اے ایم جی فراٹے بھرتی اپنی مخصوص جگہ پہ جا کر رکی ۔۔۔
لمبی ایڑی، کھلے کٹے سلکی بال،ساڑھی کا پلو درست کرتی بچوں کی ماما ہرنی جیسی چال چلتی ٹک ٹک کرتی انکے بینچ کی طرف آئی ۔۔ جو کہ اس کی منتظر تھیں ۔۔
عائشہ نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور ساتھ اپنی امی کا تعارف بھی کروایا ۔ جس کا جواب اکڑی گردن اور متکبر لہجے میں ملا۔۔۔
پھر پوچھا :اچھا تو آپ ہو بسیلہ احمر کی ٹیچر؟؟؟
جی: عائشہ نے دھیرے سے جواب دیا۔۔
تم کیوں پڑھانا چھوڑنا چاہتی ہو جبکہ بچے تم سے کافی حد تک مانوس ہو چکے ہیں ۔۔۔ اگر بات پیسوں کی ہے تو میں تمھارے 5 ہزار اور بڑھا دیتی ہوں ۔ 20 ہزار کے بجائے 25 ہزار دوں گی ۔۔۔۔
جی نہیں بات پیسوں کی نہیں ہے ۔۔ بس میری مجبوری ہے میں آپکے گھر نہیں آ سکتی ۔ ۔ لیکن آپ بچوں کو ہمارے گھر بھیج سکتی ہیں ۔۔۔میں آپ سے اور کم پیسے لوں گی اگر وہ میری طرف آئیں گے انشااللہ ۔۔۔ عائشہ نے تجویز دی ۔۔۔
تم چھوٹے لوگوں کا یہی مسئلہ ہے عزت راس نہیں آتی میں تو اچھے خاصے پیسے دینے کےلئے بھی تیار ہوں اور گھر سے الگ کمرہ بھی دیا ہے اس کے باوجود تمھارے مزاج ہی نہیں مل رہے ۔۔۔
میں آپ سے معذرت خواہ ہوں اور اپنے وعدے کے مطابق میں یہ مہینہ پورا کروں گی، میں اپنی زبان سے پھرنے والوں میں سے نہیں ہوں اور اس دوران آپ کسی اور ٹیچر کا بندوبست کر لیں ۔۔۔میں چلتی ہوں السلام وعلیکم ۔۔۔۔۔۔۔
گیٹ سے باہر نکلتے ہی دل دھاڑیں مار کر رونے کو چاہا لیکن ضبط کا دامن نہ چھوڑا ۔۔۔کیسے لوگ ہیں یہ امی؟؟؟ مال کی حوس نے انکو اندھا کر دیا ہے ، یا اللہ تو ہی آسانی کر اور ہمیں انکے شر سے محفوظ رکھ آمین ۔۔۔
کوئی بات نہیں عائشہ آپکی نیت اچھی ہے لہذا انکو انکے حال پہ چھوڑ دو اور دعا کرو اللہ انکو ہدایت دے۔۔۔
میری بچی بہادر ہے ان معمولی باتوں پہ دل چھوٹا نہیں کرنا !! بالکل بھی نہیں ۔۔۔ جی امی کوشش کروں گی انشااللہ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
میرے ساتھ کیا ہو رہاہے؟؟؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں وہ لڑکی تو میرے حواس پہ سوار ہو چکی ہے ۔۔اس کا معصوم پر نور چہرہ میری نظروں پہ کاری ضربیں لگا رہا ہے ۔میرا تو حساب اس ہارے ہوئے جواری جیسا ہے جو اپنا سب کچھ لٹا کر بے یار و مدد گار سڑکوں پہ دھکے کھانے کے لیے مجبور ہو جاتاہے، ایک تشنگی ہے دل میں جو بارہا کوشش کے بھی مجھے گھائل کیے جا رہی ہے ، مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاوں گا پوری رات کروٹوں میں گزری ہے نیند تو جیسے کوسوں دور جاچکی ہے ۔۔ کیا واقعی مجھے اس” تنبو “والی لڑکی سے محبت ہو گئی ہے ؟؟؟
عبداللہ خود ہی اپنے آپ سے سوال و جواب کر کر کے ہلکان ہو رہا تھا لیکن قرار جیسے اس سے روٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
آج تو لازمی میں اس کے پیچھے جاوءں گا دیکھتا ہوں کتنے پانی میں ہے یہ لڑکی جو خود کو بڑا پاکباز گردانتی ہے ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آ آ آ آ آ آپی زینب مسلسل اپنا گلا پھاڑے جا رہی تھی ۔۔ کیا ہو گیا ہے چھوٹی میں دوسرے جزیرے پہ نہیں ہوں اسی گھر اور اسی کمرےمیں ہوں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تمھاری بےتابیاں کیوں بڑھ رہی ہیں؟!! بس جانے والی ہی ہیں آپ !! رقیہ نے لقمہ دیا ۔۔
مجھے پتا ہے آنٹی جمیلہ آئیں تھیں، امی نے ٹیوشن سے واپسی پہ مجھے بتایا ہے ۔
کیپٹن مغیث کی پوسٹنگ ہو رہی ہے سیاچن اور انکی ادھر سے واپسی پر شادی کی تاریخ طے ہو گی انشااللہ ۔۔۔
تینوں نے با آواز بلند بولا اور کھلکھلا کر ہنسیں ۔۔
اب مجھے پکا یقین ہے ننھی چڑیلوں کو رات پر سکون نیند آئے گی ۔۔
آپی ہمیں تو آجاے گی آ پ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔۔۔چلو دیکھتے ہیں پھر کون جیتتا ہے ؟! کیپٹن مغیث یا پھر عائشہ عبدالشکور؟!
تینوں بہنیں روز سونے سے پہلے اپنی چھوٹی موٹی خوشیوں کو شئیر کرتیں اور دل کھولکر لطف اندوز ہوتیں۔۔۔۔
آپی مجھے لگتا ہے کیپٹن مغیث نے آپکو صبح 5 بجے اٹھا کر اٹھک بیٹھک اور کلابازیاں لگوانی ہیں ۔
وہ کیوں بھئ؟! عائشہ نے پوچھا
ورزش اور اصول کے پابند فوجی جو ہوئے ۔۔۔تینوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔
چلو آپی کی نسبت کی خوشی میں مہندی لگاتے ہیں کیا خیال ہے آپی؟؟ اچھا چلو ٹھیک ہے جلدی سے لگا دو صبح فجر کے لیے بھی اٹھنا ہے ۔۔۔ رقیہ زینب نے کسی دلہن کی طرح دونوں ہاتھوں سمیت دونوں کلائیوں کو مہندی سے سجایا جو کہ عائشہ کی سفید رنگت کو اور بھی نمایاں کر رہا تھا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پورا ایک ہفتہ ہو گیا ہے اس لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے اور وہ اتنے خستہ حال گھر میں رہتی ہے ، باپ اس کا سبزی فروش ہے اور محلے میں مولوی ٹائپ بھی مشہور ہے، بھائی نہیں ہے صرف 3 بہنیں ہیں بوڑھا باپ صبح کا نکلا شام لوٹتا ہے ۔۔۔
میری مشکل تو اور آسان ہو گئی ہے ، نہ مال ہے اور نہ وسائل ہیں۔میرا کیا بگاڑ لیں گے یہ لوگ؟؟!
یار میں صرف ایک دفعہ اس حسن سے اپنی آنکھوں کو سراب کرنا چاہتا ہوں، اس کا جادوئی حسن میری کمزوری بنتا جا رہا ہے ۔۔۔۔
یہ سب کیسے ہو گا سمیر نےتپ کر پوچھا ؟؟؟
میں اسے اغوا کروں گا۔۔۔
کیا ؟؟؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا؟؟؟ ہوش کے ناخن لے ۔
کیسے کرے گا اغوا اور کدھر لے کر جائے گا تو اسے ؟؟؟اپنے فارم ہاوس لے کر جاوں گا اس مغرور حسینہ کو اور تم دونوں میرا ساتھ دو گے ۔۔۔
سمیر نے خشک ہوتے گلے میں تھوگ نگلا ۔ سوچ لے یار بڑا خطرناک کام ہے، یہ جو بھی تو کرتا رہا ہے ماضی میں وہ سب ان لڑکیوں کی رضا مندی سے تھا لیکن یہ لڑکی باپردہ اور مجھے لگتا ہے با کردار بھی ہے بھول جا اسکو اور رہنے دے تو ویسے ہی جنوبی ہو رہا ہے ۔۔۔
سمیر تو کیوں نہیں سمجھتا یار؟! میرے دن رات کا سکون ختم کر دیا ہے اس لڑکی کی ایک جھلک نے۔۔۔
تو اس میں اس بیچاری کا کیا قصور ہے ؟؟؟ تو خود ہانکتا اس کمرے میں گیا تھا اگر نا جاتا تو یہ سب نا ہوتا۔۔
تجھے بڑی ہمدردی ہو رہی ہے؟جیسے وہ تیری پھوپھی کی بیٹی ہے ۔۔۔
نہیں یار پھر بھی تھوڑی بہت انسانیت تو ہونی چاہئے سمیر نے سمجھانے والا انداز اپنایا، دیکھ تیرے پاس مال بھی ہے اور تیری من پسند عورتیں تیرے آگے پیچھے منڈلاتی ہیں، پھر کس لیئے خطرہ مول رہے ہو ؟؟؟
میں تو تمہیں یہی مشورہ دوں گا بالکل ترک کر دے اس خیال کو اور مجھے اس بات میں نہ ڈال اور ظہیر کو تو بھول ہی جا ، وہ ویسے بھی اپنے ابا حضور کو دیکھتے ہی تھر تھر کانپتا ہے ۔۔۔
عبداللہ بولا :میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں
