Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 14)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 14)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
عائشہ نکاح کر لو میرے ساتھ!عبداللہ نے بنا گردن موڑے بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی اس کی نگاہیں موٹروے پر اور کان جواب کے منتظر تھے ۔۔
عائشہ جو پہلے سے جلی کٹی بیٹھی تھی اسکی بات سن کر گنگ ہو گئی، غم سے کانپتی آواز میں بولی تمھیں پتا ہے کہ تم کیا بول رہے ہو؟!
ہاں مجھے پتا ہے میں نے کیا کہا ہے اور میں اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوں اور میں تمھیں شرعی حق سے حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
تمھاری زبان سے لفظ شرعی بالکل زیب نہیں دیتا، گھٹیا انسان اپنی حوس کےلئے شریعت کو استعمال ناکرو، تم اس قابل ہو کہ تم سے میں نکاح کروں؟؟
کیوں؟ میں کوئی لولا لنگڑا ہوں بھینگا ہوں؟! عبداللہ نے ہوا میں تیر پھینکا ۔۔۔۔
سب کچھ ہے تمھارے پاس اگر نہیں ہے تو دین نہیں ہے، اپنے رب کی معرفت نہیں ہے، تمھیں تو جانوروں کی طرح چرنا اور اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرکے سو جانا ہی آتا ہے ، تمھیں تو اپنی زندگی کا مقصد ہی نہیں پتا کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیوں تخلیق کیا ہے ؟
“بیشک اللہ نے جن وانس کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے ” (الذاريات:56)
ہر وہ کام جو اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے وہ عبادت کے زمرے میں آتا ہے، چاہے وہ دعا ہی کیوں نا ہو ایک رب کو اخلاص اور سچے دل سے پکارنا بھی عبادت ہے۔
میں تم سے نکاح کبھی بھی نہیں کروں گی اور ویسے بھی وہ نکاح ہی نہیں ہے جس میں ولی کی شمولیت نا ہو ، وہ تو سراسر زنا ہے ۔۔۔
تم کیا جانو نفس پرست انسان، عائشہ کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔۔ اور ویسے بھی اللہ سبحان تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے ۔۔
“””ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں ۔ یہ (پاکیزہ )لوگ بری ہیں ان سے جو وہ(خبیث لوگ انکی بابت ) کہتے ہیں، ان کےلئے بخشش اور رزق”۔(النور:26)
عبداللہ نہایت تحمل سے عائشہ کی باتیں سن رہا تھا
پھر بولا عائشہ محبت کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے ؟؟
ہاں ہے جرم! جب تم اللہ کی مقرر کردہ حدوں کو توڑو گے تو یہ بہت بڑا جرم ہے ، یہ زنا کاری کا چور دروازہ ہے جسکو تم جیسے آوارہ مزاج لوگ اختیار کرتے ہیں ۔۔۔۔
اچھا واقعی؟عبداللہ نے عائشہ کو اور چڑانے کےلئے اس بات کو تول دیا تو پھر تمھارے نزدیک کونسی محبت حلال ہے ؟!
محبت وہ ہے جو شادی کے بعد ہوتی ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور اس کی بھی تلقین فرمائی ۔۔۔
میں اس طرح کی محبتوں کی قائل نہیں ہوں اور نا ہی مجھے اس طرح کی غلیظ حرکات پسند ہیں ۔۔سب سے زیادہ محبت کے حقدار اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان سے محبت شریعت کے احکامات پہ عمل پیرا ہونا ہے ۔۔
چلو اگر محبت کی اجازت ابھی نہیں دیتی تو نکاح کے بعد تو جائز ہے نا !!عبداللہ نے محبت پہ زور دیا ۔۔
بکواس بند کرو میں نے تمھیں کہا ہے میں تم سے شادی نہیں کروں گی چاہے تم مجھے قتل کر دو۔۔
عائشہ تم بھول رہی ہو اس وقت تم میرے رحم و کرم پہ ہو !
آگئے ہو نا اپنے اصلی رنگوں میں، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہیں ۔۔۔
مت کرو میرے ساتھ اس طرح کی واہیات باتیں، یہ سب باتیں میری جوتی کی نوک پہ سمجھے تم ۔۔۔۔اور مجھے اچھی طرح پتا ہے میں کس کہ رحم و کرم پہ ہوں، تم اپنی خیر مناو یہ نا ہو منہ کی کھانی پڑے ۔۔۔
عبداللہ نے زوردار قہقہہ لگایا، میری زندگی کا سب سے بہترین سفر ہے ، مجھے میرے بھائی نے کبھی اتنا نہیں ڈانٹا جتنا تم نے میری مٹی پلید کر دی ہے ۔۔۔تم ہو ہی اس قابل ، ڈھیٹ اور آوارہ ۔۔۔۔عائشہ تنک کر بولی۔۔۔
ابھی کتنا سفر باقی ہے ؟آدھےگھنٹے میں ہم شہر میں داخل ہو جائیں گے عبداللہ نے جواب دیا ۔۔۔عائشہ نے دل میں انشاءاللہ بولا ۔۔اس کے جسم کا ایک ایک حصہ درد سے چور تھا ٬شدیدخوف کی کیفیت اس کے اعصاب کو شل کیے جا رہی تھی لیکن وہ کسی بھی لحاظ سے اپنی کمزوری اس کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔عائشہ تمہاری منزل تو بہت قریب آ رہی ہے لہذا بندوق کو اپنی بغل سے نکال کر نیچے رکھ دو مجھ سے زیادہ تو میری بندوق خوش قسمت ہے جو سارا راستہ تمھارے ہاتھوں میں رہی ہے۔۔۔
عائشہ نے کوئی جواب نہ دیا٬اپنا محلہ بہت قریب تھا٬آنسوں چھم چھم برسنا شروع ہو گئے ٬گلاخشک ہو رہا تھا ٬ایک ایک منٹ کا گزرنا دشوار ہو رہا تھا۔۔۔
اپنی آواز کو قابو کرتے ہوئے عبداللہ کو بولا تم نے جہاں سے مجھے اٹھایا تھا وہیں مجھے اتار دو۔۔۔ میں نہیں چاہتی میرے والدین کی جگ ہنسائی ہو پورے محلے میں اور لوگ باتیں بنائیں کہ جوان بیٹی کسی کے ساتھ رات گزار کے آئی ہے۔۔۔۔۔جیسے تمھاری مرضی ہے عبداللہ نے ٹوٹے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
جانے سے پہلے ایک گزارش ہے کہ نکاح والی بات پہ غور کرنا٬میں بھابھی کو تمھاری طرف بھیجوں گا۔۔۔
میں نے تمہیں ایک دفع انکار کر دیا ہے تمھیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟؟؟میں تم سے شادی نہیں کروں گی میرا رشتہ طے ہو چکا ہے اور چند مہینوں میں میری شادی ہو جائے گی انشاءاللہ۔۔۔
عبداللہ نے اپنی رکتی سانس کو باہر کھینچا۔۔اور بولا٬ آگئی ہے میری عائشہ کی گلی۔۔۔ بکواس بند کرو آیندہ اگر تم مجھے نظر آئے تو انجام کے زمہ دار تم خود ہو گے۔۔۔
دروازہ کھولو گاڑی کا آبھی اور اسی وقت ٬ عائشہ چلائی جیسے ہی عبداللہ نے بریک پہ پاؤں رکھا۔۔۔
عائشہ آخری التجاء ہے سن لو پھر تم آزاد ہو٬ عبداللہ نے گردن موڑ کر اس کو مخاطب کیا تو عائشہ نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔ سنو میرا اور تمھارا رب ایک ہی ہے ٬اگر اس رب نے تمھاری دعائیں قبول کر کہ تمھاری عصمت کو محفوظ رکھا ہے تو یہی رب میری بھی دعائیں قبول کر سکتا ہے ٬ تم نے ہی کہا تھا کہ دعا کرنا بھی عبادت ہے تو میری یہ والی عبادت آج سے ہی شروع ہو جائے گی۔۔۔
اس کی باتیں سن کر عائشہ کا دل گھبرا رہا تھا میرے ساتھ اس طرح کی باتیں نہ کرو مجھے جانے دو پلیز۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی عائشہ اپنا رونا نہ روک پائی۔۔۔
عائشہ میں اپنے وعدے کے مطابق تمھیں واپس لے آیا ہوں اور اب بھی تم سے وعدہ کرتا ہوں کبھی تمھارے راستے میں نہیں آؤں گا لیکن تم مجھے میری محبت سے نہیں روک سکتی۔۔۔
میں تمہیں اپنی دعاؤں میں مانگوں گا۔۔۔
پہلے مجھے تمھارے چہرے سے محبت ہوئی تھی جو صرف میں نے چند سیکنڈ کے لیے دیکھا تھا لیکن اب مجھے تمھارے کردار سے محبت ہو گئی ہے۔ تم جب بھی مجھے پکارو گی مجھے اپنا منتظر پاؤ گی٬ خوش قسمت ہیں تمھارے والدین جنکی باکردار بیٹی جو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہوتی۔۔ میں کبھی بھی تمھاری عزت پہ حرف نہیں آنے دوں گا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔
میرے بھائی اور بھابھی بالکل بے قصور ہیں وہ اس سارے معاملے سے بے خبر ہیں۔۔۔ یہ سب میرا کیا دھرا ہے
میں ہار گیا ہوں اور تم جیت گئ ہو۔۔۔ کچھ تو جواب دو عائشہ تمھاری خاموشی مجھے کاٹ رہی ہے۔۔۔
اللہ کا واسطہ ہے گاڑی کا دروازہ کھولو مجھے گھر جانا ہے۔
عبداللہ نے گاڑی سے نکل کر عائشہ کا دروازہ کھولا اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔ جانے سے پہلے شکریہ نہیں بولو گی؟؟؟
تمھاری بندوق پچھلی سیٹ پہ رکھ دی ہے۔۔ یہ کہہ کر عائشہ نے اپنی گلی کی طرف دوڑ لگا دی اور عبداللہ اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
