Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 16)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 16)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
کیپٹن مغیث کا نام سن کر امی کے رونے میں مزید تیزی آگئی امی مجھے معاف کر دیں میری وجہ سے آپ تکلیف سے گزر رہی ہیں میں نے تو کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہو جائے گا نہ میری بچی٬میری گڑیا تیرا کوئی قصور نہیں ہے یہ بس اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ہمیں تو ہر حال میں اس کا شکر گزار بننا ہے مصیبت کے وقت صبر میں اجر و ثواب ہے اوردرجات کی بلندی ہے میری جان۔۔۔۔
کل رات کو ہی مغیث نے سیاچین میں دشمنوں سے لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کیا ہے اس کے گھر والوں نے فجر کے وقت اطلاع دی ہے جب تیرے بابا فجر کی نماز کے لئے مسجد گئے تھے عائشہ کی تو جان مٹھی میں جیسے آگئی۔اپنی ماں کے ہاتھ کی گرفت کو ڈھیلا کردیا ایسے لگ رہا تھا جیسے زمین و آسمان گھوم رہے ہیں دماغ ماؤف ہو گیا٬ ماں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی امی یہ سب بہت تکلیف دہ ہے۔
اللہ میرے لئے آسانی کر ٬مجھے صبر دے.!!!!
“”اے اللہ میری پریشانی اورغم اور عاجزی اور سستی اور کنجوسی اور بزدلی اور قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ کی طلبگار ہوں”” صحیح بخآری:2329
عائشہ نے مسنون دعا کا ورد شروع کردیا صبر کر میری بچی میری جان اللہ انکو ہی آزماتا ہے جن کو پیار کرتا ہے٬ تو ڈٹی رہ میری بچی۔۔یہ محض وقتی ہے مومن کے لیے دنیا تو ایک قید خانہ ہے٬ ہماری اصل منزل تو جنت ہے جس کے لئے ہم نے اپنا رخت سفر تیار کرنا ہے دونوں ماں بیٹی کی آنکھیں برس رہی تھیں لیکن کلمہ حق سے گریز نہ کیا ٬اپنے رب کو ہی پُکارا جو اکیلا ہی بگڑی بنانے والا ہے نرس نے اندر جانے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔
عائشہ نے اپنے بوڑھے باپ کو نالیوں میں جکڑے پایا تو دل تڑپ اٹھا بابا کے ہاتھوں کو ہلکے سے بوسہ دیا نرس نے بات چیت نہ کرنے سے منع کردیا بابا کب آنکھیں کھولیں گے ؟؟؟
عائشہ نے نرس سے پوچھا۔۔۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا بس دعا کریں ٬نرس نے باہر آ کر جواب دیا ۔۔۔
عبداللہ ہسپتال والوں کے ساتھ رابطے میں تھا ہر ایک بات سے با خبر تھا۔۔۔فارم ہاؤس کے نوکر چاکر سب کو واپس بلا لیا اور خود شہر واپسی کی ٹھانی۔۔۔عائشہ کی ایک ایک بات کانوں میں گونج رہی تھی ٬فون نکال کر اس میں محفوظ ریکارڈنگ چلا دی۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی آنسوؤں نے اس کے گالوں پہ لڑکنا شروع کر دیا ٬عبداللہ جیسا مضبوط مرد جو دوسروں کو ناکوں چنے چبواتا تھا آج خود بے بس ہو گیا تھا
باہر ڈھلتے سورج کا نظارہ اس کو اور بھی دکھی کئے جا رہا تھا اس کے دل کا سکون اطمنان کوسوں دور چلا گیا سروس سٹیشن پر گاڑی روک کر نمازکا پوچھا ۔۔ کتنے سالوں بعد آج وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہتا تھا اپنی تمام کوتاہیوں اور برائیوں کی سچے دل کے ساتھ توبہ کرنا چاہتا تھا مغرب کی ادائیگی کے بعد گھر کی راہ لی۔۔۔
ہسپتال سے فون آیا سر مریض کی حالت بہت خراب ہے ہوسکتا ہے ہمیں چھوٹا سا آپریشن کرنا پڑے جس کے لیے ہمیں مزید رقم درکار ہے …..میں دو گھنٹے میں جتنی رقم آپ کو چاہیے پہنچاتا ہوں آپ بس مریض کو بچائیں۔۔عبداللہ پچھتاووں کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا ظہیر سمیر کو فون کرکے اس نئی صورت حال سے آگاہ کیا ہے کہ جتنی رقم درکار ہے پہنچائیں۔۔۔میں شہر پہنچتے ہی لوٹا دوں گا۔۔ رقم تو پہنچ گئی ۔۔۔ لیکن اللہ کی رضا کچھ اور تھی عائشہ کے بابا اللہ کو پیارے ہوگئے ۔۔۔ تمام رشتہ داروں کو بیماری کی اطلاع پہنچا دی لیکن سب کو پتا تھا انکو پیسوں کی ضرورت ہے تو انہوں نے بے حسی کی تمام حدیں پار کر دیں ۔۔۔
عائشہ مرے مرے قدموں کے ساتھ پیسوں کا پوچھنے کے لیے معلوماتی ڈیسک پہ آئی تو انہوں نے کہا کہ تمام اخراجات جمع ہوچکے ہیں عائشہ کے اصرار کے باوجود بھی انہوں نے معذرت کر لی اور اسکو کچھ نا بتایا محلے والوں نے کفن دفن کا انتظام کیا٬٬٬ بابا کی موت پر رشتہ داروں نے تھوڑی بہت دنیا داری دکھا دی۔۔۔۔
عائشہ کے بابا منوں مٹی تلے دفن ہو چکے تھے چاروں ماں بیٹی تن تنہا دنیائے فانی میں آزمائش سے دوچار تھیں وہ گھر جس میں تینوں بہنوں کی کھنکھناتی ہنسی اور چٹکلے سب کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر تے تھے صفِ ماتم بچھ چکا تھا صرف ایک رات نے سب کی زندگی کی کایا پلٹ دی تھی۔۔۔عائشہ نے اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال کر تہیہ کر لیا تھا کے اپنی ماں اور بہنوں کو ایک کانٹا بھی چھننے نہ دے گی۔۔ سب کی ڈھارس بندھا رہی تھی لیکن خود کرچی کرچی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ارے عبداللہ تم اتنی جلدی آگے فام ہاوس سے ؟؟؟ جی بھیا!!!
کیا ہوگیا ہے تمہارا چہرہ کتنا اترا ہوا ہے اور ناک بھی کتنی سوجھی ہوئ لگ رہی ہے جی بھیا بس ایسےہی ٹکر لگ گئی تھی۔۔۔
لیکن میں بالکل ٹھیک ہوں آج پارٹی وارٹی کا کوئی ارادہ نہیں میرے لاڈلے کا ؟؟؟؟نہیں بھائی آج میں گھر پہ ہی ہوں ۔۔۔ کیوں آپ کہیں جا رہے ہیں؟؟ ہاں بس دعوت پہ جانا ہے تم بسیلہ احمر کو زرا دیکھ لینا ۔۔۔آپ بے فکر ہو جائیں ہماری واپسی تھوڑی دیر میں ہو گئ بھابھی نے لقمہ دیا کوئی بات نہیں بھابھی آپ لوگ بے فکر ہو کر جائیں میں ادھر ہی بیٹھا ہوں ۔۔ بھیا بھابھی کے لیے یہ نیا فرمابرداری والا رویہ ہضم کرنے میں تھوڑی دقت ہو رہی تھی بھابھی سے رہا نہ گیا عبداللہ تم کتنے بدل گئے ہو ؟؟؟؟ عبد اللہ بس پھیکی ہنسی ہنسا ۔۔۔
گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی غیر معمولی شورنے اسے سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔کیا ہوگا کیوں چلا رہی ہو؟؟؟ صاحب جی ظلم ہو گیا آخر ہو کیا گیا ؟؟؟بچے تو ٹھیک ہیں نا ؟؟؟
وہ تو سورہے ہیں صاحب جی!!! تو پھر بتاؤ؟؟؟ صاحب آپ نے فون نہیں اٹھایا تو اسپتال والوں نے گھر کے نمبر پہ فون کر کے اطلاع دی کے بڑے صاحب اور بیگم صاحبہ کار حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔۔۔
کیا کہہ رہی ہوتم ؟؟دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟؟؟
صاحب جی آپ ہسپتال والوں کو فون کر کے تصدیق کر لیں۔۔۔
آج تو بھائی بھابی کو گئے تین دن گزر گئے بسیلہ احمر کو سنبھالنا ٬ باقی کاروباری معاملات ٬ اور لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ۔۔۔۔۔۔
عبداللہ بالکل تن تنہا رہ گیا تھا والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے بھائی نےباپ بن کرپالا۔۔ اس کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا ۔۔۔روز رات عائشہ کی باتیں اس کے دماغ میں گردش کرتیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔ بار بار یہ جملہ اس کے کانوں سے ٹکراتا۔۔۔۔
یا اللہ مجھے معاف کردے میں نے بہت بڑا ظلم کیا میں نے اس پاکیزہ لڑکی کو اذیت سے دوچار کیا ۔۔۔میرے مالک مجھے اپنے دین کی سمجھ اور عمل کی توفیق دے اور اس لڑکی کے لئے آسانیاں پیدا کر آمین۔۔۔۔شراب نوشی سگریٹ نوشی موسیقی کا دلدادہ عبداللہ غم کی تصویر بن گیا٬وہ اللہ کی گرفت میں آچکا تھا۔۔۔۔
دن بھر بچوں کے سوال جواب عائشہ کا رونا اور اس کی التجائیں اسے سونے نہ دیتی۔۔۔
چاچو آپ کو پتا ہے کہ ٹیچر عائشہ کیا کہتی تھی ؟ نہیں مجھے تو نہیں پتہ آپ بتاؤں ؟وہ کہتی تھی مصیبت کے وقت اللہ سے استغفار کرنا چاہئے یہ ہمارے گناہ ہوتے ہیں جو ہمیں بے چین رکھتے ہیں آپ کی ٹیچر تو ٹھیک کہتی تھی۔۔۔ چاچو آپکوپتا ہے کہ وہ آپ کی وجہ سے ہمارے گھر نہیں آتیں۔۔
یاد ہے نا جب آپ کمرے میں آ گئے تھے تو وہ کافی غمگین ہو گئی تھی لیکن پھر بھی وہ ہمیں پڑھاتی رہی تھی لیکن ہم نے دیکھا تھا کے ان کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے لیکن وہ ہم سے چھپ کر صاف کر لیتی تھیں ۔۔۔۔
عبداللہ نے دونوں کو اپنی باہوں میں سمیٹا اور بولا میں آپ کو ٹیچر عائشہ کی طرح پڑاھوں گا۔۔نہیں چاچو آپ ٹیچر عائشہ جیسے تو نہیں ہیں۔۔۔۔
میں آپکو ٹیچر عائشہ سے بھی بہتر ٹیچر ڈھونڈ کے دوں گا۔۔۔ نہیں ہمیں وہی ٹیچر عائشہ ہی چاہیے۔۔بچوں نے زد کی ۔۔ یہ تو بہت مشکل ہے۔۔۔
ہم تو دعا کریں گے کہ ہمیں ٹیچر عائشہ ہی پڑھائیں وہ ہمیں بہت پیار کرتی تھی وہ بہت اچھی اچھی باتیں بتاتی تھی جو آپ اور ماما نے بھی کبھی نہیں بتائی۔۔۔
عبداللہ کے دل میں ایک ہوک اٹھی۔۔۔
امی اب ہم باہر نہیں جائیں گے میں آپ کے ساتھ مل کر سلائی کا کام کروں گی ساتھ ساتھ بچوں کو گھر میں ہی پڑھاؤں گی انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے کوئ بھی فکر مند نہ ہو ۔۔۔۔
سبین تم اچانک کدھر چلی گئی تھی اندر داخل ہوتے ہی عائشہ نے اسکو گلے لگا ۔۔۔۔۔بس میری باجی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی تھی تو مجھے کراچی جانا پڑگیا تھا ۔۔۔تم سناؤ ؟ ہاں بس سب اللہ کا شکر ہے۔۔ تمھارے بابا کا سن کر کافی افسوس ہوا ہے۔ ہاں بس سبین جیسے اللہ کی رضا مندی الحمدللہ۔۔۔
بسیلہ احمر تمھیں بہت یاد کرتے ہیں۔تم نے کیوں چھوڑ دیا ان کو پڑھانا وہ ہر وقت تمہیں یاد کرتے ہیں ۔۔۔۔ تمھاری سکھائی ہوئی باتیں دھراتے رہتے ہیں اور جو بھی ملتا ہے اسکو بڑے فخر سے بتاتے ہیں۔۔۔۔
میں ابھی انکی طرف سے ہی آ رہی ہوں۔۔تمہیں پتا ہے انکے پیرنٹس کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا ہے ….کیا ؟؟؟؟؟مجھے تو نہیں پتہ چلا تم جاتی جو نہیں ہو انکی طرف سبین نے بولا
عائشہ نے شکستہ لہجے میں جواب دیا ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو ۔۔۔۔ مجھے بہت افسوس ہوا ہے انکے والدین کا سن کر ۔۔۔
انہوں نے عبداللہ کو دن رات ستایا ہوا ہے ٹیچر عائشہ کو بلاؤ یا ہمیں ان کے گھر چھوڑ کر آ ؤ ۔۔۔
ویسے تم نے انکو پڑھانا کیوں چھوڑ دیا ؟؟ وہ تم سے بہت مانوس ہو گئے ہیں۔۔۔ بس امی کو گھر میں میری مدد کی ضرورت تھی تو چھوڑ دیا ۔۔ عائشہ نے اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی
