Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 09)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

میرا رب مجھے بچائے گا(حسبي الله و نعم الوكيل )بےشک میرے لیے میرا رب ہی کافی ہے “۔۔ عائشہ مسلسل اس کا ورد کئے جا رہی تھی ۔۔۔

دیکھو لڑکی حقیقت کو تسلیم کر لو تم اپنے گھر سے 2 سے 3 گھنٹے کی مسافت جتنا دور ہو چکی ہو ، یہاں پہ پولیس کا پہنچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے، قریبی گاؤں بھی ایک آدھ میل کی مسافت پہ ہے ، میرے سارے نوکر چاکر جا چکے ہیں اب تم میرے رحم و کرم پہ ہو ۔۔۔

(أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق )صحیح مسلم،مسند احمد،للنسائ ۔۔۔””میں اللہ کےکامل کلمات کے ساتھ ایسی تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتی ہوں جنہیں اس نے پیدا کیا ہے ۔””

عائشہ نے اونچا اونچا پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔

عبداللہ چلایا میں کہہ رہا ہوں بند کرو یہ ڈرامے بازی ورنہ وہ دانت پیس رہا تھا ۔۔

ورنہ کیا بگاڑ لو گے میرا ؟؟؟(إن الحكم إلا لله )56″اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے ۔”

تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو عبداللہ بولا ۔۔

مجھے تم اغوا کر کے لائے ہو اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے اور چاہتے ہو میں تمھاری عزت کروں، تمھارے اشاروں پہ ناچوں، تم نے میرے باپ کی پگڑی اچھالی ہے میری ماں کو اپنے غنڈے سے مروایا ہے اور میری عصمت کو تار تار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔۔

دیکھو عائشہ مجھے سمجھنے کی کوشش کرو تمھاری ایک جھلک نے میرے ہوش و حواس چھین لئے تھے ، میرا خود پہ کوئی اختیار نہیں رہا ہے ۔۔

فصلی بٹیرے جہاں پہ پکی فصل نظر آئی چونچ مارنا شروع کر دی لیکن اس دفعہ تمہاری چونچ ٹوٹے گی فصل کا ایک دانہ بھی تمھارے نصیب میں نہیں ہوگا میری رگوں میں ایک غیرت مند باپ کا خون گردش کرتا ہے، میری جان جائے پر میری عصمت پر ہر میلی آنکھ حرام ہے ۔۔۔

سمجھتی کیا ہو اپنےآپ کو؟ عبداللہ نے فورا لپک کر عائشہ کو گردن سے دبوچ لیا ، اسکی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا، 2 ٹکے کی لڑکی اسکی توہین کر رہی تھی اسکے سامنے اور اسکے ہی گھر ۔۔۔

عائشہ پانی سے نکلی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی اسکو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی، مزاحمت میں اپنے ہاتھوں سے عبداللہ کے چہرے کو پیٹنا شروع کیا، اسکا حال پنجرے میں قید پرندے جیسا ہو رہا تھا جو صرف پھڑ پھڑا سکتا ہے ۔۔۔ عائشہ نے اپنی طاقت سے بڑھ کر اسکی ناک پہ مکا مارا جس سے اس کی ناک سے خون پھوٹ پڑا ۔۔اس نے اپنی گرفت ڈھیلی کر دی ۔۔۔ اسکی ناک سے خون ٹپ ٹپ فرش پر گرنا شروع ہو گیا ۔۔

عائشہ کو چھوڑ کر وہ فورا کمرے سے نکل گیا ۔۔عائشہ نے موقع غنیمت پاکر دروازے کی طرف بجلی کی تیزی سے بڑھی اور کمرے کو اندر سے کنڈی چڑھا دی اور خود دروازے کے سامنے فرش پہ بیٹھ گئی لیکن شاید یہ اطمینان بخش نہیں تھا اس نے کمرے میں پڑے دبیز صوفے کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی ساتھ ساتھ دعائیہ کلمات کا ورد کر رہی تھی ۔۔۔

(الهم لا سهل إلا ما جعلته سهلا وأنت تجعل الحزن إذا شئت سهلا )ابن حبان :1974و سندہ حسن۔۔۔”اے اللہ کوئی کام نہیں آسان ہے مگر جسے تو آسان کر دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل کو آسان بنا دیتا ہے” ۔۔۔۔

(لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين )الانبیاء :87،88 ۔۔”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے ، بیشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں ۔”

اللہ کی مدد سے وہ صوفے کو دھکیل کر دروازے تک لانے میں کامیاب ہو گئی پھر میز کو بھی گھسیٹ کر صوفے کے ساتھ جوڑ دیا تاکہ اگر وہ دروازہ توڑنے کی کوشش کرے تو اس کے لئے آسانی نہ ہو ۔۔۔

عبداللہ مسلسل چلا رہا تھا اور دھمکیاں دے رہا تھا دروازہ کھول دو ورنہ مار دی جاوء گی ۔لیکن عائشہ نے ایک رب پہ توکل کر کے اسباب کی تلاش شروع کر دی، اب یہ کمرہ اس کے لئے وقتی پناہ گاہ تھا جس سے نکلنے کے لئے اس کو کوئی حل ڈھونڈنا تھا ۔۔۔

عبداللہ دروازے کے باہر پیچ وتاب کھا رہا تھا ناک کافی حد تک سوجھ گئی تھی اور وقفے وقفے سے خون بھی رس رہا تھا، خون سے رمال پورا گیلا ہو گیا تھا، غصے سے وہ اپنی مٹھیاں بینچ کے رہ گیا ۔۔۔۔

بادل پھر سے گرجا ، بجلی کا کڑکا اس کے فارم ہاوس کے درو دیوار ہلانے کےلئے کافی تھا، چھم چھم بارش کا شور اسکو اور ہی بے چین کئے جا رہا تھا ۔۔۔

کیسی ڈھیٹ لڑکی ہے لگتا ہے کمانڈوز کے ساتھ رہ چکی ہے عبداللہ کو دو ٹکے کی لڑکی سے پٹ جانے کا غم کھائے جا رہا تھا، بھلا مجھے کیا ضرورت تھی باہر آنے کی ؟ادھر ہی بستر کی چادر سے ناک صاف کر لیتا، میری عقل پہ تو پتھر پڑ گئے، عبداللہ کو شدید پچھتاوا تھا۔۔۔

فارم ہاوس میں خاموشی کا راج، سوائے بارش کی رم جھم کے، چاروں طرف دل دھلا دینے والا سناٹا ۔۔۔

دروازہ توڑنا بھی جان جوکھوں میں ڈالنے کے برابر تھا، 4 سے 5 مرد ہی اس کو مل کر توڑ سکتے تھے یا پھر کوئی الیکٹرانک ڈرل جسکا دستیاب ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی تھا ۔۔۔۔۔چار و ناچار ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھ گیا ۔

عائشہ نے خوب رو دھو کر کھڑکی کی طرف جانے کا سوچا ہی تھا کہ دروازہ پھر سے دھڑ دھڑ کرنے لگا، شدید خوف کی لہر پورے جسم میں سرایت کر گئی اور بھاگ کر صوفے کے اوپر ہی بیٹھ گئی ۔۔ 5 منٹ کی خاموشی کے بعد نظر کمرے کے دوسرے دروازے پہ پڑی تو چہرے کا رنگ زرد ہو گیا جیسے کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو لیکن ہمت کر کے تیزی سے آسکی بھی باہر سے کنڈی لگا دی، چھوٹے سوراخ سے اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن تاریکی میں کچھ خاص نہ دیکھ پائی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *