Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 07)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

میرا فیصلہ اٹل ہے!عبداللہ کو جو چیز پسند آ جائے وہ اس کی ہو کر رہتی ہے ۔۔۔

لیکن یار وہ کوئی چیز نہیں ہے ایک جیتی جاگتی انسان ہے،تو کیوں اپنے ساتھ ساتھ اسکے اوپر بھی ظلم کرنا چاہتا ہے؟ سمیر تو کب سے مولانا بن گیا ہے ؟ عبداللہ نے پوچھا

مانا کہ میں نیک انسان نہیں ہوں لیکن یار سوچ لے بار بار، یہ سودا تیرے گلے بھی پڑھ سکتا ہے ۔۔۔

یہ نا ہو لینے کے دینے پڑھ جائیں ۔۔ سمیر نے آخری حربہ بھی آزما لیا آخر کرسی سے اٹھتے ہی کمرے سے نکل جانے میں عافیت جانی ۔۔۔۔

عبداللہ نے پیچھے سے ہانک لگائی عبداللہ اپنے دل کی ہی سنتا ہے سمیر! سودا چاہے گھاٹے کا ہی ہو ۔۔۔

سمیر نے پیچھے مڑ کر افسوس میں صرف گردن ہلانے پہ اکتفا کیا اور فورا نکل گیا ۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

آج خیریت تو ہے ؟ ہمارا لاڈلا بھائی ہمارے انتظار میں گھر پہ ہی موجود ہے اور وہ بھی کھانے کی میز پر واہ اوہ کیا بات ہے ۔۔ بیگم آج سورج مشرق سے ہی نکلا تھا ہمارے عبداللہ کا ؟! جی جی ہمارا دیور سمجھ دار اور ذمہ دار ہوتا جا رہا ہے آج تو بسیلہ احمر کو پڑھائی میں بھی مدد کی ہے ۔ کل سے انکی ٹیچر جو جا رہی ہے تو عبداللہ ان کی یہ ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہے ۔۔

بیگم مجھے جلدی سے چٹکی کاٹو مجھے تو نا اپنی آنکھوں پہ اور نا اپنے کانوں پہ یقین آ رہا ہے ۔بڑے بھیا شدید حیرت کا شکار تھے جبکہ عبداللہ ہلکے سے مسکرا رہا تھا۔۔۔

آج کیا تمھارے سعادت مند دوست بھی چھٹی پر ہیں؟؟نہیں بھائی وہ تو اپنے معمول کے مطابق چل رہے ہیں ۔۔بس میں کچھ سوچ رہا تھا میں کچھ دنوں کے لئے فارم ہاوس جانا چاہتا ہوں ۔۔

فصلوں اور کسانوں کی بھی دیکھ بھال ہو جائے گی اور ساتھ ساتھ شکار کا بھی شوق پورا کر لوں گا ۔۔

عبداللہ یار اب تو تم چٹکی کاٹو، تم حقیقت میں یہ سب بول رہے ہو؟! میرا اتنا فرمانبدار بھائی اتنا ذمہ دار کب سے ہو گیاہے؟!

ایسا کرو ساتھ بسیلہ احمر کو بھی لے جاو ء انکی بھی تفریح ہو جائے گی دو چار دنوں تک ہم بھی آ جائیں گے ویسے بھی صبح شام کام ہی اعصاب پہ سوار رہتا ہے ۔۔۔

نہیں نہیں بھائی میں اپنے دوستوں کے ساتھ جانا چاہتا ہوں اور پھر شکار کے لئے بسیلہ احمر کو لے کر جانا سیف نہیں ہے ۔۔۔بس میں آپکی پجیرو 4×4 لے کر جانا چاہتا ہوں ۔۔۔

اچھا بھئی جیسے ہمارے لاڈلا چاہتا ہے بس ذرا اپنا دھیان رکھنا، اور یہ کچھ پیسے بھی رکھ لو اور چاہیئے ہوئے تو میرا کارڈ ساتھ لے لو ۔۔ تھینک یو سو مچ بھیا ۔۔۔۔عبداللہ جوش سے بولا ۔۔۔۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گیٹ سے نکلتے ہی عائشہ نے لمبی سانس کھینچی اور الحمدللہ بولا ۔۔

امی آپ زیادہ دیر سے تو انتظار تو نہیں تھیں کر رہی؟؟نہیں بس 2 منٹ پہلے ہی آئ ہوں ۔۔امی نے بتایا ۔۔۔

امی اللہ تعالی کا شکر ہے کہ میں نے اپنے کہنے کے مطابق یہ مہینہ مکمل کر لیا ہے ۔۔ بسیلہ احمر کافی اداس تھے لیکن آپ تو جانتی ہیں کہ انکے چاچے نے کیا کیا تھا،مجھے اس پر کوئی اعتبار نہیں رہا کیا پتا اگر جاتی رہتی تو وہ اس سے بڑھ کر کوئی اور اوچھی حرکت کرتا تو میں نے سوچا علاج سے بہتر احتیاط ہے ۔۔۔۔

ہاں عائش میری بچی اللہ تعالی تمھارا نصیب اچھا کرے اور میری بچی کو ہر قسم کے شر سے بچائے آمین، اب تو میری بچی مغیث کی امانت ہے ہمارے پاس، جیسے ہی اسکی واپسی ہوگی فورا سادگی سے نکاح طے کرنا ہے انشااللہ ۔۔۔

عائشہ کے دل نے سرشار ہو کر ہلکی سی انگڑائی لی ۔۔۔۔۔

بڑی سڑک سے اترنے کے بعد کچے رستے کی طرف بڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ پیچھے سے گاڑی ان سے 3 فٹ کے فاصلے پہ رکی جس پہ دونوں ماں بیٹی ہڑبڑا کر مڑیں ۔اسی لمے گاڑی سے ہٹا کٹا شخص ماسک اور دستانے چڑھائے انکے اوپر بندوق تان چکا تھا اور بولا تم سے ماں کونسی ہے اور بیٹی کونسی ہے ؟؟؟ دونوں ماں بیٹی شرعی حجاب میں ملبوس تھیں ۔۔۔

کو کو کو کون ہو تم اور ہم سے کیا چاہتے ہو؟؟؟ امی نے خشک گلے سے بمشکل آواز نکالی۔۔۔

میں نے جو پوچھا ہے اسکا جواب دو، ورنہ گولی تمھاری کھوپڑی اڑا دے گی۔۔۔ عائشہ نے مضبوطی سے ماں کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جو کہ تھر تھر کانپ بھی رہی تھی ۔۔

امی نے فورا کہا میں ہوں ماں اور یہ میری بیٹی ہے ۔۔۔ ڈالو بیٹی کو گاڑی میں ورنہ میرے پاس دوسرا رستہ بھی ہے ، دیو قامت شخص دھاڑا ۔۔۔۔

اللہ کا واسطہ ہے ہمیں جانے دو تم جو بھی ہو تمھاری کیا دشمنی ہے ہمارے ساتھ؟!اور خبردار میری بیٹی کو ہاتھ بھی لگایا گھٹیا انسان ۔۔ امی چلا رہیں تھیں ۔۔

ظالم نے فورا بندوق کا بٹ مارا اور نسیم بیگم اپنے حواس کھو کر زمین بوس ہو گئی ۔۔

عائشہ شدید صدمے سے نڈھال ماں کو اٹھا رہی تھی کہ ظالم شخص نے رمال سنگھا کر بلا تاخیر گاڑی میں ڈال لیا ۔۔۔

یہ لو صاحب تمھارا کام تو ہو گیا ہے، مال نکالو میرا بھی اور اس پولیس والے کا بھی جس نے بعد کے معاملات کو سنبھالنا ہے ۔۔۔۔

ہاں ہاں ابھی دیتا ہوں گاڑی کسی محفوظ جگہ پہ پہنچنے دو ۔۔ گاڑی آبادی سے نکل کر ویرانے کی طرف رواں دواں تھی تو عبداللہ نے کرائے کے غنڈے کو بولا 50 ہزار تمھارے اور 50 ہزار پولیس والے کو پہنچا دنیا اور سنو تمھاری شکل دوبارہ نظر نا آئے اور بندوق گاڑی میں ہی چھوڑنے کا اشارہ کیا۔۔۔

غنڈہ ماسک اتارتے ہوئے بولا صاحب یہ لڑکی 2 سے 4 گھنٹے تک بے ہوش رہے گی لہذا اس سے پہلے پہلے اس کو ٹھکانے لگا لو ۔۔ صاحب دوائی ضرورت سے دو گنا زیادہ استعمال کی ہے ۔۔۔

ہاں ہاں ٹھیک ہے عبداللہ عجلت میں بولا ۔۔۔

اس کے چہرے سے نقاب اتار دوں یا ایسے ہی رہنے دوں؟؟

نہیں نہیں رہنے دو ایسے ہی اور رفو چکر ہو جاو اس علاقے سے !

صاحب پریشان نا ہوں ہم اپنا کام پوری صفائی سے کرتے ہیں آیندہ بھی کوئی ضرورت پڑی تو خادم حاضر ہے ۔۔۔

ہاں ہاں ٹھیک ہے تم جاوء ۔ ۔ عبداللہ نے اس سے جان چھڑانی چاہی ۔۔۔

جی ٹی روڈ سے گاڑی موٹر وے پر آتے ہی اس نے 120 گھنٹہ فی میل کی رفتار پہ گاڑی کو دوڑانا شروع کر دیا ۔۔۔۔

بار بار گردن موڑ کر بے ہوش و حواس پڑی عائشہ کو دیکھتا اور وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے ایک لمحہ کی تاخیر نہیں چاہتا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *