Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 04)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

بچوں کے گھر کے قریب ہی تھی کہ پیچھے سے ٹائر کی چرچراہٹ سنائ دی مڑ کے دیکھا ہی تھا کہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور دھڑام سے زمین بوس ہو گئی ۔۔

آنکھوں کے سامنے تارے ٹمٹانے لگے کچھ دیر کے لئے سمجھ سے باہر تھا کہ ہو کیا گیاہے؟ بحر حال ابھی ہمت کر کے اٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ پیچھے سے سلواتیں سنائ دیں ۔۔۔

کوئی حالات کا ستایا ہوا ساری بھڑاس اسکے اوپر نکالنے کا تحیہ کر چکا تھا ۔۔۔

او بی بی اگر ڈھنگ سے چل نہیں سکتی تو اتنا بڑا ” تنبو ” پہننے کی کیا پڑی ہے ؟!

اس جگ ہنسائی پہ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے لیکن خود پہ ضبط کر کے اٹھی اور بہت سوچ کر مخاطب کو کرارا جواب دینے کا سوچا لیکن عافیت خاموشی میں ہی جانی اور اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہو گئی ۔۔۔

ابھی گیٹ کے باہر ہی تھی کہ وہی بداخلاق انسان ہارن پہ ہارن بجا رہا تھا، بدحواس ہوتے چوکیدار نے گیٹ کے دونوں پاٹ کھول دیئے، گاڑی فراٹے بھرتی وسیع لان کے ایک کونے میں رک گئی ۔۔۔

چوکیدار نے عائشہ کو دیکھ کر سلام کیا اور کواٹر کے کمرے میں جانے کا عندیہ سنا دیا ۔ 2 منٹ بعد دونوں بچے اچھلتے کودتے کمرے میں آن دمکے ، عائشہ نے السلام علیکم کہنے کی ترغیب دلائی اور نقاب کو چہرے سے ہٹایا ہی تھا کہ ایک دم بڑے دھڑلے سے وہی بداخلاق نوجوان تیزی سے اندر داخل ہو گیا۔

عائشہ نے فورا اپنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور رخ کمرے کی کھڑکی کی طرف کر دیا جبکہ عبداللہ چند سیکنڈز کی جھلک سے ہی اپنے ہوش گنوا بیٹھا ۔۔۔

بچوں کے جھنجھوڑنے پر بولا وہ مجھے علم نہیں تھا کہ آپ بسیلہ احمر کی ٹیچر ہیں ، مجھے ایسے لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیئے تھی ۔۔۔

آپ کو کسی بھی عورت سے اس لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیئے وہ چاہے بسیلہ احمر کی ٹیچر ہو یا نہ ہو ، اب آپ تشریف لے جا سکتے ہیں اور آئندہ اس کمرے کا رخ نا کیجیے گا۔عائشہ نے رخ پھیرے بغیر ہی نہایت خشک لہجے میں اسکو جوابوں سے نوازا ۔۔۔۔

یہ گھر میرا ہے میں جہاں چاہوں جاوں آپ کون ہوتی ہیں مجھے اصول و ضوابط بتانے والی؟؟؟؟

میں یہاں پہ اصول و قواعد طے کر کے آئی ہوں، میں اسی شرط پہ آئی تھی کہ میرے حجاب ونقاب کا خیال رکھا جائے اور پردے کی حدوں کو پار نا کیا جائے اور اگر آپ کو ان باتوں سے تکلیف ہو رہی ہے تو میں ابھی یہاں سے چلی جاتی ہوں ۔۔۔۔ لہجہ نہایت خشک مگر دھیما تھا۔۔۔۔۔۔۔

اب چونکہ آپ اس حد کو پار کر چکے ہیں تو میرے اوپر فیصلے کا پورا حق ہے عائشہ نے آخری کیل ٹھونکی ۔۔۔۔

عبداللہ کو اپنا آپ بہت چھوٹا لگ رہا تھا، اپنے ہی گھر میں دو ٹکے کی لڑکی اسکو اصول و ضوابط سکھا رہی ہے

غصے سے زبان کو دانتوں تلے دباتے ہوئے بولا آپ کو آئندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا، آپ بے فکر رہیں ۔۔۔۔

غصے اور توہین کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اسکے اندر شدید جنگ چھڑ گئی اور خاموشی کے ساتھ دروازہ بند کر کے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

***************************

بسیلہ احمر اس ساری صورتحال سے کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے اور عائشہ کے اوپر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ۔۔۔

ٹیچر آپ اپنے آپکو ایسے کیوں چھپاتی ہیں ؟؟؟ کیونکہ آپ بہت خوبصورت ہیں؟؟؟ اور ویسے بھی بہت گرمی ہے۔۔۔دونوں کی طرف سےایک کے بعد ایک سوال آ رہا تھا ۔۔

باقی سب لوگ تو ایسا نہیں کرتے؟؟؟، ہماری ماما تو کہتی ہیں دل کا پردہ ہونا چاہیئے ، آپکو برقعہ پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔

عائشہ نے خاموشی سے دونوں کے سوالات سنے اور بہت نرمی اور پیار سے دونوں کو نہایت سادہ طریقے میں سمجھانے کی کوشش کی ۔۔

دیکھو بچوں پردے کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں دیا ہے اور اس میں خوبصورت اور بدصورت کی کوئی شرط نہیں ہے ۔۔ سب مسلمان عورتوں پہ پردہ واجب ہے اگر مسلمان عورتیں پردہ نہیں کریں گی تو انکو قیامت والے دن سخت سزا دی جائے گی ، اور وہ سزا بہت شدید ہو گی ۔۔۔

اللہ تعالی کے حکم کو ماننے میں بھی ثواب ہے میں یہ سب ثواب کی نیت سے کرتی ہوں اور جہنم کی آگ سے ڈرتی ہوں جو دنیا کی آگ سے بہت شدید ہوگی ۔۔۔

بچے منہ کھولے حیرت کے مجسمے بنے ہوئے تھے ۔۔۔

آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے چلو اب اپنی کتابیں کھولو!!!

بظاہر مطمئن نظر آنے والی عائشہ اندر سے شدت غم سے نڈھال ہو رہی تھی، آج 3 گھنٹے اسے 3 دنوں جتنے لگ رہے تھے ۔۔۔

گھر واپسی پر امی کو دیکھتے ہی ایک ہی سانس میں ساری روداد سنا ڈالی اور ساتھ ہی اپنا فیصلہ بھی سنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *