Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 17)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair
 

عائشہ کے بابا اور بسیلہ احمر کے والدین کو گئے چار مہینے گزر گئے عائشہ جب بھی اس رات کا سوچتی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے اور عبداللہ کے لیے شدید نفرت دل میں جڑ پکڑتی۔۔ کیپٹن مغیث کے چھوٹے بھائی لیفٹینٹ معاذ کا رشتہ آیا جس کا عائشہ نے انکار کر کے رقیہ کا رشتہ پکا کروا دیا کہ جب تک میری بہنیں اپنے گھروں والی نہیں ہو جاتی میں شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔ ہمارے گھر میں جتنا بھی طوفان آیا ہے میری وجہ سے ہوا میں نہیں چاہتی میری بہنیں اس طوفان کی زد میں آئیں۔۔۔

عائشہ میری جان تمہیں کتنی دفع بولا ہے اس طرح مت سوچو مت کرو اپنے آپ کو مجرم ثابت ٬ تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں تھا تقدیر کا لکھا تھا ۔۔۔۔

امی میں چاہتی ہوں دونوں چھوٹییاں اپنے اپنے گھر سدھار جائیں۔۔ہم نے کونسا دھوم دھام سے شادی کرنی ہے سادگی سے نکاح کرنا ہے ۔۔۔ 20 سالہ رقیہ اپنی کے شادی بعد کوئٹہ سدھار گئی جبکہ 19؛سالہ زینب بھی معاذ کے خالہ زاد سے منسوب ہو گئی چند ہفتوں میں وہ بھی پیا دیس سدھار گئی٬ دونوں کے لاکھ سمجھانے پر بھی عائشہ نا مانی اور انکو رخصت کروا دیا ۔۔ میں چاہتی ہوں آپ دونوں پھولوں پھلو اور خوش رہو۔۔۔۔

سبین بھی اپنے پیا سدھارنے کے لیے اپنے پر تول رہی تھی شادی کی تیاریاں زوروشور پکڑ چکی تھی ہر وقت عائشہ کا سر کھاتی کہ ہماری طرف آؤ اور شاپنگ کے لیے چلتے ہیں لیکن عاشہ ہر مرتبہ اس کو ٹال دیتی مجھے نہیں جانا سبین پلیز۔۔۔۔

مجھے نہیں پتا اب تم نے نکاح والے دن لازمی آنا ہےتمھاری وجہ سے سارا انتظام الگ الگ رکھا۔۔۔ یہ ایک تم اور ایک وہ مولوی عبداللہ دونوں ہماری جان کو آگئے ہو …. پوچھے بغیر سبین تفصیل بتا رہی تھی۔۔

اب تو میرے ساتھ بھی بات نہیں کرتا کہتا ہے محرم اور غیرمحرم ٬اللہ کی حدیں یہ اور وہ !!!!

عائشہ نے بات بدلنا چاہی یہ دیکھو تمہارے سوٹ تیار ہیں دن رات لگا کر بڑی نفاست سے باقی سوٹوں کو سلائی کیا ہے پہن کر دکھاؤ تاکہ ان کی کمی بیشی کو دور کیا جائے ۔۔۔

عائشہ ویسے تمہیں ایک بات کہوں پلیز برا مت ماننا عبداللہ کا تم سے جوڑ بہت اچھا بنتا ہے۔۔ تم دونوں کی تعلیم٬ عمر اور سوچ بھی ایک جیسی ہے۔۔۔۔دونوں نے صرف بی۔ اے ہی پاس کیا ہے موقع اسکو بھی نہیں ملا پڑھائی کا اور تم بھی نہیں پڑھ پائی۔۔۔ نہیں سبین میں شادی نہیں کرنا چاہتی ابھی۔۔۔

تم نہ بولتی ہو تو بولو میں تمہاری امی سے بات کیے بنا نہیں جاؤں گی۔۔۔

سبین میں سنجیدہ ہوں مجھے عبداللہ سے شادی نہیں کرنی۔۔ تو پھر کس سے کروں گی ؟؟؟کونسا شہزادہ گلفام اترے گا آسمان سے ؟؟ جو تم نے عبداللہ سے نہیں کرنی شادی؟؟؟

میں نے پہلے کبھی یہ بات پوچھی تھی تم سے؟؟؟ کیونکہ مجھے پتہ تھا اس کے کرتوتوں کا … لیکن بھائی بھابھی کی موت کے بعد وہ ایک مختلف انسان ہے۔۔۔ امی اکثر اس کی طرف جاتی ہیں اور اس کے ادب و اخلاق سے کافی متاثر ہے پچھلے ہفتے عمرہ کرکے آیا ہے بسیلہ احمد کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔۔۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کے درس و تدریس اس کا معمول ہے…. نماز پڑھتا ہے… یتیم خانہ کھول رکھا ہے اور فلاحی کاموں میں اپنا حصّہ ڈالتا ہے ۔۔۔

نسیم بیگم یہ سب باتیں سن چکی تھی کیونکہ سبین بہت جوش و خروش کے ساتھ عائشہ کو منانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ سبین اس نے تمھیں بولا ہے کہ تم میرے ساتھ رشتے کی بات کرو ؟؟؟ اس نے تو نہیں کہا لیکن مجھے یقین ہے کہ تم اس کے لیے بہترین لڑکی ہو سبین میں عبداللہ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ لیکن کیوں عائشہ ؟؟؟؟

چلو میں تمہیں وقت دیتی ہوں سوچنے کا۔۔۔۔۔

تم رہنے ہی دو سبین !!!! مجھے پیسے کی ہوس میں اندھے لوگ نہیں اچھے لگتے جو باقی مخلوق کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے پھرتے ہیں وہ اپنی ہر خواہش پیسے سے خریدنا خریدنا چاہتے ہیں۔۔۔ سبین دل پیسوں سے نہیں خریدے جا سکتے۔۔۔۔

عائشہ تم تو ایسے کہ رہی ہو جیسے تم عبداللہ کو سالوں سے جانتی ہو وہ ایسے ہی تھا لیکن اب تو تراشہ ہوا ھیرا ہے ۔۔وہ پرانے والا عبداللہ نہیں رہا کاش میں تمیں اسکا نیا روپ دکھا سکوں۔۔۔ اچھا چلو یہ دوسری قمیض پہنو! اس

کا گلا دیکھو کتنا اچھا ہے ۔۔عائشہ نے جان چھڑانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے جبکہ سبین اندھر آتی نسیم بیگم کو ساری معلومات دینے میں کوشاں تھی۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھاکہ آج ہی عائشہ کا نکاح کروا دے ۔۔۔۔

جبکہ عائشہ سال پہلے گزری وہ اذیت ناک رات سوچ رہی تھی جو ہر رات اس کو چھلنی کرتی تھی۔۔ امڈتے آنسو چھپاتے ہوئے وہ چاے کے بہانے سے کمرے سے نکل آئی۔۔۔امی میرا دل ہے آپ کو کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک کروا لوں تاکہ اصل بیماری کا پتہ چلے روز روز ہاتھوں کا سن ہونا اچھا تو نہیں ہے ۔۔ کیوں پریشانی کرتی ہو۔۔۔

نہیں امی میں آج تو ضرور جائیں گے انشااللہ۔۔

بلڈ ٹیسٹ کرواکے لیبارٹری سے نکل کر کوریڈور میں آئی تھی کے پیچھے سے کسی نے ٹانگوں کے ساتھ چپکنے کی بھرپور کوشش کی۔۔۔بڑی مشکل سے اپنی چیخ روک پائی۔۔۔ ٹیچر ٹیچر کرتے بسیلہ احمر اس کی ٹانگوں کے ساتھ لگ کر نہال ہو رہے تھے ۔ارے آپ دونوں نے مجھے حجاب اور نقاب میں کیسے پہچان لیا؟؟؟ ٹیچر ہم تو آپ کو آپ کی چال سے پہچان جاتے ہیں… دونوں شوخ چنچل معصوم بچے پھول کی طرح کملا گئے تھے… عائشہ نے اپنی ٹانگوں سے ہٹا کر دونوں کو گلے سے لگا لیا۔۔۔ اکیلے کیا کر رہے ہو ادھر ؟؟؟؟عائشہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں ہم تو چاچو کے ساتھ آئے ہیں وہ ڈاکٹر انکل کے پاس بیٹھے ہیں کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔

تو آپ کو ایسے کسی کے پاس اکیلے نہیں جانا چاہیے آپکو پتہ کچھ لوگ برے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔۔ ہم تو چاچو کو بتا کر آئے ہیں۔۔

ہم نے آپ کو اس وقت دیکھ لیا تھا جب آپ لیباٹری جا رہی تھی سوچا ہم آپ کی واپسی کا انتظار کریں گے اس نے دونوں کو اپنے سینے سے دربارہ لگا لیا آپ کو پتا ہے ہم نے چاچو کو کتنا بولا تھا کے آپ کو واپس بلا لیں لیکن وہ ہر وقت ٹالتے رہتے ہیں ٹیچر آپکو پتہ ہے کہ ہماری مما اور ڈیڈی اللہ کے پاس چلے گئے ہیں ۔۔۔ ہاں مجھے پتا ہے ۔۔عائشہ کا کلیجہ کٹ کر رہ گیا۔۔۔۔

آپکو پتہ ہے کہ ہمارے چاچو کتنے اچھے ہیں۔۔۔ نہیں مجھے نہیں پتا ۔۔۔۔عائشہ نے جان چھڑانی چاہی ۔۔۔وہ بہت اچھے ہیں۔۔ دونوں نے ہاتھ پھیلا کر آنکھیں پھیلائییں۔۔۔بے اختیار عائشہ کی اور امی کی ہنسی نکل گئی آپ دونوں اچھے ہو اس لیے آپ کو سب اچھے لگتے ہیں دونوں اپنے چاچو کے پاس واپس جاؤ ۔ میں ادھر ہی ہو جب تک آپ اندر نہیں چلے جاتے ۔۔۔۔ٹیچر آپکو پتہ ہے ہم ہر روز آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔۔۔ اچھا کون سی دعائیں؟؟؟

یہی کے آپ واپس آجائیں ہمارے گھر اور ھمیں پڑھائیں ہم روز سونے سے پہلے یہ دعا مانگتے ہیں۔۔۔ عائشہ کا دل چاہا کہ دھاڑیں مار مار کے رویے بچوں کو گلے لگاکر الوداع کیا ۔۔۔نسیم بیگم کا بھی دل دہل گیا معصوم بچوں کی باتیں سن کر۔ دونوں ماں بیٹی نے رکشہ لیا اور گھر کی راہ لی ۔۔۔

گھر پہنچ کر امی نے عائشہ کو آڑے ہاتھوں لیا عائشہ تم عبداللہ کو معاف کردو۔۔۔ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ۔۔۔اپنی غلطی کا خمیازہ وہ بہت بگھت چکا ہے سبین نے ساری تفصیلات دی ہیں مجھے میری زندگی کا کوئی پتا نہیں میں چاہتی ہوں تم اپنا گھر بسا لو۔۔ چھوٹی بہنوں کی پہلے شادی والی شرط بھی میں نے پوری کردی اب میں چاہتی ہوں کے تم اپنے گھر کی ہو جاؤ عائشہ نہ چاہتے ہوئے بھی دھاڑ کر روئی اور امی کے گلے لگ گئی۔۔امی بہت مشکل ہے عبداللہ کو معاف کرنا مجھے شدید نفرت ہے اس سے۔۔۔ اس کی وجہ سے میری زندگی کانٹوں سے بھر گئی ہے لیکن اب تو سارے کانٹے نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے میری جان اب تو پورا سال گزر چکا ہے میرے زخم ابھی بھی تازہ ہیں ٬٬گھاؤں ہیں میرے سںینے کے اندر۔۔۔

صلہ رحمی کرو میری بچی اللہ کی خوشنودی کے لئے اسکو معاف کردو۔۔ عائشہ کو سینے سے لگا کر اس کی ڈھارس بندھائی تقدیر کا لکھا سمجھ کر بھول جاؤ اپنے اپنے گھروں کی ہوکر امید سے ہیں اور تم بیٹھی اپنا وقت ضائع کر رہی ہو ۔نکاح ایمان کو مکمل کرتا ہے انسان کو فتنوں سے بچاتا ہے۔ عائشہ خاموشی سے سن رہی تھی ۔

میں چاہتی ہوں میری زندگی میں تمھارے سر پہ سائبان ہو ایک محبت کرنے والا خاوند ہو یہ محلہ اچھا ہے کہ کسی نے ہمیں نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ورنہ دنیا میں بہت کچھ ہوتا ہے۔۔۔امی میرے سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوتا ہے اچھا اب بس بھی کر دوں بھول جاو سب کچھ اللہ تعالیٰ معافی مانگنے پر بڑے سے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ۔۔ کبریائی تو صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے ۔۔۔۔

عائشہ کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے لیکن صرف جی امی یہ کہہ پائی تھی۔۔۔۔۔ دونوں ماں بیٹی سبین کے اصرار پر نکاح میں شامل ہوئیں۔۔۔

ہلکے گلابی رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں ملبوس جس کے اوپر ہلکی پھلکی کڑھائی تھی میک اپ سے بے نیاز قدرتی حسن سے مالا مال کسی حور سے کم نہ لگ رہی تھی خوبصورت گھنے بال

جن کو اس نے سبین کے اصرار پر کھول لیا تھا ہر دیکھنے والے کو دیوانہ بنا رہا تھا کاجل کی ہلکی سی دھار اسکی آنکھوں کے حسن کو اور نمایاں کر رہی تھی۔۔۔ سبین نے سرگوشی میں بتایا کہ تیرا وہ بھی آیاہے لیکن اب وہ بھی پردہ کرتا ہے۔۔۔کھلکھلا کر ہنستے ہوئے سبین نے بتایا۔۔۔ ہماری طرف تو نہیں آئے گا ۔۔۔۔اے کاش میری دوست کا حسن اس کا نصیب بنے آمین۔۔۔ توبہ ہے اپنے نکاح والے دن تو میری جان چھوڑدو ۔۔۔ نہیں چھوڑنی جب تک تم اس سے شادی کے لئے راضی نہیں ہو جاتی۔۔۔۔۔۔

ابھی دیکھنا اس کے چہیتے بھی آ تے ہوں گے باتونی ایک نمبر کے ۔۔۔عائشہ نے ماشاءاللہ کہا ۔۔۔

سبین کی باتوں پہ صرف سر جھٹک کر رہ گئی دل میں سوچا سبین تم کیا جانو اس عبداللہ نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ؟؟؟؟یہ راز تو میرے سینے میں دفن ہے ٬ میں نے تو اس کا پردہ رکھا ہے تمھارے سامنے ورنہ اسکی کوڑی کی عزت نہ رہتی اپنے رشتہِ داروں میں۔۔ عائشہ دل ہی دل میں اسکو کوس رہی تھی۔۔۔۔

بسیلہ احمر اپنی شوخ و چنچل عادت کے ساتھ اندر آتے ہی اس کے ساتھ چپک گئے۔۔۔ٹیچر آج ہم بہت خوش ہیں… وہ کیوں بھئی؟؟؟؟

کیونکہ آج آپ ہمارے گھر کے قریب آئی ہیں؛ہم آپکو اپنے گھر آسانی سے لے کر جا سکتے ہیں۔۔۔نننن نہیں میں نہیں جا سکتی آپ کے گھر۔۔۔

تو پھر آپ ہمارے چاچو کے ساتھ شادی کر لیں اور آ جائیں ہمارے گھر ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔

عائشہ کے تو چھکے چھوٹ گئے اس صورتحال پر ۔۔۔

اتنے چھوٹے بچے اور اتنی بڑی بات کہہ گئے۔۔۔ساتھ بیٹھی امی کی بھی ہنسی نکل گئی۔۔آپکو اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہئے, عائشہ نے سمجھایا۔۔۔ہم نے تو چاچو کو بھی یہ بات بولی تھی کہ ہمیں ٹیچر عائشہ واپس لا دو تو وہ کہنے لگے دعا کرو۔۔۔

عائشہ دل ہی دل میں جل بھن رہی تھی اب اس نے بچوں کو آگے لگایا ہوا ہے ۔۔۔کمینہ کہیں کا ۔۔۔۔

نکاح سے فارغ ہوتے ہی سبین کو واپسی کا عندیہ سنا یا ۔۔۔خبردار جو تم ادھر سے ہلی کھانے کے بعد دیکھا جائے گا ٬ اتارو یہ برقعہ ورنہ میں نے ابھی عبداللہ کو بلا کر تمھارا نکاح پڑھوا دینا ہے ۔۔۔۔

سبین تم کتنی ڈھیٹ ہو اور تم کونسی نرم ہو ؟

عائشہ دل جلا رہی تھی۔۔

ایک دم سے امی بے ہوش ہو کر ایک طرف لڑھک گئیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *