Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 08)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

وہ اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے ایک لمحہ کی تاخیر نہیں چاہتا تھا، گاڑی مسلسل تیز رفتاری سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی ۔۔۔

آسمان پہ چھوٹی چھوٹی بدلیوں نے گھنے سیاہ بادلوں کی شکل اختیار کر لی تھی ۔۔۔ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش سارے علاقے کو جل تھل کر دے گی جبکہ طوفان اور شدید ہواوں کا زور عبداللہ کی 4×4 کو بھی ہلانے جا رہا تھا ۔۔

بے ہوش عائشہ اپنے حالات سے بے خبر بے سود پڑی تھی، بالکل ناآشنا کے آنے والی گھڑیاں اسکے ساتھ کونسا کھیل کھیلنے جا رہی ہیں ۔۔۔

عبداللہ اپنے اس کارنامے پر بہت فخر محسوس کر رہا تھا اور بار بار بیک مرمر سے تنبو میں لپٹی اس حسینہ کا خیال اس کو تقویت پہنچا رہا تھا ۔۔۔

2 گھنٹے کی مسلسل ڈرائیو کے بعد گاڑی موٹر وے سے اتر کر ملحقہ چھوٹی سڑک پہ آگئی جو کہ سیدھی انکے فارم ہاوس کو جاتی تھی ۔۔ سوائے چوکیدار کے باقی سب کو چھٹی دے رکھی تھی، گاڑی کو دیکھتے ہی چوکیدار بھاگا آیا اور بولا سلام بابو جی کیسے ہیں آپ؟!

ہاں ہاں میں ٹھیک ہوں تم ایسا کرو چاچا یہ ساری چابیاں مجھے دو اور خود 3 دن چھٹی مناوء میں اب ادھر ہی ہوں

لیکن بابو جی آپ اکیلے کیسے سنبھال پائیں گے یہ سب،آج کا کھانا تیار ہے آپکے پسند کے مطابق لیکن باقی دن کون کرے گا یہ سب کچھ؟

نہیں چاچا میرے پاس سب انتظامات ہیں ابھی بس تم جاوء ۔ اسی لمحے بارش کے موٹے موٹے قطروں نے خشک زمین کے سینے کو چھوا اور مٹی کی سوندی خوشبو نے فضا کو معطر کر دیا ۔۔

بابو جی بارش بہت تیز ہوگئی ہے اور اب بجلی بھی بند ہو جائے گی اور پھر جرنیٹر کو چلانا اور باقی سب چیزیں کیسے کریں گے؟! باپ کا پرانا ملازم اپنے مالک کے لئے کافی فکر مند دکھائی دے رہا تھا۔ جبکہ عبداللہ اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا نہیں چاچا تم جاوء میں سب کر لوں گا ۔۔ اچھا چھوٹے بابو جی سب آپ کے حوالے ہے میں چلتا ہوں ۔اس گیٹ کو تالا لگا لیں اور پھر گاڑی اندر لے جائیں ۔

ہاں تم جاوء چاچا عبداللہ زچ ہو کر بولا۔۔ بارش اپنی شدت پکڑ چکی تھی چوکیدار کو تیز چلنے کے بجائے بھاگنا پڑ رہا اپنے گاؤں تک پہنچنے کے لئے ۔۔

عبداللہ نے نیچے اتر کر تالا لگایا اور گاڑی رہائشی کمروں کے سامنے لا کھڑی کی ۔۔

عبداللہ کے باپ دادا کا تعمیر کردہ یہ فارم ہاوس ہر لحاظ اور سہولت سے آراستہ تھا، عبداللہ بچپن سے لے کر ابھی تک چھٹیاں گزارنے آتا تھا اسکو یہاں کے چپے چپے کا علم تھا۔۔

شدید بارش کے ساتھ بادل زور سے گرجا، عبداللہ نے گاڑی سے نکل کر تمام تالے کھولنے کے بعد موم بتیوں کا سہارا لیا اور بعد میں جرنیٹر چالو کرنے کا سوچا ۔۔ پھر دل میں سوچا پہلے تنبو والی کو ٹھکانے لگا لوں ۔۔

سر سے پاوں تک ڈھکی یہ نازک کلی ہر چیز سے بے خبر جسکو عبداللہ نے اپنی باہوں میں اٹھا کر اندر کا رخ کیا ۔۔لیکن بارش کے تھپیڑے عائشہ کو ہوش میں لانے میں کارآمد ثابت ہوے ۔۔۔

عبداللہ نے اسکو بیڈ پر لٹانے کا سوچا ہی تھا کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں واپس لوٹ رہی تھی ایک دم چلائی

ت ت ت ت تم کون ہو ؟؟؟ اور میں کہاں ہوں؟؟

عبداللہ نہایت تحمل کے ساتھ بولا تم یہاں پہ محفوظ ہو تم پریشان نا ہو ۔۔

عائشہ نے یہ سنتے ہی دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا اور بیڈ سے نیچے اترنا چاہا ۔ عبداللہ دوڑ کر آگے بڑھا اور کہا تم تسلی رکھو تمھیں یہاں پہ کچھ نہیں ہوگا ادھر ہی آرام سے بیٹھو میں پانی لے کر آتا ہوں ۔۔۔

عائشہ کا دماغ شدت غم سے پھٹا جا رہا تھا اور پچھلا منظر اس کے دماغ میں چل رہا تھا صرف امی کے بیہوش ہونے تک کا منظر باقی کچھ خبر نہیں تھی اسکے ساتھ کیا ہوا تھا اور کیا نہیں لیکن وہ یہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اغوا ہو چکی ہے ۔۔۔

پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے عبداللہ نے نقاب اتارنے کی کوشش کی لیکن عائشہ نے اس کا ہاتھ زور سے پیچھے جھٹک دیا ۔۔

میرا نام عبداللہ ہے اور میں بسیلہ احمر کا چاچو ہوں، ہو سکتا تمھیں پہچاننے میں کوئی دشواری ہو رہی ہو ۔۔۔

ہونہہ عائشہ پھنکاری نام عبداللہ ہے اور دوستی ابلیس سے ہے ۔۔ ابلیس پہ اس نے زور دیا ۔۔

عبداللہ اس اچانک وار سے کافی حد تک حیران تھا اور بولا عائشہ نقاب اتارو اور یہ پانی پیو ۔۔۔

خبردار اپنی گندی زبان سے میرا نام لیا وہ بھوکی شیرنی کی طرح دھاڑی ۔۔کیوں لے کر آئے ہو مجھے یہاں ،کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا ؟؟مجھے ابھی اور اسی وقت جانا ہے میرے ماں باپ تڑپ رہے ہونگے میرے لیے پتا نہیں میری امی کس حال میں ہونگی تمھارے غنڈے نے جو ان پر وار کیا تھا ۔۔مسلسل رونے سےاسکی آواز رندھ رہی تھی ۔

تم آرام سے بیٹھو میں تمھیں سب بتا دوں گا ۔۔۔

نہیں مجھے نہیں بیٹھنا یہاں اور نا ہی مجھے تمھاری کوئی بات سننی ہے عائشہ باہر کی طرف لپکی ۔۔

لیکن عبداللہ کی مضبوط گرفت نے اسے ادھر سے ہلنے نہ دیا

جبکہ عائشہ کا خون کھول رہا تھا اس طوفان بدتمیزی پر۔

اپنے غلیظ ہاتھ نہ لگاوء مجھے زبان سے بولو ۔۔۔

تم آرام سے بیٹھو گی تو میں بات کر سکوں گا ۔۔دیکھو پلیز مجھے واپس چھوڑ آو میں نے کیا بگاڑا ہے تمھارا ؟ میرے اوپر کیوں یہ ظلم کر رہے ہو؟ عائشہ مسلسل بے بسی سے رو رو کر زمین پہ بیٹھ گئی ۔

دیکھو میں تمھیں سچ سچ بتانا چاہتا ہوں ادھر بیڈ پہ آکر بیٹھو !

نہیں میں ادھر ہی بیٹھو گی بس تم مجھے واپس چھوڑ آو ۔

اچھا چلو یہ نقاب تو اتار دو عبداللہ نے آگے بڑھنا چاہا ہی تھا تو وہ دھاڑی خبردار جو تم ایک قدم آگے بڑھے ۔۔

دیکھو لڑکی شرافت سے میری بات سنو ورنہ انجام بہت بڑا ہو گا، یہاں صرف میرے اور تمھارے علاوہ کوئی نہیں ہے جو تمھاری مدد کو آئےگا اور تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا عبداللہ نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے

دھمکایا ۔۔۔

میرا رب مجھے بچائے گا (حسبی اللہ و نعم الوکیل )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *