Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 05)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

امی میں صرف یہی والا مہینہ ہی بچوں کو پڑھاوں گی، مجھے چھچھوری عادتیں بالکل بھی پسند نہیں ہیں اور خاص کر وہ بچوں کا چچا اسکے پاس سے تو کوئی ادب واخلاق نام کی چیز نہیں گزری امی کوئی حد ہوتی ہے بداخلاقی کی بھی، نا آو دیکھا نا تاؤ دیکھا اور منہ اٹھا کہ ایک دم میرے سامنے آگیا، امی میرا خون کھول رہا ہے عائشہ سارے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔۔۔

اچھا چلو اب اپنا دل نہ جلاوء کل بچوں کی آیا کو بتا دینا اور اپنے بابا سے بھی مشورہ کر لینا اور فجر کے بعد صلاتہ الاستخارہ ادا کرنا نا بھولنا ۔۔۔

جی امی میں رات ہی باباکی کام سے واپسی پر بات کرتی ہوں مجھے پورا یقین بابا بھی میری ہی ہاں میں ہاں ملائیں گے انشااللہ ۔۔۔۔

بستر پر لیٹتے ہی رقیہ زینب سے بھی مشورہ کیا ۔۔۔

آپ دونوں کے خیال میں میرا یہ فیصلہ درست ہے؟؟؟آپی کیا فائدہ ہے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالنے کا؟! اگر انکو آپ کے پڑھانے کا انداز اتنا ہی پسند ہے تو بچوں کو ہمارے گھر بھیج دیں ہم نے کونسا “ہل جوتنے ” کو بولنا ہے بچوں کو ؟!

وہ امیر ہیں تو اپنے گھر ہوں گے ، ہم انکے سامنے اپنی عزت نیلام نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔

*******************************

شکر ہے تم دونوں کی شکلیں نظر آئیں ہیں میری تو آنکھیں ترس گئی تھیں تم ناکارہ دوستوں کے انتظار میں،،، بس کر اب بڑی بڑی نا چھوڑ اصل بات کی طرف آ کس لئے بلایا ہے ہمیں؟؟؟؟ظہیر سمیر دونوں یک زبان ہو کر بولے ۔۔۔۔

ایک مسئلہ ہے یار، عبداللہ نے ٹھنڈی آہ بھر کر سر صوفے پہ ٹیک دیا ۔۔

کیا حکم ہے ہمارے آقا؟؟؟ آپ کےلئے ان ناچیزوں کی جان بھی حاضر ہے ۔۔۔دونوں نے فرمانبدار بننے کی بھرپور ایکٹنگ کی ۔۔۔

بدتمیزو فون تو اٹھاتے نہیں ہو اور جان کے نذرانے پیش کرو گے، مجھے افسوس ہے ایسے دوستوں پر جن کی جواں مردی میرے کسی کام کی نہیں ہے ۔۔۔۔

یار بات کھل کر بتا ہمارے تو کلیجے منہ کو آرہےہیں، ایسے لگ رہا ہے تو اپنا قافلہ لٹا آیا ہے کسی ریگستان میں ۔۔۔

او نہیں یار مسئلہ قافلہ لٹنے سے بھی بڑا ہے ۔

میں تو اپنا سکھ چین لٹا چکا ہوں میری تو راتوں کی نیند اڑ گئی ہے ۔۔ صرف چند لمحوں کے دیدار نے میرا تو سب کچھ چھن گیا ہے ۔۔۔

دونوں نے زور سے قہقہ لگایا بھلا یہ کونسی نئی بات ہے؟! ہر ہفتے تیری بغل میں نئی لڑکی ہوتی ہے اب تو ہمارے کان پک گئے ہیں تیری سرد آہیں سنتے سنتے،،، بند کر یہ ڈرامے بازی !!!

تم دونوں کونسا مسجد کے ستون کے ساتھ بندے ہوتے ہو؟!میں جانتا ہوں تم دونوں کی اصلیت بھی، میرا منہ نا کھلواو ابھی عبداللہ نے غصے سے دانت پیسے ۔۔۔

اب بس کر!! اصل بات کی طرف آ ظہیر چلایا ۔۔

یار وہ بسیلہ احمر کی ٹیچر کو میں نے ایک جھلک دیکھا ہے صرف چند سیکنڈز کے لئے، لیکن یار ایسا حسن میں نے زندگی میں نہیں دیکھا، وہ تو آسمان سے اتری ہوئی حور ہے عبداللہ کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا ۔۔۔

تو بڑا دل پھینک انسان ہے ہر لڑکی کو دیکھ کر تو ایسے ہی رال ٹپکاتا ہے ۔۔۔

یار تم لوگ میری بات کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہے؟

دفعہ ہو جاوء نکلو میرے کمرے سے باہر عبداللہ نے مصنوعی غصہ دکھایا ۔۔۔

دونوں چلائے بس کر اب زیادہ مجنوں نہ بن ، اصل قصہ کیا ہے؟؟

عبداللہ نے ساری آپ بیتی سنا ڈالی ۔ یہ کونسا مشکل کام ہے؟؟دونوں بولے ۔

مڈل کلاس کی لڑکی ہے لمبے نوٹ، گاڑی بنگلہ دکھا اسے ، سر کے بل چل کر آئے گی ہمارے یار کے قدموں میں ۔۔۔

نہیں یار مجھے نہیں لگتا وہ ایسے قابو میں آئے گی وہ بہت مختلف لڑکی ہے ۔۔

وہ ویسے ہی تیرے اوپر اپنی دھاک بٹھانے کیلیے شرافت دکھا رہی ہوگی ۔۔ ظہیر نے اپنا خیال ظاہر کیا۔۔۔

پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے وہ بہت مضبوط اعصاب اور مضبوط ارادوں والی لڑکی ہے ۔۔کل سے میری نظروں کے سامنے اس کا معصوم پر نور چہرہ نہیں ہٹ رہا، میں نے بہت کوشش کی ہے لیکن بے سود ۔۔۔۔ اسی لیے تم دونوں کو بلایا ہے اس مسئلہ کا حل نکالو یار۔۔۔

کل آئے گی تمھارے گھر؟؟؟؟ ہاں عبداللہ نے جواب دیا۔۔

بس جب تمھارے گھر سے نکلے اس کا پیچھا کرو اور اسکے گھر بار کے بارےمیں پتا کرواو اور ہماری جان چھوڑو ۔ دونوں نے ہاتھ جوڑے۔۔۔۔

ویسے کتنے بےفیض دوست ہو تم دونوں ۔ تمھارے دوست کا سکھ چین ختم ہو گیا ہے اور تم لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

لالے یہ بھوت بھی چند دنوں کے بعد اتر جائے گا۔۔

تو ہمارا دل پھینک دوست ہے، دونوں نے زوردار قہقہہ لگایا جو عبداللہ کو زچ کرنے کے لئے کافی تھا۔۔۔

*****************************

فجر کی نماز کے بعد صلاتہ الاستخارہ ادا کی اور اپنے فیصلے پر ڈٹ گئی ۔۔۔ کوارٹر کے کمرے میں پہنچتے ہی آیا سے بسیلہ احمر کی والدہ سے ملاقات کی درخواست کی جو کہ بقول آیا کہ بیگم صاحبہ ابھی شاپنگ لئے نکلی ہیں ۔۔۔انکی واپسی دیر سے ہو گی ۔۔۔

عائشہ نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد آیا کو اپنا فیصلہ سنا دیا اور ساتھ تاکید بھی کی کہ بیگم صاحبہ تک یہ بات پہنچا دے ۔۔۔

کمرے میں آ کر کنڈی چڑھائی اور حسب معمول پوری توجہ کے ساتھ بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ۔۔۔۔

گھر واپسی پہ چوکیدار نے روک لیا کہ بیگم صاحبہ ابھی 5 منٹ میں آرہی ہیں ۔۔۔۔

اچھا لیکن میری امی باہر کھڑی ہیں آپ انکو بھی اندر بلا لیں، عائشہ نے التماس کی۔۔۔ہم ادھر بینچ کے اوپر ہی بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔

دونوں ماں بیٹی کو 5 منٹ کے بجائے 30 منٹ گزر چکے تھے انتظار کرتے کرتے ۔۔۔لیکن بیگم صاحبہ کا کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔۔۔۔

آخر تنگ آ کر بولا چاچا ہمیں پیدل چل کر گھر جانا ہے اور ہم نے ظہر کی نماز بھی ادا کرنی ہے ۔۔آپ پتا کروا دیں وہ کب تک واپس آ رہی ہیں؟!

اسی لمحے گاڑی کا ہارن بجا چوکیدار پھرتی سے گیٹ کی طرف بڑھا ۔۔۔۔

لش لش کرتی مرسیڈیز اے ایم جی فراٹے بھرتی اپنی مخصوص جگہ پہ جا کر رکی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *