Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Hai Ayesha (Episode 10)

Aik Hai Ayesha by Umme Umair

چھوٹے سوراخ سے اندر جھانکے کی کوشش کی لیکن تاریکی میں کچھ خاص نہ دیکھ پائی پھر ہمت کر کے کھڑکی کی طرف ہو لی، پرانی لکڑی سے بنی مضبوط اور پائیدار کھڑکی کو کھولنا چاہا لیکن اس خیال کو جھٹک دیا کہ ابھی مجھے تھوڑا اور انتظار کرنا چاہیئے ۔۔ موم بتی اپنی زندگی کے آخری مراحل طے کر رہی تھی وہ مزید ایک یا آدھا گھنٹہ ہی روشنی پھیلا سکتی تھی اسکے بعد اس نے بھی گل ہو جانا تھا ۔۔۔

عائشہ کو اپنا وجود بھی اس جلتی موم بتی کی طرح محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے ختم ہو جانا ہے ویسے اسکی بھی زندگی ٹوٹی ہوئی شاخ کی مانند ڈول رہی ہے جو تیز ہوا کے جھونکوں سے کبھی ادھر اور کبھی ادھر پٹخی جا رہی ہے، آنسوؤں کی رفتار میں اور روانی آگئی، دل اپنے والدین اور چھوٹی بہنوں کےلئے تڑپا نجانے وہ کس حال میں ہونگے میرے لئے کتنے پریشان ہونگے، باپ کی غربت اور جھریوں سے اٹا مجبور اور بے بس چہرہ اس کا دل چیر رہا تھا ۔۔۔

ایک دم خیال کیپٹن مغیث کی طرف گیا جو اس کا شوہر بننے جا رہا تھا، کیپٹن مغیث جسکی وہ امانت ہے، ایک وجیح اور نیک سیرت انسان قرآن و سنت کا مقلد، اللہ اور رسول کے حکم کو سر آنکھوں پہ رکھنے والا، اسکے سپنوں کا شہزادہ اسے اپنے آپ سے چھینتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔

غم کی لہر اسکے دل و دماغ کو چھلنی کئے جارہی تھی ، وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی آج یا عزت جائے گی یا پھر زندگی ۔۔۔ میری عزت کیسے جا سکتی ہے میں تو کیپٹن مغیث کی امانت ہوں میں کیسے خیانت کر سکتی ہوں، میں منافق نہیں ہوں ۔۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اسکے دماغ میں گردش کر رہا تھا۔۔۔۔۔منافق کی 3 نشانیاں ہیں ان میں سے ایک امانت میں خیانت کرنے والا ہے ۔۔

دل خون کے آنسو رو رہا تھا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا، بےبسی کے اس عالم میں بھی اس نے دل سے وعدہ کیا میری جان جاتی ہے تو جائے لیکن اس بدکردار شخص کے ہاتھوں اپنی عصمت دری نہیں ہونے دوں گی، اگر ماری بھی گئی تو اپنی عصمت کو بچاتے ہوئے مروں گی تو دل میں کو ئی خلش نہیں ہو گی انشااللہ ۔۔۔

بارش کا زور ٹوٹ گیا طوفان تھم گیا ،کالی گھٹایئں ، ابر آلود آسمان کی شفافیت نیلاہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی، کمرے کے چھوٹے سے روشن دان سے روشنی چھن چھن کر کمرے میں موجود چیزوں کی خبر دے رہی تھی ۔

ڈری سہمی عائشہ کی نظریں اس دیو قامت کمرے کا طواف کر رہی تھی، کمرے میں بچھا شاہانہ انداز کا بہت بڑا بیڈ ساتھ دونوں اطراف میں لیمپ، ایک کونے میں بہت بڑی الماری، ڈریسنگ ٹیبل جو طرح طرح کی مختلف خوشبویوں سے اٹا ہوا تھا، دبیز صوفہ اور ساتھ کافی ٹیبل، فرش کو سنگ مر مر سے مزین کیا گیا تھا ۔۔۔

کمرا ایک دم چاروں اطراف سے روشن ہو گیا سارے بلب روشن ہو چکے تھے، عائشہ نے ہمت کر کے دوسرے دروازے میں بنے تالے کے سوراخ سے اندر جھانکا تو سامنے واش بیسن اور شاور دکھائی دیا ۔۔ عائشہ نے لمبا سانس کھینچا یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کم ازکم وضو تو کر سکوں گی اس نے اپنی فوت شدہ ظہر اور عصر کی ادائیگی کا سوچ کر واش روم کا رخ کیا ۔بایاں پاوں اندر رکھنے سے پہلے بیت الخلاء کی دعا پڑھی ۔۔۔

( بسم الله اللهم إني أعوذ بك من الخبث و الخبائث) صحیح بخاری :143صحیح مسلم:357

“اللہ کے نام کے ساتھ؛اے اللہ میں خبیث (جنوں )اور خبیث (جنیوں) سے تیری پناہ میں آتی ہوں “

نکلتے وقت ( غفرانک )اے اللہ!میں تیری بخشش طلب کرتی ہوں ۔۔۔

قبلہ کی سمت کا تعین کرنا مشکل تھا لیکن اپنے حساب سے اس نے اندازہ لگایا اور نماز کی ادائیگی شروع کر دی، دروازہ دھڑ دھڑ بجنا شروع ہو گیا لیکن اس نے خوف میں بھی اپنی نماز کو جاری رکھا آنسوں ٹپ ٹپ کر کے اس کے حسین گالوں کو بھگو گئے، گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ خوف وحراس کی بدولت سفید اور نیلے پڑ رہے تھے ۔۔۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد اپنے ہاتھ اللہ کی بارگاہ میں پھیلا دیئے اے میرے رب مجھے اس وحشی درندے سے بچا، میری عزت کو محفوظ! او اللہ میرے لئے راہ فرار آسان کر آمین ۔۔۔۔دعاؤں میں روتے روتے ہچکی بند گئی ۔۔۔میرے مالک تو جانتا میری ہر کمزوری میری ہر مجبوری کو میرے مالک میری مصیبت کو آسان کر

(يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين )حاکم 545، نسائ:570

“”اے زندہ رہنے والے ، اے(کائنات کو) قائم رکھنے والے!!میں تیری رحمت سے مدد کی طلبگار ہوں کہ میرے تمام کام درست فرما دے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرےنفس کے سپرد نہ کر ۔””۔۔

پھر درود ابراہیمی کا ورد، رو رو اور تڑپ تڑپ کر گلے میں خشکی سے کانٹے چبھ رہے تھے، سائیڈ ٹیبل پر پڑے گلاس پہ نظر گئی سوچا پی لوں لیکن اس خیال کو ترک کر دیا نجانے یہ لفنگا کیا ملا کے لایا ہو پانی میں؟!بہتر ہے اسکو گرا دوں اور نلکے سے پانی نکال لوں ۔۔۔۔۔۔

عبداللہ باہر شدید غم و غصے میں تلملا رہا تھا وہ بار بار اس مضبوط بند دروازے کو دیکھتا جس میں اس کے دل کی ملکہ نے خود کو قید کر لیا تھا ، اس کے احساسات اور جذبات سے بالکل عاری، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیسے اس کو قائل کروں، وہ اسی شش و پنج میں ڈرائنگ روم کے چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔

عائشہ نے ہمت کر کے کھڑکی کی طرف بڑھنا شروع کیا اور دھیرے سے اس کی چٹکی ہٹائی ،لکڑی کی اس مضبوط کھڑکی کے باہر مضبوط لوہے کے سریے کا جال بنا ہوا تھا جس کو دیکھ کر اس کے دل کو قرار آگیا کہ یہ لفنگا کھڑکی کے زریعے بھی اندر داخل نہیں ہو پائے گا ۔۔۔

دروازہ دھڑ دھڑ بجنا شروع ہو گیا ایسے لگ رہا تھا اب تو ٹوٹ ہی جائے گا ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *