Aik Hai Ayesha by Umme Umair NovelR50647 Aik Hai Ayesha (Episode 11)
Rate this Novel
Aik Hai Ayesha (Episode 11)
Aik Hai Ayesha by Umme Umair
عبداللہ دھاڑ رہا تھا میں دروازہ توڑنے لگا ہوں اس نے ہر حربہ آزما لیا لیکن بے سود، شاید صوفہ اور میز عائشہ کےلئے ڈھال بن گئے تھے ،عبداللہ مسلسل چلا رہا تھا اور دھمکیاں دیئے جا رہا تھا لیکن سب بےمعنی اور بےکار ۔۔۔۔
مغرب ڈھل رہی تھی رات کا اندھیرا دن کے اجالے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا، عائشہ نے کھڑکی کے پاس آکر باہر آسمان کو دیکھا اور مغرب ادا کرنے لگی ۔۔
کمرے میں لگے گھڑیال کی ٹک ٹک اسکی روح کو چھلنی کئے جا رہی تھی، یوں کسی کنواری لڑکی کی گزری باہر ایک رات کیسے اس کے دامن کو داغ دار کر دیتی ہے اسکی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، سب سوچیں اس کو لپیٹ میں لئے ہوئے تھیں ۔۔۔
عشاء بھی ادا کر دی پھر دعاوں کا لا متنائ سلسلہ، شدت غم سے جھیل جیسی آنکھوں میں وحشت کے سوا کچھ بھی نہیں بچا تھا، دروازے کے ساتھ جڑا صوفہ اسکی پناہ گاہ تھا، نا سونے کا سوچ کر ایک کونے میں دبک گئی ۔۔۔
عبداللہ نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اسکو بھی اپنی شکست کا اندازہ ہو چکا تھا ، اس کو پتا چل چکا تھا کہ اس کا واسطہ کسی عام لڑکی سے نہیں پڑا، یہ لڑکی تو ڈٹ جانے والوں میں سے ہے یہ تو اپنی آخری سانس تک مقابلہ کرے گی ۔۔
دروازے پہ ہلکی سی دستک دی اور بولا! عائشہ تم اگر دروازہ نہیں کھولتی تو کم ازکم کھڑکی سے اپنا کھانا تو لے لو، میں تمھیں کھانا کھڑکی سے پکڑا دیتا ہوں، اسکے لہجے میں نرمی اور التجا واضح جھلک رہی تھی لیکن عائشہ نے اسکو نظر انداز کر دیا ۔۔۔۔
ہر طرف مکمل سناٹا تھا، عائشہ کی زندگی کی سب سے بھیانک رات، خوف کی شدت سے نا سو سکتی تھی اور نا بیٹھنے کی ہمت باقی تھی، نجانے رات کے کونسے پہر نیند میں چلی گئی، نیند میں بھی کتنی دفعہ خوف سے ہڑبڑائ ۔۔۔
باہر عبداللہ پیچ و تاب کھا رہا تھا اس سے نیند کوسوں دور تھی اس کے سارے منصوبے پہ پانی پھر چکا تھا ، اپنی عیاشی کےلئے جو سامان وہ لایا تھا سب دھرا کا دھرا رہ گیا ، آوارہ مزاج عبداللہ ہارے ہوئے جواری کی طرح بے بس و مجبور ہو چکا تھا ۔۔۔
رات 12 بجے سمیر کو کال کی ساری روداد سنائ، یار تجھے میں نے سمجھایا بھی تھا باز آجا پر تو نے میری ایک نہ سنی، سمیر شدید غصے میں تھا ۔بچے اگر یہ مر مرا گئی تو یہ سب تیرے پلے میں آئےگا کیوں کہ وہ تیرے گھر میں مری ہے اور تیرے بڑے بھیا کو پتا چلا تو بچے پھر کئ اور ٹھکانہ ڈھونڈ لینا ۔۔۔ میں کیا کروں پھر ؟؟؟ اسکو اسکے گھر چھوڑ کے آ اور پاوءں پکڑ اسکے ماں باپ کے ورنہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے خود کو دیکھ، میڈیا کو خبر ہو گئی تو؟؟ اتنی بڑی کاروباری شخصیت کا چھوٹا بھائی کیا گل کھلا رہا ہے تو بچے سب کچھ کا ذمہ دار تو خود ہو گا ۔۔۔
پر یار میں حقیقت میں اس لڑکی سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔عبداللہ شکستہ لہجے میں بولا۔۔ سمیر کو اور تپ چڑی اپنے کرتوت دیکھ پہلے تو قابل یے اس کے؟ وہ پاک دامن دوشیزہ اور تو ہر ڈال کا بھنورا ، میں تجھے لکھ کر دیتا ہوں وہ کبھی قبول نہیں کرے گی تجھے ۔۔ اس سارے وقت میں تجھے اندازہ نہیں ہوا وہ کیسی لڑکی ہے؟، نالائق گدھا نکما دوست، سمیر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا ۔۔۔۔میں سونے جا رہا ہوں تو پہرا دے اپنی محبوبہ کا !!!
او یار بات تو سن عبداللہ نے منہ کھولا ہی تھا سمیر نے کال ڈسکنٹ کر دی ۔۔۔۔
اگر اس نے خودکشی کر لی تو ؟؟؟ نہیں نہیں میرے خیال میں ایسا نہیں کرے گی عبداللہ نے خود کو تسلی دی ۔۔۔
سگریٹ کی پوری ڈبییہ پھونک دی، وسکی اور بیئر اسکا منہ چڑا رہی تھیں، بے جا لاڈ پیار اور مال کی ریل پیل نے اس کو ان تمام چیزوں کا عادی بنا دیا تھا، لیکن آج سب کچھ بےمعنی تھا کوئی بھی چیز اس کے دل کو سکون نہ دے پائی ۔۔۔لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ پچھتاوں کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا تھا، اگر لوگ بلواوں دروازے توڑنے کیلئے تو پورے گاؤں کو پتا چل جائے گا اگر اسکو ایسے بند کمرےمیں چھوڑا تو یہ بھوکی پیاسی مر جائے گی ۔۔۔پوری رات اسی کشمکش میں گزر گئ ۔۔۔
صبح 4 بجے کے قریب مرغ کی بھانگ پہ عائشہ کی آنکھ کھل گئی اور حیران تھی یہ آواز کدھر سے آرہی ہے ؟ کھڑکی کی طرف بھاگی لیکن سمجھ نہ پائی کہ مرغا ہے کدھر ہے ؟!اچھی طرح وضو کیا اور کمرے میں آکر اپنی چادر کو درست کرنے لگی تو اچانک نظر آئینے پہ گئی اور گردن پہ بنے گہرے جامنی اور نیلے نشان عبداللہ کی انگلیوں نے چھوڑے تھے آنسوؤں کی جھڑی پھر سے شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔
فجر ادا کی پھر سجدے میں گر کر اپنے رب سے التجایئں کرنے لگی ۔سجدے میں گری اس معصوم کلی کی دعائیں رنگ لا رہی تھیں ۔۔۔
عبداللہ نے شائستگی سے دروازہ بجایا اور کہا مجھے پتا ہے تم جھاگ رہی ہو میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گا پلیز دروازہ کھول دو ، میں تمھیں تمھارے گھر چھوڑنے کےلئے تیار ہوں ۔۔
دیکھو تمھیں اللہ کا واسطہ ہے میری بات پہ یقین کرو، ان الفاظ کی ادائیگی پر عبداللہ خود بھی حیران ہو رہا تھا ۔۔۔
اچھا اگر دروازہ نہیں کھولتی تو کم ازکم میری بات کا جواب تو دو پلیز ۔۔۔ عبداللہ ٹوٹ چکا تھا نہ وہ کسی کو بلا سکتا تھا اور نہ اس کو اکیلا کمرے میں چھوڑ سکتا تھا، شدید بےبسی کے عالم میں وہ عائشہ سے التجایئں کر رہا تھا ۔۔
مجھے 5 منٹ دو میں تمھیں بتاتی ہوں عائشہ نے سوچ سمجھ کر جواب دیا ۔۔۔
عبداللہ نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔۔
عائشہ نے صلاتہ الاستخارہ ادا کی اور اپنے رب کے سامنے گڑگڑائ اے میرے مالک میرے لیے جو بھی بہتر ہے میرے دین اور دنیا کےلئے میرے لیے وہ آسان کر دے بےشک تو ہی غیب کا علم رکھتا ہے !!!!آمین
آنسو صاف کر کے اس نے ہلکی سی دستک دی عبداللہ تو پہلےہی بےچین اس کے جواب کا منتظر تھا، ہاں بولو عائشہ میں سن رہا ہوں ۔۔۔
عائشہ گویا ہوئ میں تم پہ کیسے یقین کرلوں کہ تم مجھے خیروعافیت سے میرے گھر پہنچاو گے؟؟؟ جو کچھ تم میرے ساتھ کر چکے ہو ، تم نے میری زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔اس سے بہتر نہیں ہے میں اپنی عزت کی حفاظت میں اسی کمرےمیں بھوکی پیاسی مر جاوں ۔؟!
تمھیں میرے اوپر یقین نا کرنے کا پورا حق ہے لیکن اپنے رب پہ تو تمھارا کامل یقین ہے ؟! یہی ہے نا عائشہ؟؟؟
تم نے کہا تھا میرا رب مجھے بچائے گا، اب اگر رب تمھیں موقع دے رہا ہے تو اس پہ توکل کرو عبداللہ نے اس کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔۔۔۔۔
ہاں مجھے اپنے رب پر کامل توکل ہے لیکن میں کچھ باتیں طے کرنا چاہتی ہوں تمھیں وعدہ کرنا ہے کہ تم مجھے ہاتھ نہیں لگاو گے، میرا نقاب نہیں اتارو گے اور مجھ سے دور ہو کر بات کرو گے اگر منظور ہے تو ہی میں دروازہ کھولوں گی
جواب دو اب چپ کیوں ہو گئے ہو ؟؟! اور یاد رکھنا مجھے تم پر رتی برابر بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔
ہاں مجھے منظور ہے سب تمھیں کوئی شکایت نہیں ہو گی ۔۔ عبداللہ نے شکستگی سے جواب دیا ۔۔۔۔
عائشہ نے اللہ کا نام لے کر اپنا حجاب درست کیا اور نقاب پہنا اور پھر میز اور صوفے کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
