Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Last Episode)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Last Episode)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
آج نور کے ساتھ عالیار بھی یونی آیا تھا۔۔پورا دن گزر گیا تھا لیکن فہد نور کے سامنے نہیں آیا تھا۔۔ نور نے اللہ کا شکر ادا کیا۔۔
کلاس ختم ہو گئی تھی۔۔۔ فہد آیا تھا یونی پر آج صرف اپنے مقصد کو انجام دینے۔۔
سب جا چکے تھے کلاس سے صرف نور اور عالیار رہ گئے تھے۔۔
” نور !! مجھے لگتا ہے کہ کوئی ارادہ نہیں ہے تمھارا گھر جانے کا۔۔”
عالیار نے نور سے کہا۔۔
” صرف دو منٹ لگے گے آپ چلیں میں آرہی ہوں۔۔۔”
نور کام کرتے ہوئے اسے جواب دیتی ہے۔۔۔
” چلو ٹھیک ہے۔۔۔ ” یہ کہہ کر عالیار باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔
اس کے جانے کے فوراً بعد ہی فہد روم میں داخل ہوا اور دروازہ لاک کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
” یہ تم کیا کر رہے ہو؟؟؟_”
نور اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اس سے سوال کیا۔۔
پانچ سے چھ منٹ گزر چکے تھے۔۔
عالیار کلاس روم کی طرف دوبارہ بڑھا۔۔۔
لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو روم کا دروازہ لاک پا کر وہ نور کو پکارنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” نور !! نور !! “
” عالیار !! میں اندر ہوں۔۔۔”
نور نے کمرے کے اندر اسے پکارہ۔۔
عالیار نے اپنی ٹانگ مار کر دروازہ کھولا۔۔۔۔ اور داخل ہوتے ہی پاس پڑے گلدان کو فہد کے سر میں دے مارا۔۔۔
” تیری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے پاس آنے کی؟؟؟” عالیار چیخا۔۔۔ اسے اس کے دوست پیچھے دنوں کی صورتحال سے بھی آگاہ کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اس نے نور کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ گاڑی کے پاس آکر رکا اور دروازہ کھولا۔۔ نور کو بیٹھا کر وہ خود بھی بیٹھ گیا۔۔ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔ راستے میں عالیار نے اس سے بات تک نہ کی۔۔۔ کیونکہ وہ اس سے غصہ تھا کہ نور نے فہد والی بات اس سے کیوں چھپائی؟؟؟؟…. نور نے بھی پورے راستے اس سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔ جیسے ہی وہ گھر پہنچے۔۔۔۔ تو عالیار کے والد صاحب اور اس کی والدہ اور سلین دبئی جا رہے تھے ۔۔ ” نور !! میں تمھارا جتنا بھی شکریہ ادا کرو کم ہے۔۔۔ آج اگر تم نہ ہوتی تو شائید عالیار کے ساتھ میرے تعلقات کبھی ٹھیک نہ ہوتے۔۔۔۔اللہ تمھیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔۔۔” عالیار کی والدہ اسے دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی۔۔۔ رات ہو چکی تھی۔۔۔ وہ چاروں کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ لیکن عالیار نے نور سے بات تک نہ کی۔۔۔اس خاموشی کو عامر نے خوب نوٹ کیا پر وہ چپ ہی رہا۔۔۔ رات کو نور کمرے میں آئی۔۔ اس کے ہاتھ میں شیشے کا گلاس تھا۔۔۔ عالیار اس وقت لیپ ٹاپ پر کام کر کر رہا تھا۔۔ اس نے نور پر دھیان ہی نہ دیا۔۔ نور کو بھی اس کی اس خاموشی پر غصہ آرہا تھا۔۔۔ اسی غصہ میں وہ بھول گئی کہ گلاس کو میز پر رکھنا تھا۔۔ ” چٹاخ۔۔۔۔۔” کانچ کا گلاس نیچے زمین پر گر کر چکنا چور ہو چکا تھا۔۔۔ جس پر نور کی ہلکی سی چیخ نکل گئی پر عالیار نے اس پر ایک نظر ڈالی اور پر لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گیا۔۔۔ نور کو اس کی اس حرکت پر بھی بہت غصہ آیا۔۔۔ اس نے کانچ کے ٹکڑے اٹھانا شروع کیے۔۔ لیکن ان میں سے ایک اس کے ہاتھ پر لگ گیا تھا اور اس کو پتا بھی اس وقت چلا جب خون بہنا شروع ہوا۔۔۔۔۔ ” آہہہہ !! ” نور کو درد ہوا۔۔ عالیار نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور پھر جیسے ہی اس کے ہاتھ پر اس کی نظر گئی..وہ لیپ ٹاپ چھوڑ کر فوراً اٹھا اور اس کے ہاتھ کو پکڑا۔۔۔۔ ” تم !! کوئی بھی کام ڈنگ سے نہیں کرسکتی۔۔اتنا کٹ لگوا لیا ۔” عالیار اس پر برہم ہوا۔۔ ” مجھے ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں !!”
نور اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بولی۔۔۔
” ایسے کیسے ضرورت نہیں۔۔۔ میں تمھارا شوہر ہوں پورا حق ہے مجھے تمھیں چھونے تم مجھے روک نہیں سکتی۔۔”
اس نے شوہر ہونے کا حق جتایا اور اور اسے گود میں اٹھا لیا۔۔۔
” یہ کیا حرکت مجھے نیچے اتارو کوئی دیکھ لے گا۔۔۔۔”
نور منھ بناتے ہوئے بولی۔۔۔
” ارے تمھیں میں نے اس لیے اٹھایا ہے کہ کہیں تم اپنے پیر پر بھی چوٹ نہ لگوا لو۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔
وہ اسے بیڈ کی طرف لایا اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے ہاتھ پر مرہم لگا کر پٹی کی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اب نور اور عالیار کے درمیان تعلقات بالکل ٹھیک ہو گئے تھے۔۔
آج نور کی برتھڈے تھی۔۔۔۔ لیکن وہ اپنی سالگرہ سے خود ہی انجان تھی۔۔ اسے یاد ہی نہ تھا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔۔
” آپی !! آپ کو صاحب نیچے بلا رہے ہیں۔۔۔”
گھر کی ایک ملازمہ نور کے پاس آئی اور اس سے کہا۔۔
” تم جاؤ میں آرہی ہوں۔۔۔”
اس نے اسے جواب دیا۔۔
نور سیٹیوں کے راستے نیچے آئی۔۔۔نیچے جب پہنچی تو لائیٹس آف تھی۔۔۔
” یہ کیا یہاں تو کوئی نہیں ہے۔۔۔ “
وہ خود سے گویا تھی۔۔
اچانک لائیٹس آن ہوئی۔۔۔
Happy birthday to you ❤️🔥
Happy birthday to you❤️🔥
Happy birthday to dear Noor ♥️
عالیار ٬ آرزو اور عامر یہ جملے ادا کرتے ہوئے آئے۔۔۔۔۔
” آپ سب کو یاد تھا۔۔۔” نور نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔۔
” ہمیں کہاں یاد تھا یہ تو آرزو نے بتا یا کہ میری پیاری سی بیوی کی سالگرہ ہے۔۔۔”
عالیار نے نور کے پاس آتے ہوئے کہا۔۔۔
” تھینک یو سو میچ آرزو ۔۔”
” دوستی میں نو تھینک یو نو سوری “
اس کے بعد کیک کٹ کیا گیا اور کچھ دیر وو چاروں رومز میں چکے گئے۔۔۔
” نور مجھے تمھیں ایک بات بتانی ہے۔۔۔”
عالیار کمرے میں داخل ہو کر بولا۔۔
” جی کہیں۔۔۔”
” دراصل مجھے ایک مرض کے۔۔۔”
وہ سریس ہو کر بولا تھا۔۔
” کیسا مرض نور نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔”
” تمھارے پیار کا۔۔۔” وہ مسکرا کر بولا۔۔
” اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔۔۔۔”
نور نے اسے جواب دیا۔۔ جس پر عالیار نے قہقہہ لگایا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
❤️🔥 تین سال بعد❤️🔥
تین سال گزر چکے تھے۔۔۔
نور اور عالیار کو اللہ نے ایک بیٹا اور بیٹی عطا کی۔۔۔
عامر اور آرزو کا ایک بیٹا تھا۔۔۔
حریم اور صالح کا کو اللہ نے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔۔۔
نور کے والدین سعودی عرب جا چکے تھے اللہ کے گھر۔۔۔
سب بہت خوش تھے۔۔ یہ ہی نہیں کہ ہمیشہ خوش ہی رہیں گے۔۔۔ غم بھی ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔۔۔ وہ کہتے ہیں نہ کے۔۔۔ ” وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ختم شد ♥️♥️
