Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 12)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 12)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
(حصئہ اول)
” اگر گاڑی ادھر کھڑی ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ نور یونی آئی ہو گی پر گئی کہاں؟؟؟” آرزو سوالیہ انداز میں بولی_
” باہر سی سی ٹی وی کیمرا لگا ہوا ہے ہم وہاں سے چیک کر لیتے ہیں کہ آخر نور کہاں گئی؟؟؟؟” عالیار نے کہا۔۔
” ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو چلو_” آرزو نے کہا
وہ ہیڈ کے آفس میں آئے اور سارا ماجرا بیان کیا_ ہیڈ نے سی سی ٹی وی کیمرا چیک کرنے کی اجازت دے دی_ انھوں نے چیک کیا تو وہ سارا سین ریکارڈ تھا جب نور کا کڈ نیپ ہوا__”
” اسلم اس گاڑی کا نمبر نوٹ کرو اور پتہ کرواؤں کہ یہ گاڑی کہاں جا کر رکی ہے؟؟” عالیار نے اپنے دوست اسلم سے کہا_
” جی ٹھیک ہے بھائی _” وہ کہتا ہوا چلا گیا
” میں صالح بھائی کو فون کر کے بتا دیتی ہوں” آرزو پریشانی کے عالم میں صالح کو کال کرنے لگی
” صالح کون؟؟؟؟_” عالیار حیران ہوا اور اس نے آرزو سے پوچھا
” صالح درانی نور درانی کا بڑا بھائی ہے۔۔ ” آرزو نے جواب دیا_.
” او اچھا _“
” ہیلو آرزو کیا ہوا؟؟؟؟؟_” صالح نے فون اٹھاتے ہی بولا۔
” بھائی بھائی و وہ نور کا کڈ نیپ ہو گیا ہے_ آرزو جھجک کر بولی۔
” کیا_” وہ حیران ہوتا ہوا کھڑا ہوا امی اور حریم بھی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔
” صالح کیا ہوا؟؟؟ ” حریم نے کہا_
” وہ نور اغواہ ہو گئی ہے میں یونی جا رہا ہوں آپ دعا کیجیے کہ وہ جلدی سے مل جائیں” وہ کہتا ہوا چلا گیا
” اے اللہ میری بیٹی کی حفاظت کرنا کرتا_ ” نور کی امی کی آنکھیں نم ہو چکی تھی_
” امی پریشان مت ہو اللہ تعالیٰ سب پہتر کر دے گا” حریم نے اسے تسلی دی
” صالح یونی کے گیٹ پر پہنچا آرزو اور عالیار وہی کھڑے تھے_
” آرزو کیا ہوا نور یہ سب کیسے ہوا؟؟؟” صالح نے پوچھا__
اس کے جواب میں عالیار نے سارا قصہ بیان کیا اور بتاتے بتاتے وہ خود بھی رونے پر مجبور ہو چکی تھی_
” میں نے اس گاڑی کا پتہ لگوا لیا ہے وہ ریلوے اسٹیشن کے پاس رکی ہے__”
اسلم نے عالیار کی طرف اشارہ کیا تو صالح کو معلوم ہوا کہ یہ ہی عالیار ہے جس سے نور نے نکاح کیا ہے۔۔۔۔
” ٹھیک ہے چلو_” عالیار نے کہا
” عالیار تم لوگ چلو ہم تمھیں فالو کرتے ہیں_” آرزو نے کہا صالح کے ساتھ جانے کہا_
” آرزو دیکھو وہاں خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے تم یہی رکو” صالح نے اس سے کہا
” ہاں آرزو وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں” عالیار نے بھی کہا
” ٹھیک ہے_“
اندھیرا کمرہ کوئی لائیٹ نہیں جسم رسیوں سے جکڑا ہوا کرسی پر بیٹھی ہوئی وہ لڑکی درد سے کراہ رہی تھی_ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو اس کی پکار سن سکیں__
” کوئی ہے! کوئی ہے_” وہ تین سے چار دفعہ چلائی ” میری مدد کرو” وہ رونا شروع ہو گئی_ لیکن وہاں کوئی ایسا شحص نہ تھا جو اس کی پکار سن سکے_
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
عالیار اور اس کا دوست اسلم آگے اور صالح ان کو فالو کر رہا تھا__
” اے اللہ ہماری مدد فرما اے میرے رب اے میرے مالک میری بہن نور کی حفاظت کرنا” صالح نور کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا تھا
آخر کار وہ اس جگہ پہنچ ہی گئی اس گاڑی کے پاس_ انھوں اس بلیڈنگ کا جائزہ لیا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا_
” گاڑی تو یہی کھڑی ہے لیکن یہاں کوئی نہیں ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟؟” عالیار نے کہا_
” جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اسی نے یہ کھیل کھیلا ہو گا_” صالح نے کہا
” وہ جانتا ہو گا کہ ہم اس کا پتہ لگا لیں گے اسی وجہ سے اس نے یہ کیا ہو گا_” عالیار نے کہا
” یہاں پاس میں ہی ایک اور بلیڈنگ ہے آپ کہیں تو وہاں بھی چیک کر لیں” اسلم نے کہا
” ہاں چلو__”
وہ تینوں اس بیلڈنگ کے پاس پہنچے وہاں کچھ لوگ کھڑے ٹھے_ انھوں نے انھیں اندر جانے سے روکا___
