231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 20)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

آرزو نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔ تو دنک رہ گئی۔۔۔۔

” ت تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟__”

اس نے سامنے کھڑے سعد سے پوچھا۔۔۔

” ارے !! ڈر کیوں رہی ہو میں کون سا تمھیں کاٹ کھاؤ گا۔۔۔۔”

وہ اس کے قریب ہوا اور مسکراتے ہوئے بولا۔۔

” دو دور ر رہ مجھ سے۔۔۔۔۔ م میرے ق قریب آنے کے کی ک کوشش مت کرنا۔۔۔۔۔۔”

آرزو ڈری اور جھجک کر بولی۔۔۔

” میں نے سوچا کہ شادی تو ہماری ہونے ہی والی ہے تو کیوں نہ آپس میں بات چیت کر لیں کچھ انڈر سٹینڈنگ بنا لیں۔۔۔۔”

وہ اسے گھٹیا نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔

سعد نے اس کے اور قریب ہونے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن آرزو نے دھکا دیا جس سے وہ دروازے میں جا لگا۔۔۔۔

” چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔”

سعد نے آرزو کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔۔۔۔۔۔”

اس تھپڑ کے جٹکے سے آرزو بیڈ پر جا گری اور اس آنکھوں سے کچھ آنسو بہنا شروع ہو گئے پر وہ ہمت نہ ہاری۔۔۔

” تمھاری جرات کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی میں ابھی اپنے بابا کو بلاتی ہوں۔۔۔ بابا بابا۔۔۔”

اس نے اپنے بابا کو پکارہ لیکن وہ نہ آئے۔۔۔

” آرزو وہ نہیں آئیں گے۔۔۔۔وہ گھر ہوتے تو آتے۔۔۔”.

یہ سنتے ہی آرزو دروازے کی طرف بڑھی اور کہا۔۔۔

” کیا بکواس کر رہی ہو تم !! __”

سعد نے اس کا بازو کھینچ کر اپنی طرف کیا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا وہاں عامر پہنچ چکا تھا وہ گھر میں داخل ہوا۔۔۔

” آرزو !! آرزو !! اس نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اسے پکارہ۔۔۔۔”

اس کی آواز سنتے ہی آرزو کی جان میں جان آئی اسے یقین ہو گیا کہ وہ اس کو بچا لیں گا۔۔۔

” عامر !! عامر !! بچاؤ مجھے۔۔۔۔”

وہ چیخی۔۔۔ عامر اس کی آواز سن کر اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔

” یہ کون ہے؟؟؟ اؤ اب سمجھ آئی کی تو مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی !! یہ تیرا عاشق ہے!!”

سعد نے یہ کہہ کر اس کے بال اپنی مٹھی میں بند کیے جس سے وہ بلبلا اٹھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا عامر نے ٹانگ مار کر کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔

آرزو نے بڑی ہی مشکل سے سعد کے ہاتھ سے اپنے بال چھڑوائے اور عامر کے سینے میں آپنا منھ چھپا لیا۔۔

اس کے خوبصورت سفید چہرے پر سعد کے مارے ہوئے تھر کا نشان واضح تھا ۔

اور یہ چیزیں عامر کو طیش دلا رہی تھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا وہاں آرزو کے بابا آچکے تھے۔۔۔۔

سعد نے تو سارا ملبہ ان پر ڈالنے کی خوب کوشش کی لیکن اس کے بابا سب جان چکے تھے۔۔۔ اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اس کے بعد سعد وہاں سے چلا گیا ۔۔

” بیٹا !! تمھارا بہت شکریہ کے تم نے میری بیٹی کی جان بچائی۔۔۔ کیا تم میری بیٹی سے نکاح کروں گے۔۔۔۔!! “

عامر کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آرزو کے والد ہی کہہ رہے ہیں۔۔۔

اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور یہ مسکراہٹ ہی ان کے سوال کا جواب تھا۔۔۔

عامر دور کھڑی اپنے بابا کے پاس آرزو کو دیکھ کر مسکرایا اور وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔۔

دو دن بعد ہی سادگی سے آرزو اور عامر کا نکاح پڑھایا گیا۔۔۔

اور آدزو رخصت ہو کر عامر کے گھر آگئی تھی۔۔۔ تمام لوگ بہت خوش تھے۔۔۔نور بھی خوش تھی کے آرزو اس کی دیورانی بنی۔۔۔۔

وہ کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

عامر کمرے میں آیا اور کمرے کا دروازہ لاک کیا۔۔۔ وہ آکر آرزو کے پاس آکر بیٹھا۔۔

” ویسے مجھے یقین نہیں تھا کہ دو دن میں ہی تم میری ہو جاؤ گی۔۔۔”

عامر نے اس کے چہرے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔

” یقین تو مجھے بھی نہیں تھا۔۔۔ پر جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔”

آرزو نے اس سے کہا۔۔۔

” ہاں بالکل !! “

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

نور کمرے میں تھکی ہوئی آئی۔۔۔۔

” عالیار میں کل سے یونی جاؤ گی تو آپ مجھے ڈراپ کر دینا۔۔۔۔”

” ٹھیک ہے لے بھی آو گا میں۔۔۔۔”

” چلیں ٹھیک ہے !! “

وہ مسکراتے ہوئے بولی اور سو گئی۔۔۔

اگلے دن ہی نور یونی کے لیے تیار ہوئی اور عالیار کے ساتھ گئی۔۔۔

” پتہ نہیں پورا دن کیسے گزر گا تمھارے بغیر ؟؟؟ “

عالیار مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

” پورا دن نہیں ہے بلکہ صرف چھ گھنٹے ہی ہیں۔۔۔۔”

نور نے اسے تسلی دی۔۔۔

” اور ویسے بھی میں نے آپ کو کہا تھا یونی ریجوائین کرنے۔۔۔۔۔”

نور نے اسے یاد دہانی کروائی۔۔۔

عالیار مسکراتا ہوا چلا گیا۔۔۔

نازلین انھیں دیکھ رہی تھی اور انھیں دیکھ جل کر رہ گئی۔۔۔ ” بس کچھ دیر اور پھر الگ الگ ” اس نے اپنے دل میں سوچا اور کلاس کی طرف چلی گئی۔۔

نور بھی کلاس کی طرف آئی کیونکہ اس کی دوست آرزو تو آئی ہی نہیں تھی۔۔۔

اسے معلوم نہیں تھا کہ یونی میں کچھ بد معاش لڑکے آئیں ہیں۔۔۔

نور جا کر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

انھی لڑکوں میں سے ایک لڑکا فہد اس کے پاس آیا۔۔۔

” ہیلو !! آئم فہد اینڈ یو؟؟ !! “

وہ نور کے پاس آیا اور سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن نور نے اس سے ہاتھ نہ ملایا تو اس نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔

” کیا آپ میری مدد کر سکتی ہیں کیوں کے میں یہاں نیا ہوں؟؟؟ “

اس نے نور سے پھر سوال کیا۔۔۔۔

” سوری !! میں آپ کی مدد نہیں کر سکتی آپ کسی بھی لڑکے سے پوچھ لیں کیونکہ میں لڑکوں سے بات نہیں کرتی ۔۔۔”

نور نے اسے جواب دیا اور یہ جواب سن کر وہ واپس چلا گیا۔۔۔

اگلے دن پھر اس نے نور سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس دن عالیار کے دوستوں نے اسے روکا۔۔۔

” اس لڑکی سے دور ہی رہو ورنہ انجام کے زمہ دار خود ہوگے۔۔۔” اسلم نے اسے دھمکانے کی کوشش کی۔۔۔”

لیکن وہ باز نہ آیا اور کچھ دن نور کو تنگ کرتا رہا لیکن نور اسے اگنور کر دیتی اور اس نے اس کے بارے میں عالیار کو بھی نہ بتایا۔۔۔۔۔