231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 08)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

جواد کے جانے کے بعد نور بھی اٹھی اور کلس سے باہر چلی گئی۔آرزو بھی اس کے ساتھ تھی۔ نور کو صالح نے لینے آنا تھا تو آرزو چلی گئی۔ آرزو گارڈن میں پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئی۔ عالیار شاہ اس کے پاس آیا۔ ” یہ تم جواد کے ساتھ کیوں آئی ہو؟؟؟” عالیار نے کہا۔ ” تم سے مطلب”! نور نے جواب دیا۔ ” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے” عالیار غصے سے بولا۔ ” وہ بھائی کو آفس میں کام تھا اور جواد ان کا دوست ہے تو اسی وجہ سے اس کے ساتھ آگئی اور بس اس کے علاؤہ کوئی اور بات نہیں ہے۔۔۔ ” اور وہ تمھارے ساتھ کیوں بیٹھا ہوا تھا کلاس میں ؟؟” عالیار نے سوال کیا۔۔۔ ” یہ تم مجھ سے اتنے سوال کیوں کر رہے ہو” نور نے کہا۔ ” اس سے دور رہو ” عالیار نے دو ٹوک الفاظ میں بات مکمل کی۔ ” نور آگیا ہوں میں” صالح نے نور کو مسیج کیا۔ نور نے مسیج پڑھا اور اٹھ کر جانے لگی۔ ” کہاں جا رہی ہو؟؟ ” عالیار نے کہا۔ ” جہنم میں ” نور پیچھے مڑ کر بولی۔ ” دھیان سے جانا ” عالیار نے مسکراتے ہوئے کہا_ ” نور گاڑی میں آکر بیٹھی۔ ” اسلام علیکم بھائی” نور نے کہا ” وعلیکم اسلام سوری تھوڑا لیٹ ہو گیا۔۔ ” صالح نے کہا۔ ” اٹس آکے کوئی بات نہیں بھائی” نور نے جواب دیا__


عالیار گھر آیا۔ ” عالیار ” اسے پیچھے سے آواز دی گئی۔ ” عالیار پیچھے مڑا اور کہا ” ہاں سلین ” ” عالیار میرا دل کر رہا ہے کہ ہم کہیں باہر چلیں آج باہر ڈنر کریں۔۔” عالیار یہ سن کر کہیں کھو گیا_ ” عالیار” سلین نے اس کے منھ کے سامنے چٹکی بجائی۔ ” کہاں کھو گئے” “کہیں نہیں ” عالیار نے جواب دیا۔۔ ” دیکھو سلین میں آج تمھارے ساتھ نہیں جا پاؤں گا ” کیوں ؟؟ سلین نے منھ بنا لیا ” کیونکہ آج میں اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا ہم کسی اور دن کا پلین بنا لو ” ” ٹھیک ہے ” سلین نے زیادہ بحث کر نا مناسب نہ سمجھا_ ” ” دوست دوست دوست اس کی زندگی میں تو صرف دوست ہی ہیں میری محبت تو اسے نظر ہی نہیں آتی ” عالیار کے جانے کے بعد سلین نے اپنی بھڑاس نکالی اور کمرے میں چلی گئی__ دراصل سلین عالیار کی کزن تھی اس کی پھوپھو کی بیٹی اس کی پھوپھو کی وفات کے بعد سے سلین عالیار کے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔۔۔عالیار اسے اپنی بہن سمجھتا اور اس کا بہت خیال رکھتا اور سلین پتہ نہیں کیا سمجھ بیٹھی


اسلام علیکم نور نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا۔ نور گھر میں داخل ہوتے ہی لڑکھڑا گئی۔ ” نور” “نور” صالح نے اسے آکر سنبھالا۔ اور اسے صوفے پر لٹایا۔ نور بے ہوش چکی تھی۔ صالح ڈاکٹر کو فون کریں حریم نے کہا۔ ” اچھا میں کرتا ہوں” صالح نے جواب دیا۔ صالح نے ڈاکٹر کو فون کیا اور اس نے آکر نور کا چیک اپ کیا۔ ” زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی ہیں یہ میں نے انجیکشن لگا دیا اور کچھ دیر میں انھیں ہوش آجا ہے گا ” ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا۔ ” ٹھیک ہے ڈاکٹر”__


اگلے دن نور مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی تھی اور اب وہ یونی آئی۔ کلس میں بیٹھ کر پڑھ رہی تھی۔ عالیار اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔ ” مجھے یہ ٹاپک تو سمجھا دو” عالیار نے کہا۔ ” کیوں میں کیوں سمجھاؤ ؟؟” نور نے کہا۔ ” واہ کل تم نے جواد کی مدد تو کردی پر میری نہیں ” عالیار نے کہا۔۔ ” آوو تو صاحب کو اصل مسئلہ یہ ہے_