Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 19)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 19)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
وہ تمام لوگ وہاں بیٹھ کر ان کی سلامتے کے لیے دعا کر رہے تھے۔۔۔ اتنے میں ہی ایک نرس وہاں آئی اور انھیں خوشخبری سنائی۔۔
” اب آپ کا بیٹا اور بیٹی بالکل ٹھیک ہیں بس آپ کی بیٹی کو تھوڑی ویکنس ہے کیونکہ کے ان کا خون زیادہ بہہ گیا تھا۔۔۔ آپ کو ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ہوگا انشاللہ وہ جلد ہی ریکوری کر لیں گی۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔
یہ سنتے ہی سب کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔
” ایکسیوزمی !! کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں ؟؟؟ “
نور نے نرس کو روکا اور اس سے کہا۔۔
” جی آپ ان سے مل سکتے ہیں بس ہم انھیں روم میں شفٹ کر دیں زرا۔۔۔ “
یہ کہہ کر نرس چلی گئی۔۔۔
” جی ٹھیک ہے بہت شکریہ آپ کا ۔۔”
نور نے کہا۔۔
( ایک ہفتہ بعد۔۔۔۔۔ )
اب حریم اور صالح الکل ٹھیک ہو گئے تھے۔۔۔ اور ہوسپٹل سے ڈسچارج ہو گئے تھے۔۔۔
عالیار کی والدہ کے کہنے پر نور اپنے گھر ہی رہ رہی تھی ایک ہفتہ سے۔۔۔
لیکن عالیار تو ایک دن بھی ایک سال کی طرح گزار رہا تھا نور کے بغیر۔۔
نور کی وجہ سے ہی عالیار اور کی سوتیلی ماں کے تعلقات بالکل ٹھیک ہو گئے تھے۔۔
عامر اور آرزو بھی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے۔۔ اور سلین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے ماموں اور مامی کے ساتھ باہر ہی چلی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔
” کیا کر رہی ہو؟؟؟”
عالیار نے نور کو فون کرکے کہا۔۔۔
” کچھ بھی نہیں !!”
نور نے ٹہلتے ہوئے جواب دیا۔۔
” جب تم وہاں کچھ نہیں کر رہی تو واپس ہی آجاؤ !! “
اس نے اس سے کہا۔۔
” جب میرا دل کرے گا تو میں آجاؤ گی !! اور ویسے بھی میں کمرے میں سونے جا رہی ہوں۔۔۔۔”
نور نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ بات کرتے ہوئے کمرے میں پہنچی۔۔۔ جیسے ہی اس نے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔ وہ دنک رہ گئی۔۔۔
” عالیار !! آپ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟؟ “
عالیار اس کے بیڈ پر بیٹھ کر آرام فرما رہا تھا۔۔۔
نور نے فوراً کمرے کا دروازہ بند کر کے لاک کیا۔۔
” ارے !! دروازہ کیوں بند کر رہی ہو۔۔۔۔ اب کونسا کسی کا ڈر ہے شادی ہو گئی ہے ہماری۔۔”
اس نے اسے اپنے قریب کیا اور اس سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
” یہ جو آپ کھڑکی سے آجاتے ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو ہمارے لیے مسئلہ ہو جائے گا۔۔۔”
اس نے پریشانی سے کہا۔۔۔
” ارے !! ڈرنے کی کیا بات ہے؟؟؟۔۔۔ میں ہو نہ مجھے تو کسی سے کوئی ڈر نہیں آتا۔۔۔”
وہ اس کے اور قریب ہوا تھا۔۔
” آپ کو کسی سے ڈر نہیں آتا ہو گا پر میں ڈرتی ہوں اپنے بابا سے اور بھائی سے چاہے شادی بھی ہو گئی ہے آنا ہے تو دروازے سے آیا کریں ورنہ نہ آیا کریں۔۔۔”
نور نے کہا۔۔
” دیکھو !! آج کے بعد مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی نہیں۔۔”
یہ کہہ کر اس نے نور کے اور قریب ہونے کی کوشش کی لیکن نور اسے دھکہ دے چکی تھی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
نور نے ابھی یونی جوائن نہییں کی تھی۔۔۔
لیکن آرزو نے یونی جا رہی تھی۔۔۔۔
یونی کے بعد آرزو اپنی دوستوں کے ساتھ گیٹ کے باہر آئی۔۔۔
دوستوں کو بائے کہنے کے بعد جب اس نے سامنے کی طرف نظر جیسے ہی اٹھائی تو نیچے نہ جھکا سکیں۔۔۔
سامنے کھڑے ہینڈسم لڑکے وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے اور چہرے پر چشمہ لگائیں اسے دیکھ کر دنک رہ گئی۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟؟_“
آرزو اس کے پاس گئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
” تمھیں نہیں پتہ لینے آیا ہوں تمھیں۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” چلو اب گاڑی میں بیٹھو تمھیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔۔”
عامر آرزو کے کچھ بولنے سے پہلے پھر بولا۔۔
آرزو نے بھی جواب نہ دیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
راستے میں اس نے گاڑی روکی تو آرزو نے اس سے سوال کیا۔۔
” ارے !! یہاں گاڑی کیوں روکی ہے؟؟؟؟__”
” وہ میں نے سوچا کہ پہلے کبھی تم سے محبت کا اظہار نہیں کیا تو کیوں نہ آج ہی کر دوں۔۔۔۔”
اس نے اپنی جیب سے گلاب کا پھول نکالا اور اسے دیا۔۔
” پیارا ہے۔۔۔”
” لیکن تم سے کم پیارا ہے۔۔۔”
اس نے اس کے حسن کی تعریف کی اور دوبارہ گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔
آرزو کو گھر ڈراپ کر کے چلا گیا۔۔۔
” اسلام علیکم بابا !! “
آرزو نے گھر داخل ہوتے ہی اپنے بابا سے سلام لیا۔۔
” وعلیکم اسلام !! آرزو میرے پاس آکر بیٹھو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔”
اس کے بابا نے اسے بلایا اور کہا۔۔۔
” بیٹا میں تمھیں کچھ بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔”
” جی کہیں بابا۔۔۔”
وہ ان کے پاس آکر بیٹھی۔۔۔
” بیٹا میں نے تمھارا رشتہ اپنے بہن کے بیٹے سعد کے ساتھ طے کر دیا ہے۔۔۔۔۔اور تمھارا یہ لاسٹ سمسٹر ختم ہونے کے بعد میں تمھاری شادی کر دوں گا۔۔
اتنا بڑا بم پھوڑ کر آرزو کے سر پر وہ اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔۔۔
آرزو اس سے بالکل شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ پہلی وجہ یہ کے وہ عامر کو پسند کرتی تھی اور دوسری وجہ یہ کہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کتنا بت میز بد لحاظ ہے جسے نہ ہی کسی بڑے سے بات کرنی کی کوئی تمیز نہیں تو وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔۔۔۔
وہ کچھ دیر وہی بت بنی بیٹھی رہی لیکن پھر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
نور آج عالیار کے ساتھ گھر آچکی تھی۔۔۔۔
” عالیار میں یونی جوائن کرنا چاہتی ہوں ویسے بھی لاسٹ سمسٹر کے پیپر ہونے والے ہیں۔۔۔۔”
نور عالیار کے پاس جا کر بیٹھی اور اس سے کہا۔۔۔
” ٹھیک ہے تم جوائن کر لو میں کچھ دن ریسٹ کروں گا ۔۔”
عالیار نے نور سے کہا۔۔
وہ دونوں بات کر ہی رہے تھے کہ نور کو آرزو نے فون کیا۔۔۔
نور نے اس فون اٹھایا اور آرزو سے سلام لیا۔۔۔
” کیا آرزو !! انکل کو تم نے بتایا نہیں کہ کے تم عامر کو پسند کرتی ہو وہ تمھارا رشتہ کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔”
عامر کچھ بات کرنے آیا تھا لیکن نور کی یہ بات سنتے ہی وہ رکا۔۔۔
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ آرزو صرف میری ہے صرف میری !!…”
اس نے اپنے دل میں سوچا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ آرزو نور کو جواب دیتی پیچھے سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دنک رہ گئی۔۔۔۔۔
