231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 04)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

نور جانے لگی تو عالیار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنا چاہا۔نور پلٹی اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارایونی کے تمام سٹوڈنٹس وہاں کھڑے ہو کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔”آج کے بعد مجھے ہاتھ لگانے کا سوچنا بھی مت” نور نے کہا۔”تیری اتنی جرات کے تو نے مجھے تھپڑ مارا” عالیار غصے سے غرایا۔”تم نے عالیار شاہ کو تھپڑ مارا ہے نہ تم دیکھو میں تمھارے کیا کرتا ہوں”عالیار کہتا ہوا یونی سے باہر چلا گیاپیچھے سے نور کو افسوس ہوا کہ اسے عالیار کو تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھا۔۔”اے اللہ اے میرے رب یہ مجھ سے کیا ہو گیا میں نے کیوں کیا اس طرح کی تو نہیں تھی”نور خود سے گویا تھاآرزو نور کے پاس آئی اور کہا کہ “نور میں نے تم سے کہا عالیار شاہ سے پنگا مت لو اب کس مصیبت میں پھنس گئی ہو” آرزو نور کے لیے فکر مند تھی۔۔”آرزو کچھ نہیں ہو گا خدا پر بھروسہ رکھو اور چلو کلاس سٹارٹ ہونے والی تھی” نور نے آرزو کو تسلی تھی”اچھا ٹھیک ہے چلو” آرزو نے کہاکلاسز ختم ہونے کے بعد صالح نور کو لینے آیا__نور نے اس کے آج کے ہوئے واقع کے متعلق کچھ بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔۔


نور گھر آکر کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آئیظہر کی نماز پڑھی۔ اور آکر کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر تیز اور ٹھنڈی ہوائوں کو کمرے داخل ہونے دیا اس تیز ہوا سے نور کے بال اڑ رہے تھے”مجھے عالیار کے چہرے پر تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھا پر حیر اس نے حرکت ہی ایسی کی تھی میں نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک کیا” وہ خود سے گویا تھی_”


اگلے دن نور یونیورسٹی آئی لیکن عالیار نہیں آیا تھا۔۔نور روٹین کے مطابق کلاسز لے کر گھر واپس چلی گئی۔۔۔اس سے اگلے دن نور یونی لیٹ پہنچی لیکن آرزو وہاں نہیں تھی۔۔”یہ آرزو کہاں چلی گئی؟؟ مجھے تو اس نے کہا تھا کہ میں یہی ہو” نور نے خود سے سوال کیا۔ اس وقت یونی میں تمام سٹوڈنٹس کلاس میں تھے۔۔ “شائید کلاس میں ہو!” یہ کہہ کر نور کلاس کی جانب بڑھی۔۔عالیار اچانک اس کے سامنے آیا۔۔”آپ پھر آگئے شائید کل کی بیضتی بھولے نہیں آپ ” نور غصے سے بولی۔۔ “اسی بیضتی کا بدلہ لینے آیا ہوں چلو میرے ساتھ” عالیار نے کہا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے لے کر جانے لگا۔۔”چھوڑو چھوڑو مجھے” نور نے خود کو اس شحص سے چھڑوانے کی بہت کوشش کی مگر گرفت بہت مظبوط تھیعالیار نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور ساتھ لے گیاایک چھوٹے سے گھر کے سامنے اس نے گاڑی روکی۔۔ عالیار نور کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولنے آیا مگر نور اتر چکی تھی۔۔ “یہاں کیوں لائے ہیں مجھے ؟؟” نور نے عالیار سے سوال کیا_ “تم اندر آؤ سب پتہ چل جائے گا” عالیار نے جواب دیا اور اس کا پکڑ کر لے کر جانے لگا۔۔نور نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کہا”میں خود جا سکتی آپ کو میرا ہاتھ پکڑنے کوئی ضرورت نہیں” “اچھا ٹھیک ہے” عالیار نے کہا وہ اسے گھر کے اندر لے کر آیا اور ایک کمرے میں لے گیا اور اس سے کہا” اب میری بات غور سے سنو آج تم مجھ سے نکاح کرو گی ” نہیں میں تم نکاح نہیں کروں گی اور کیوں کروں؟؟” نور غصے سے بولی۔۔ “تمھیں نکاح کرنا ہو گا” عالیار نے پھر کہا۔۔ ” اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ میں تم سے نکاح کروں گی” نور اپنی بات پر بضد رہی_ “میں کچھ تمھیں دکھانا چاہتا ہوں وہ دیکھ کر تم نکاح ضرور کرو گی” عالیار نے کہا– “کی؟؟” نور نے سوال پوچھا۔ “پیچھے دیکھو” “کیا ہے پیچھے” نور نے کہا۔۔ وہ جیسے ہی مڑی۔۔ “آرزو” ”آرزو” وہ کہتے ہوئے آرزو کی طرف بھاگی_ آرزو کا جسم رسیوں جھکڑ رکھا تھا۔۔ “یہ کیا ہے؟؟” نور غصے سے بولی۔۔”مجھ سے نکاح کر لو اور اپنی دوست کو مجھ سے بچا لو” عالیار نے اپنا موقف بیان کیا_ پہلے تو نور چپ رہی پر اپنی دوست کی جان بچانے کے لیے نور نے ہاں کہہ دیا۔۔ ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ۔۔ عالیار نے کہا_ “وہ نور کو ہال میں لے کر آیا وہاں نکاح خواں اور اس کے کچھ دوست بیٹھے تھے ” “مولوی صاحب نکاح شروع کیجئے” عالیار نے کہا۔۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا اور نور نے ہاں کردی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اس کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں_ اب وہ نور درانی سے نور عالیار شاہ بن چکی تھی نکاح حتم ہوتے آرزو کے پاس گئی اور اس کے جسم پر بندھی ہوئی رسیاں کھولی__