Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 09)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 09)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
” اووو تو موصوف کو اس بات سے جلن ہو رہی ہے کہ میں نے جواد کی اسائمنٹ بنانے میں مدد کی ” نور نے مسکراتے ہوئے کہا__
” نہیں اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے” عالیار منھ بناتے ہوئے بولا_
” تو پھر کیسی بات ہے؟؟ آپ ہی بتا دیں ! حیر کو نسا ٹاپک سمجھنا ہے تمھیں ؟؟” نور نے پوچھا_
” یہ والا”اس نے کتاب پر ہاتھ رکھ کر بتا یا کہ اسے کو نسا ٹاپک سمجھنا ہے_
نور اسے ٹاپک سمجھا رہی تھی۔ لیکن عالیار کی نظریں تھی کہ اس سے ہٹ کر کتاب پر جا نے کا نام ہی نہیں لے رہیں تھی۔
” میرے چہرے پر کچھ لکھا ہوا ہے جو مجھے ہی دیکھ رہے ہو؟؟ ” نور غصے سے بولی۔
نور کی اس بات پر عالیار نے اپنی نظریں ہٹا کر کتاب کی کی لیکن سمجھنا تو صرف ایک بہانا تھا اصل میں تو وہ اس کے پاس بیٹھنا چاہتا۔ ابھی تک نور نے اسے جتنا بھی سمجھایا تھا اس کے پلے ایک لفظ تک نہیں پڑا تھا کیونکہ دھیان تو سارا نور کی طرف تھا_
” یہ لو آگئی سمجھ ” نور نے مکمل ٹاپک سمجھا کر عالیار سے سوال کیا_
” ہاں آگئی ہے سمجھ” عالیار نے جواب دیا۔۔
” چلو ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں” نور نے اٹھ کر کہا
” کس کے ساتھ جاؤ گی اپنے بھائی کے ساتھ ” عالیار نے نور سے سوال کیا _
” نہیں بھائی آج نہیں آ پائیں گے اسی وجہ سے آرزو کے ساتھ جا رہی ہوں” نور نے جواب دیا_
” چلو میں چھوڑ آتا ہوں ” عالیار کھڑا ہوا اور کہا__
” کہاں چھوڑ آتا ہوں؟؟؟” نور نے حیرانگی سے کہا_
” جہنم میں!! ظاہر ہے تمھیں گھر جانا ہے نہ تو گھر ہی چھوڑ کر آؤں گا” عالیار نے کہا_
” نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں میں آرزو کے ساتھ ہل ہی چلی جاؤ گی” نور نے کہا__
یہ کہہ کر نور نے اپنا رخ بدل لیا_ عالیار نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور رخ اپنی طرف کیا_
” میں نے کہا نا کہ میں چھوڑ کر آؤں گا تو صرف میں میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں چپ چاپ آ جاؤ” عالیار کہتا ہوا باہر چلا گیا_
نور چاہتی تو منع کر سکتی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں وہ اس کے ساتھ چلی گئی_
” میرے گھر کا پتہ ہے کہ ہے کہاں؟؟” نور نے پوچھا عالیار اس وقت ڈرائیو کر رہا تھا__
” جی میڈم مجھے آپ کے بارے میں سب پتہ ہے__” عالیار مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے!” نور نے جواب دیا۔۔
عالیار نے گاڑی کو نور کے گھر سامنے روکا__
” بائے بائے” عالیار نے کہا۔۔
” خدا حافظ” نور کہہ کر چلی گئی۔
نور گھر کے اندر آئی۔۔
اسلام علیکم نور نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا__
“وعلیکم السلام” سب نے جواب دیا__
” نور بیٹا آج آپ کس کے ساتھ گھر آئی ہیں عالیار تو آفس میں ہے” امی نے نور سے سوال کیا
” وہ امی بھائی نہیں آئے تو آرزو نے مجھ سے کہا کہ اس کے ساتھ چلو تو اس کے ساتھ ہی آئی ہوں” نور نے جواب دیا۔۔
” چلو ٹھیک ہے__”
میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں کچھ آرام کر نا چاہتی ہوں میں ” نور نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
••••••••••••••••
اگلے دن نور یونیورسٹی آئی۔۔
عالیار ابھی تک نہیں پہنچا تھا__
اس لیے نور کینٹین پر چلی گئی آرزو بھی اس کے ساتھ تھی__
لیکن کچھ دیر بعد عالیار بھی یونی پہنچ گیا__
” عالیار ” کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا اور اس کا نام پکارہ۔۔
عالیار پیچھے مڑا تو وہاں اس کی دوست نازلین کھڑی تھی جو اس کو دیکھ ہنس رہی تھی__
” ارے نازلین تم! واٹ ا پلیزینٹ سرپرائز! تم آج یونی کیسے ؟؟؟ ” عالیار نے حیران ہوتے ہوئے ہو چھا_
” ہاں میں کیسے ہو تم! ” نازلین نے اس سے پوچھا_
” میں بالکل ٹھیک ہوں پر تم مجھے یہ بتاؤ کہ اتنے دیر کیوں نہیں آئی کہاں تھی تم ؟؟ پورے ایک ماہ بعد آئی ہو” عالیار نے پوچھا
” میں تمھیں سب بتاؤ گی چلو کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ” نازلین نے کہا__
” چلو ٹھیک ہے_” عالیار نے کہا۔۔
وہ دونوں بھی کینٹین پر آگئے۔۔۔۔
چلو نور چلتے ہیں کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے۔۔آرزو نے نور سے کہا__
“چلو چلتے ہیں”
” ایک منٹ زرا رکو وہ دیکھو یہ عالیار بھائی ہی ہیں نہ اور یہ ان کے ساتھ لڑکی کون ہے؟؟؟” آرزو کی نظر عالیار اور نازلین پر گئی۔
” کون؟” نور نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عالیار اور نازلین ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔
” یہ لڑکی کون ہے جو عالیار کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوئی ہے” نور کو غصہ آرہا تھا
” رکو میں پوچھ کر آتی ہوں ” نور اٹھی اور ان دونوں کی طرف بڑھی_
” عالیار مجھے تم سے بات کرنی ہے ” نور نے جا کر عالیار سے کہا_
اس سے پہلے کہ عالیار کچھ کہتا۔۔
” تم ہوتی کون ہو؟؟ عالیار سے یہ کہنے والی! ” نازلین نے کہا_
” تم سے مطلب ؟؟” نور نے اسے منھ توڑ جواب دیا۔
” بڑی ہی بھئی بد تمیز لڑکی ہو_ میں تم جیسی لڑکیوں کو اچھے سے جانتی ہوں پتہ نہیں کہاں کہاں سے اٹھ کر آجا تی ہیں” نازلین نے کہا
نور نے اس کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور چلی گئی۔عالیار جانتا تھا کہ وہ ناراض ہو گئی ہے__
” نازلین یہ کیا بد تمیزی ہے_” عالیار غصے سے بولا
” کیا مطلب؟؟” وہ ابھی بھی ڈیٹھ بنی ہوئی تھی۔
” تمھیں کیا ضرورت تھی اس سے اس طرح بات کرنی اب وہ ناراض ہو گئی ہے مجھ سے” عالیار اٹھا اور بولا_
نازلین چڑ گئی اور غصے سے بولی آخر تمھیں اس لڑکی کی اتنی کیوں پرواہ ہے؟؟
” کیونکہ بیوی ہے وہ میری!_” عالیار بولا
” کیا! تم نے اس دو کوڑی کی لڑکی سے شادی کی ” اس صدمہ لگا__
“شٹ اپ !” وہ کہتا ہوا چلا گیا_
