Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 16)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 16)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
اس کی یہ بات سن کر پہلے تو عامر نے اپنے بالوں میں ہاتھ مارا اور تھوڑا سا مسکرایا لیکن پھر بولا…” تم ہو اتنی حسین پری تم دور نہیں رہا جاتا__” وہ اسے پیار سے پری کہتا تھا۔۔۔
” او جسٹ شٹ اپ اور یہ کیا تم مجھے کہتے ہو میرا نام آرزو ہے مجھے میرے نام سے پکارو تمھیں سمجھ آئی۔۔۔۔”
وہ شدید غصے میں نہیں بلکہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔
” ٹھیک ہے پری۔۔۔” وہ شرارت سے بولا۔۔۔
اس نے اس بات کا جواب نہ دیا اور نور کے پاس برائیڈل روم میں چلی گئی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
عالیار اسٹین پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ لوگ نور کو لائیں اور وہ اس کا دیدار کریں۔۔
” یار اتنی دیر ہو گئی ہمیں آئے ہوئے لیکن دلہن ( نور) ابھی بھی نہیں آئی۔۔۔” وہ دل میں سوچ رہا تھا۔۔ جب کہ انھیں آئے صرف ڈس منٹ ہوئے تھے اور اس سے بالکل صبر نہیں ہو رہا تھا۔۔
آخرکار کچھ دیر بعد آرزو اور نور کی بھابھی نور کو لے کر آ ہی گئی۔۔۔۔
عالیار اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کھڑا ہوا۔۔
نور سٹیج کے پاس پہنچی تو عالیار نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا پہلے تمکو شرم تو بہت آئی لیکن پھر بھی اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھاما گئی۔۔
پھر وہ دونوں سٹیج پر پڑے ہوئے صوفے بیٹھ گئے۔۔۔
” نہایت ہی حسین لگ رہی ہو۔۔۔” عالیار نے نور کے کان میں سرگوشی کی جس کے جواب میں نور ہلکا سا مسکرا گئی۔۔۔
اس کے بعد دودھ بلائی کی رسم کی گئی۔۔۔ چونکہ نور کی کوئی بہن نہیں تھی تو یہ رسم اس کی بھابھی نے اور اس کی بہترین دوست آرزو نے ادا کی۔۔۔
عالیار نے تھوڑا سا دودھ پیا۔۔۔ دودھ پلائی کی رسم میں آرزو نے ایک لاکھ کی شرط رکھی۔۔۔ عالیار ایک لاکھ تو دے دیتا لیکن اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ دودھ پلائی کی رسم بھی ہوتی ہے؟؟؟…
اس کے رسم کے بعد کچھ اہم رسومات ادا کی گئی۔۔۔۔
ان تمام رسومات کے بعد اب رخصتی کی باری تھی۔۔
رخصتی کے وقت کس لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نہیں آتے۔۔۔؟
اسی طرح نور کی آنکھوں سے آنسو آگئے۔۔۔
وہ اپنی والدہ سے بھائی سے بھابھی سے اور اپنے بابا سے ایک ایک کر کے گلے ملی۔۔
ایک لوتی بہن٬ بیٹی۔اور ایک اچھی نند ہونے کے وجہ سے ان لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔۔
اس کے بعد نور اور عالیار گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ بیڈ پر اپنا لہنگا پھیلائے اس کا بیٹھ کر انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
” اے اللہ تم لڑکیوں کے لہنگے توبہ یاللہ پورے بیڈ پر پھیلایا ہوا ہے__” اس نے شرارت سے اسے دیکھا۔۔۔
” عالیار آپ میرا مزاق اڑا رہیں ہیں۔۔۔” اس نے اسے گھورا۔۔
” نہیں میری جان میں آپ کا مزاق اڑا سکتا ہوں۔۔۔” اس نے اسے کہا۔۔
یہ کہہ کر وہ اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔ اور اپنی جیب سے ایک ڈبہ نکالا اور اسے کھولا تو اس میں ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ کی انگھوٹی چمک اٹھی۔۔۔۔۔۔
” واؤ عالیار اٹس سو بیوٹیفل۔۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔
” لیکن تمھارے حسن کے آگے اس کی کیا اوقات؟؟”
” عالیار آپ بھی نہ۔۔۔”
اس کی اس بات کے بعد عالیار نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔ اور اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنائی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کسے ان ناون نمبر سے بار بار آرزو کو فون آرہا تھا۔۔۔
یہ کس کا فون ہے؟؟؟؟
اس نے تنگ آکر فون اٹھا کی لیا۔۔
” ہیلو پری!” دوسری طرف سے کہا گیا۔۔۔۔۔
عامر کی آواز،سنتے ہی اس نے کہا” سوری رانگ نمبر۔۔۔”
ارے ارے !! رکو تو سہی رانگ نمبر نہیں ہے میں ہو عامر۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔۔
کیا کام ہے؟؟ آرزو سریس ہو کر بولی۔۔
یہ کیا تم ہر وقت مجھ سے لڑنے کے بہانے سوچتی رہتی ہو میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہوا ہے؟؟؟ عامر ایک ہی سانس میں سب کچھ بول گیا۔۔
اس بات پر آرزو کے چہرے ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے ابھی مجھے نیند آرہی ہے بعد میں بات ہو گی۔۔۔”
” آک ڈئیر۔۔۔” دوسری طرف سے کہا گیا۔۔
سلین اس کے پاس پہنچی۔۔۔
” چھوٹے چھوٹے میاں کیا ہو رہا ہے بڑی ہنس ہنس کر باتیں ہو رہی ہیں فون پر کیا چکر ہے؟؟؟؟…. اس نے کہا۔۔۔
ارے یار کچھ نہیں وہ دراصل وہ جو بھابھی کی دوست ہے نہ ۔۔
اؤ تو تم اسے پسند کرتے ہو۔۔۔ میں تو کہتی شادی کرلوں ماشااللہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔ سلین مسکراتے ہوئے بولی۔۔
تم بس کچھ دیر انتظار کرو۔۔۔عامر نے کہا۔۔۔
Ok…
سلین کہہ کر کمرے میں چلی گئی۔۔
