Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 01)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 01)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
نور کو اٹھانے کے لیے امی کمرے میں داخل ہوئی۔پردے پیچھے کئے اور روشنی کو اندر آنے کی اجازت دی۔روشنی کی کرنیں نور چہرے پر پڑھ رہی تھی اس لیے اٹھ کر بیٹھ گئی۔”امی اتنی صبح صبح کیوں اٹھا دیا”نور منھ بناتے ہوئے بولی”بیٹا بھائی آرہا ہے کچھ تیاریاں شروع کرو اور تم سوئی ہوئی ہو”امی نے جواب دیا۔”امی کھانا بنا لیں میں نے یونیورسٹی جانا ہے”نور نے کہا۔”یونی”۔امی نے غصے سے کہا جی امی یونی۔نور نے جواب دیا۔میں نے تمھیں رات کو کہا تھا کہ ایک دن یونی نہ جاؤ۔امی نے کہا۔میری پیاری امی جان آپ کو پتہ ہے کہ میرا لاسٹ سمسٹر چل رہا اس مجھے اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہے۔نور نے پیار سے جواب دیااچھا بابا ٹھیک ہے۔تیار ہو کر نیچے آؤ کرو اور پھر چلی جانا۔امی کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئیاچھا ٹھیک ہے امی جان۔نور درانی احمر درانی کی اک لوتی بیٹی اور صالح احمر کی اک لوتی بہن تھی۔گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھی۔اس کے باپ نے ہمیشہ اسے جیتنا سکھایا۔ اللہ کے سوا کسی کے سامنے جھکنے نہیں سکھایا تھا۔نور لڑکوں سے نہ دوستی کرتی اور نہ ان سے بات کرتی۔کیونکہ وہ جانتی تھی اسلام میں نامحرم سے بات کرنے کی اجازت نہیں” نور تیار ہو کر نیچے آئی۔اسلام علیکم بھابھینور نے اپنی بھابھی سے کہا۔وعلیکم اسلام!نور تم آج بھی یونی جا رہی ہوحریم(نور کی بھابھی)نے کہا۔ بھابھی لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے اس لیے جانا ضروری ہے۔نور نے اسے جواب دیاامی بابا نہیں اٹھے۔نور نے پوچھا_ وہ صبح ہی اٹھ گئے تھے اور اس وقت آفس میں ہیں۔امی نے جواب دیا۔اچھا چلیں ٹھیک میں جا رہی ہو کہیں لیٹ نہ ہو جاؤ خدا حافظ۔نور کہہ کر چلی گئی_
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
نور کالج پہنچی آج وہ تین دن بعد آئی تھی کالج۔اس کی دوست بھی آرزو بھی اسے وہی مل گئی۔”نور آج کیسے آنا ہوا آج بھی نہ آتی”آرزو نے شرارت سے کہا۔”سوری یار وہ “اس سے پہلے کہ نور بات مکمل کرتی آرزو بولیکیا سوری نہ کال اٹینڈ کی اور نہ ہی کسی مسیج کا ریپلائے”سوری نہ امی اور بھابھی تو آج بھی نہیں آنے دے رہی تھی۔نور نے کہاباتیں کرتی کرتی وہ دونوں کینٹین کے پاس پہنچ چکی تھی۔نور تم کچھ کھاؤ گی۔آرزو نے پوچھا۔
نہیں میں کلاس میں جا رہی تم وہی آجانا۔نور نے جواب دیا۔ٹھیک ہے۔آرزو نے کہا۔نور کلاس روم میں آئی اور اس نے دیکھا کہ کچھ لڑکے ایک لڑکے کو پریشان کر رہے تھے۔
تمھیں میں نے کہا ہے نہ کہ ہماری اسائمنٹ تم بناؤ گے تمھیں سمجھ نہیں آیا۔عالیار شاہ نے کہا۔ نہیں میں نہیں بناؤں گا۔اس لڑکے نے جواب دیا۔لگتا تم اس طرح نہیں مانو گے دوسرا طریقہ اپنانا پڑے گا۔عالیار نے کہا۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ کرتا اسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔وہ فوراً کھڑا ہوا۔
وہاں نور کھڑی تھی کسی کے غلط نہیں ہونے دے سکتی تھی۔یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟ نور نے سوال کیالیکن عالیات سوالات کا عادی نہیں تھا۔ اس لیے سوال کا جواب دینے کی بجائے بولا اے لڑکی تمھارا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں اس لیے چپ چلی جاؤاگر اپنا کام حود نہیں کر سکتے تو یہاں کیا کرنے آتے ہو؟؟ نور نے ایک اور سوال پوچھا۔ پوری یونیورسٹی میں کسی کی اتنی جرت نہ تھی کہ عالیار شاہ سے سوال کرے۔لیکن نور بھی کچھ کم نہ تھی۔وہ کسی سے ڈرتی نہیں تھی۔اتنی دیر میں آرزو بھی وہاں آچکی تھی۔اتنا ہے تم ہمیں اسائمنٹ بنا دو۔عالیار نے کہا۔کیوں میں کیوں بنا کے دو آپ کے ہاتھ نہیں ہیں کیا؟؟؟؟۔نور نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔اس سے پہلے عالیار کچھ بولتا۔ آرزو نور کو وہاں سے لے گئی۔آج پہلے بار کسی نے عالیار سے اس لہجے میں بات کی تھی۔نور تم پاگل ہو گئی ہو پتا ہے کس سے بات کر رہی تھی تم وہ عالیار شاہ ہے پوری یونیورسٹی اس سے ڈرتی ہے اور تم اس سے پنگا لے لو۔آرزو غصے سے بولی۔میں کسی سے نہیں ڈرتی آرزو تم جانتی ہو۔نور نے جواب دیا۔اسی کا تو ڈر ہے کہ کہیں کوئی بڑا پنگا نہ لے لو۔آرزو نے کہا۔حیر اب چلو کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔نور نے کہا ♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️ اسلام علیکم امی!احمر گھر صالح گھر میں داخل ہوا۔وعلیکم اسلام میرا بیٹا!!امی اس جا کر گلے ملی۔صالح نے ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔کیسی طبیعت ہے آپ کی امی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔تم سناؤ کیسے ہو؟؟امی نے پوچھا۔ٹھیک امی حریم کہاں ہے؟؟ صالح نے پوچھابیٹا حریم ابھی کمرے میں گئی ہے تیار ہونے گئی ہے اس سے جاکر مل لو۔امی نے جواب دیا۔جی ٹھیک ہے امی کہہ کر احمر اوپر کمرے میں کی طرف بڑھا__
