231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 14)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

اگلے دن نور یونی پہنچی۔ وہ آج صالح کے ساتھ آئی۔عالیار یونی کے گیٹ پر کھڑا ہو کر انتظار کر رہا تھا_جیسے ہی وہ وہاں پہنچی عالیار نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ لے کر جانے لگا_

نور نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کہا ” یہ کیا حرکت ہے عالیار کوئی دیکھ لے گا__”
نور اسے غصے سے بولی_

” دیکھتا ہے تو دیکھے تم میری بیوی ہو مجھے کسی کا کوئی دڑ نہیں اور مجھے پوچھنے والا کوئی اور نہیں__” عالیار نے اپنے شوہر ہونے کا حق جتایا اور اس کا ہاتھ دوبارہ پکڑ لیا_

اس کی اس حرکت پر اسے غصہ تو بڑا آیا پر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ اس کی بات نہیں مانے گا_

وہ اس کے ساتھ کینٹین پر آکر بیٹھ گئی_

” دیکھو عالیار نکاح ہو چکا ہے تم اپنے والدین سے بات کرو تاکہ وہ آکر رشتہ کی بات کریں اور اگر نہیں تو ہم اپنی راہیں جدا کر لیں گے۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولی۔۔

” خبر دار آج پہلی اور آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے دور جانے کی بات کی تو۔۔۔ حیر مجھے دو دن کا ٹائم چاہئیے۔۔۔” عالیار نے کہا_

” ٹھیک ہے میں کلاس میں جا رہی ہوں__” یہ کہہ نور کلاس کی چلی گئی۔۔

” میڈم بہت جلدی یاد آگئی آپ کو یونی کی۔۔۔۔۔۔۔” آرزو یونی لیٹ آئی۔۔ اور جب نور سے ملی تو اس نے شرارت سے کہا۔۔

” سو سوری یار! ویسے تم بتاؤ اب طبعیت کیسی ہے؟؟؟؟؟؟_____” آرزو سے نور نے اس کا حال پوچھا_

” اللہ کا شکر ہے تم سناؤ___”

” الحمدللہ__”

کلاس ختم ہونے کے بعد نور اور آرزو باہر آۓ__

” چلو تمھیں تمھارے گھر چھوڑ آؤ___” عالیار نور کے پاس آیا اور اس سے کہا_

” نہیں عالیار اس کی کوئی ضرورت نہیں مجھے بھائی لینے آجائیں گے___” نور نے اس سے کہا_

” ٹھیک ہے___”

” ہیلو بابا کیا حال ہے__؟؟” عالیار نے گھر آکر اپنے بابا کو فون کیا تاکہ وہ ان سے بات کر سکیں_

” بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں__ تم سناؤ آج کیسے مجھے یاد کر لیا__”؟ اس کے بابا نے کہا_

” بابا آپ کو آنٹی( اس کی سوتیلی ماما) اور عامر کو دو دن میں پاکستان آنا ہو گا میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔ میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں۔۔۔” عالیار نے انھیں بتایا_

” کیا واقع چلو میں کچھ کرتا ہو اور جلد از،جلد میں آنے کی کوشش کرتا ہوں__” عالیار کی یہ بات سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔

” جی ٹھیک ہے بابا__”

شائید وہ پہلے آنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کی شادی کی بات کی وجہ سے وہ جلدی سے پاکستان پہنچنا چاہتے تھے۔۔ کیونکہ کتنے ہی رشتے تھے جن کو عالیار ریجیکٹ کر چکا تھا_ اور آج وہ شادی کی بات کر رہا ہے____

اسلام علیکم! نور نے گھر آتے ہی سب کو سلام کیا__

وعلیکم السلام! گھر میں موجود لوگوں نے اس کو جواب دیا_

پھر وہ کمرے میں آگئی۔۔۔۔اور شیشے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔

” کیا میں وہی نور ہوں؟؟؟؟ جس نے آج تک کسی لڑکے سے بات تک نہیں کی تھی۔۔ اور آج میں عالیار شاہ سے شادی کی خواہش مند ہو۔۔۔ میں اس کو پسند کرنے لگ گئی ہوں۔۔۔ اپنے خیالات پر وہ خود ہی مسکرا گئی۔۔

کچھ دن بعد۔۔۔۔

عالیار کا بھائی اس کی سوتیلی ماں اور باپ آگئے تھے۔۔۔۔

عالیار کو لینے اس کا بھائی عامر اس کی یونی آیا وہ اسے سرپرائز دینے کے لیے۔۔۔

عامر آرہا تھا۔۔۔ کہ وہ کسی خوبصورت سی لڑکی سے ٹکڑا گیا_

” او ہیلو! اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا کیا؟؟ جو ایسے مجھ میں ٹکڑا گئے ہو___” وہ غصے سے بولی__

” میڈم میں آپ سے۔۔۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ عامر بات مکمل کرتا وہ بولی___

” کیا مجھ سے۔۔۔ اگلی دفعہ اگر کہیں میں نظر آؤں تو سو میل دور ہی رہنا___” وہ کہہ کر چلی گئی اور یہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ آرزو ملک تھی۔۔۔۔

عامر تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا__

جب عالیار اور وہ گھر پہنچے تو عامر نے اسے ساری بات بتائی۔۔۔۔۔عالیار ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو گیا___

” ویسے جس طرح کی تم بتا رہی اسی طرح کی مخلوق ہمارے پلے پڑی ہے۔۔۔” عالیار نے عامر سے کہا_

اس کی اس بات پر عامر نے قہقہ لگایا____

اب کچھ ہی دن باقی تھے عالیار اور نور کی شادی میں۔۔۔۔