Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Last updated: 2 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

Novel Code: NovelR40491

"آپ پھر آگئے شائید کل کی بیضتی بھولے نہیں آپ " نور غصے سے بولی۔۔ "اسی بیضتی کا بدلہ لینے آیا ہوں چلو میرے ساتھ" عالیار نے کہا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے لے کر جانے لگا۔۔"چھوڑو چھوڑو مجھے" نور نے خود کو اس شحص سے چھڑوانے کی بہت کوشش کی مگر گرفت بہت مظبوط تھی__عالیار نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور ساتھ لے گیا__ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے اس نے گاڑی روکی۔۔ عالیار نور کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولنے آیا مگر نور اتر چکی تھی۔۔ "یہاں کیوں لائے ہیں مجھے ؟؟" نور نے عالیار سے سوال کیا_ "تم اندر آؤ سب پتہ چل جائے گا" عالیار نے جواب دیا اور اس کا پکڑ کر لے کر جانے لگا۔۔نور نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کہا"میں خود جا سکتی آپ کو میرا ہاتھ پکڑنے کوئی ضرورت نہیں__" "اچھا ٹھیک ہے" عالیار نے کہا__ وہ اسے گھر کے اندر لے کر آیا اور ایک کمرے میں لے گیا اور اس سے کہا" اب میری بات غور سے سنو آج تم مجھ سے نکاح کرو گی " نہیں میں تم نکاح نہیں کروں گی اور کیوں کروں؟؟" نور غصے سے بولی۔۔ "تمھیں نکاح کرنا ہو گا" عالیار نے پھر کہا۔۔ " اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ میں تم سے نکاح کروں گی" نور اپنی بات پر بضد رہی__ "میں کچھ تمھیں دکھانا چاہتا ہوں وہ دیکھ کر تم نکاح ضرور کرو گی" عالیار نے کہا-- "کی؟؟" نور نے سوال پوچھا۔ "پیچھے دیکھو" "کیا ہے پیچھے" نور نے کہا۔۔ وہ جیسے ہی مڑی۔۔ "آرزو" ”آرزو" وہ کہتے ہوئے آرزو کی طرف بھاگی__ آرزو کا جسم رسیوں جھکڑ رکھا تھا۔۔ "یہ کیا ہے؟؟" نور غصے سے بولی۔۔"مجھ سے نکاح کر لو اور اپنی دوست کو مجھ سے بچا لو" عالیار نے اپنا موقف بیان کیا__ پہلے تو نور چپ رہی پر اپنی دوست کی جان بچانے کے لیے نور نے ہاں کہہ دیا۔۔ ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ۔۔ عالیار نے کہا__ "وہ نور کو ہال میں لے کر آیا وہاں نکاح خواں اور اس کے کچھ دوست بیٹھے تھے " "مولوی صاحب نکاح شروع کیجئے" عالیار نے کہا۔۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا اور نور نے ہاں کردی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اس کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں__ اب وہ نور درانی سے نور عالیار شاہ بن چکی تھی_ نکاح حتم ہوتے آرزو کے پاس گئی اور اس کے جسم پر بندھی ہوئی رسیاں کھولی___