231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 07)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

عالیار غصے میں بولا ” آج تو اسے چھوڑو گا نہیں”۔ عالیار نور کے پیچھے گیا اور اس کا بازو پکڑ کے اس رخ اپنی طرف کیا۔ اس وقت کوریڈور میں کوئی نہیں تھا۔ عالیار اسے یونی کی پچھلے سائیڈ پر لے گیا۔ اسے دیوار سے ٹیک لگوا کر اس نے اس کے ارد گرد بازو رکھے تاکہ وہ کہیں جا نا سکیں۔”سمجھتی کیا ہو تم کہ تم مجھے اگنور کروں گی اور میں تمھارے پیچھے پیچھے ہی آتا رہوں گا” عالیار غصے سے بولا۔ ” تمھیں کسی نے انویٹیشن کارڈ نہیں دیا میرے پیچھے آنے کا ” نور نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔ ” کل یونی کیوں نہیں آئی تھی؟؟” عالیار نے سوال پوچھا۔ ” تم ہوتے کون ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے والے ؟؟” نور نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا اس ہی سے سوال کر دیا_ ” تمھارا شوہر” عالیار نے شوہر ہونے کا حق جتایا۔ ” میں نہیں مانتی اس نکاح کو” نور نے کہا۔ ” ” تم مانو یا نہ مانو ہو تو تم میری بیوی اب جلدی سے بتاؤ کل کہاں تھی؟؟” عالیار نے کہا۔ ” میں جہاں بھی تھی بس تم اتنا جان لو کہ کل کسی ضروری کام کی وجہ سے نہیں آسکی” یہ کہتے ہوئے نور نے اس کو پیچھے کیا اور چلی گئی_ “رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔”۔ عالیار نے سوچا” سمجھتا کیا خود کو نکما پاگل نکھٹو اکڑو اس کی وجہ سے میری ایک کلاس بھی مس ہو گئی بے شرم کہیں کا” یہ نور کے حیالات تھے جو اس نے عالیار کے بارے میں سوچ رکھے تھے یونی کے بعد نور گھر چلی گئی


نور گھر آئی اور سب کو سلام کیا۔ وعلیکم السلام! سب نے جواب دیا۔ نور ادھر ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ ” نور بیٹا ہم نے سوچا کہ تمھاری پڑھائی جب ختم ہو گی تو تمھارا صرض بھی ادا کردیں ” ابو نے کہا۔ یہ سنتے ہی نور کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ” ابو مجھے ابھی شادی نہیں کرنی میں کچھ بننا چاہتی ہوں اس بات کو یہں ختم کر دیں۔۔” نور نے دو ٹوک الفاظ میں بات مکمل کی۔۔
یہ کہہ کر نور کمرے میں چلی گئی۔


اگلے دن نور نماز پڑھ کر کے نیچے آئی۔ ” بھائی آپ مجھے آپ ڈراپ کر دیں۔” نور نے صالح سے کہا_ ” ٹھیک ہے نور ” صالح نے کہا۔ نور اور صالح گھر سے جا چکے تھے۔ ” نور مجھے یاد آیا ایک ایمپوڑٹنٹ فائنل ہے جو میں نے آفس سے لینی اور میرا دوست بھی آفس میں بیٹھا ہے صرف پانچ منٹ لگے گیں” صالح نے کہا۔ ” کوئی بات نہیں بھائی!” نور نے جواب دیا۔ نور صالح کے ساتھ اس کے آفس آئی تھی۔ نور کو باہر اکیلے رکنا مناسب نہ لگا تو وہ اندر چلی گئی۔ نور صالح کے آفس کی طرف بڑھی۔نور کمرے میں داخل ہوئی اور وہاں صالح کا دوست بیٹھا ہوا تھا اور صالح بھی۔ اس کا دوست پیچھے مڑا۔۔ ” ارے جواد تم یہاں؟؟ ” نور نے حیرانگی سے کہا۔ نور تم اسے کیسے جانتی ہو۔۔ ” بھائی یہ میرا کلاس فیلو ہے ” ” او اچھا کیا اتفاق ہے نہ۔۔ ” صالح نے کہا۔ ” نور تم ایک کام ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ کیونکہ میرا ابھی کافی کام باقی ہے” صالح نے کہا۔ ” ارے میرے ساتھ چلی جاؤ میں بھی یونی ہی جا رہا ہوں ” جواد نے کہا۔ اس سے پہلے کہ نور کچھ بولتی صالح نے کہا” ٹھیک ہے۔۔” نور بھی پھر چپ کر گئی_ نور اور جواد یونی پہنچ گئے تھے۔ اور اسی وقت عالیار بھی پہنچا۔ اس نے نور کو جواد کی گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا تو سینے میں جلن سی ہوئی۔ ” اس نے آنا تھا تو میرے ساتھ ہی آجاتی اس کے ساتھ کیوں آئی؟؟” عالیار خود سے گویا تھا۔ اتنے میں ہی نور کلاس روم میں جا چکی تھی۔ عالیار بھی اس کے پیچھے گیا۔۔ لیکن اس نے اس کی طرف دیکھا بھی نہ۔۔ عالیار نے دل میں سوچا ” پتہ نہیں کس مٹی سے بنی ہے یہ لڑکی ” ۔ کلاس ختم ہونے کے بعد جواد نور کے پاس گیا اور اس سے کہا ” نور کیا تم اسائمنٹ بنانے میں مدد کر سکتی ہو؟؟” پڑھائی کے معاملے میں وہ ہر کسی کی مدد کرتی تھی نور نے جواد کی مدد بھی کی۔ یہ دیکھ کر عالیار کے تن فن میں آگ لگ گئی۔ ” آخر اس لڑکی کو ہو کیا گیا ہے؟؟ ” وہ خود سے بات کر رہا تھا_