231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 11)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

نازلین دور کھڑے ان دو مسکراتے ہوئے چہروں سے اس قدر جل رہی تھی کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ ان کی جا کر جان لے لیں۔ وہ کل کی انسلٹ بھولی نہیں تھی جو عالیار نے اس کی کی تھی۔

” ہنس کو جتنا ہنسنا ہے پر واپس تو تم میرے پاس ہی آؤ گے عالیار شاہ” نازلین غصے میں وہاں سے چلی گئی۔

” عالیار چلو اب کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے کیا سارا دن یہی بیٹھنا ہے؟؟؟”
نور نے عالیار سے کہا_

” چلیں ” اس نے کہہ تو دیا تھا لیکن وہ چاہتا یہی تھا کہ نور وہاں بیٹھ کر اس سے باتیں کریں_

کلاس ختم ہونے کے بعد وہ دونوں ساتھ ہی باہر نکلے_

” ویسے عالیار تم نے مجھے کل کال کی تھی میں نے تو تمھیں اپنا نمبر دیا نہیں تو تمھارے پاس میرا نمبر کیسے آیا_” نور نے سوال کیا

” وہ کل تمھارے جانے کے بعد میں نے آرزو سے لیا تھا تمھارا نمبر” عالیار نے جواب دیا_

” حیر میں اب چلتی ہو اللہ حافظ” نور کہہ کر باہر کی طرف بڑھ گئی__

••••••••••••••

” اسلام علیکم” نور نے معمول کے مطابق گھر داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا__

” وعلیکم السلام” امی اور حریم نے کہا_

” امی ابو کہاں ہیں؟؟” ابو کو گھر پر نا پا کر نور نے امی سے سوال کیا__

” بیٹا وہ زرا باہر گئے ہیں آتے ہی ہو نگے” امی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا__

” ٹھیک ہے امی میں بھی اپنے کمرے میں جا رہی ہوں” نور یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

نور کمرے میں آئی وضو کر کے نماز پڑھی اور پھر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی_

آرزو نے نور کو فون کیا_ ” اسلام علیکم نور ” آرزو نے کہا

” وعلیکم السلام کیا حال ہے آرزو؟؟؟؟؟؟” نور نے سلام کا جواب دیتے ہوئے سوال بھی کیا_

صالح گھر میں داخل ہوا۔۔ اسلام علیکم۔۔ اس نے کہا۔۔

” وعلیکم السلام” دوسری طرف سے جواب ملا۔

” امی نور اپنے کمرے میں ہے کیا؟؟ صالح نے پوچھا__

” ہاں بیٹا” امی نے جواب دیا۔ ” ٹھیک ہے” کہہ کر وہ نور کے کمرے کی طرف بڑھ گیا

” یار تم نے عالیار کو میرا نمبر کیوں دیا ویسے یونی میں کم تھا جو موبائل پر بھی_” نور بولی

اس کی اس بات پر آرزو کا قہقہ لگالیکن صالح درانی اس کی باتیں سن کر وہی رک گیا

” یار اس نے نکاح تو کر لیا ہے پر ہر وقت شوہر ہونے کا حق جتاتا ہے_” نور نے آرزو سے کہا

اس کی اس بات پر اب وہ باہر کھڑا شخص کمرے میں داخل ہوا اور حیرانگی سے اس نے کہا ” کیسا نکاح ؟؟؟_”

یہ آواز سنتے ہی نور پیچھے کی طرف مڑی تو دنک رہ گئی۔۔ ” بھائی آپ “
” آرزو میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں ” یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی_

” کس نکاح کی تم بات کر رہی تھی؟؟؟” صالح ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا__

” بھائی آپ یہاں بیٹھ جائیں میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔۔۔” نور نے کہا_ صالح پاس پڑے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا

” بھائی دراصل بات یہ ہے یونی کا سب بت تمیز لڑکا عالیار شاہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا تو میں نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا_ اس کے بدلے اگلے ہی دن اس نے آرزو کو اغواہ کر لیا اور میرے سامنے شرط رکھی کہ اگر میں اس سے نکاح کروں گی تو ہی وہ آرزو کو چھوڑے گا_ تو ان حالات میں مجھے آرزو کی جان بچانے کے لیے یہ سب کرنا پڑا_” نور نے اسے سارا واقع بیان کیا۔۔

نور کی بات سن کر صالح کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں تو اس نے اپنا سر ہاتھوں میں دے دیا__

” مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں اور تم نے مجھے بتانا تک گوارہ نہ کیا کیا تمھیں اتنا بھی یقین نہیں ہے مجھ پر_” صالح نے کہا

” بھائی مجھے آپ پر یقین ہے پر میں وقت کا انتظار کر رہی تھی۔” نور نے اسے جواب دیا__

” حیر اس بارے میں میں بعد میں بات کریں گے” یہ کہہ کر صالح نے کہا_

•••••••••••••

اگلے دن جب نور اٹھی تو عالیار کے پچیس مسڈ کالز اور پچاس مسیجز آئے ہوئے تھے۔۔

” یونی آؤ گی” اس نے سوال کیا_

” ظاہر سی بات ہے عالیار یونی تو ضرور آؤ گی”

نور ناشتہ کر کے یونی کے لیے روانہ ہوگئی۔ آج وہ اکیلی اپنی گاڑی پر جا رہی تھی__

وہ یونی پہنچی گاڑی پارک کی اور جیسے ہی گاڑی سے اتری کسی نے پیچھے سے اس کے منھ پر رومال رکھا جس میں بے ہوشی کی دوا تھی۔ نور نے خود کو چھڑوانے کی کوشش تو کی لیکن ناکام وہ بے ہوش ہو چکی تھی پیچھے سے ایک گاڑی اور اسے اس میں بٹھا کر لے گئے__

عالیار نور کو کالز کر رہا تھا لیکن وہ کال نہیں اٹھا رہی تھی__

” آرزو نور نہیں آئی اب تک ؟؟؟ ” وہ آرزو کے پاس گیا اور اس سے سوال کیا_

” پتہ نہیں عالیار میں اسے کال بھی کر رہی ہوں لیکن وہ اٹینڈ نہیں کر رہی” آرزو نے لا علمی کا اظہار کیا

” بھائی نور کی گاڑی تو یونی کے پارکنگ ایریا میں کھڑی ہےعالیار کا ایک دوست آیا اور اس نے کہا__

” کیا! آخر نور گئی تو گئی کہاں” عالیار حیران ہوا__