Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 18)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 18)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
نور اور عالیار ہوسپٹل پہنچے۔۔۔ریسیپشن سے انھوں نے پتا روم کا پتا لگا لیا ۔۔۔
وہ اس طرف گئے۔۔۔۔ نور کی والدہ اس کے والد وہی موجود تھے۔۔
” امی !! یہ سب کیسے ہوا؟؟؟٬٬٬٫ “
نور اپنی والدہ کے پاس گئی اور ان سے جا کر سوال کیا۔۔
” بیٹا !! حریم اور صالح کو ناشتہ لے کر بھیجا تھا پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔۔۔ میں نہیں جانتی ہوسپٹل سے فون آیا کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔٬٬٬٬ “
وہ کہہ ہی رہی تھی کی ان کی آنکھوں سے آنسو آگئے۔۔۔
” امی !! آپ فکر مت کریں اللہ سب کچھ ٹھیک کر دیں گا انشاللہ بھائی اور بھابھی بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔۔”
نور نے اپنی والدہ کے آنسو صاف کئیے اور انھیں تسلی دی۔۔۔۔
” آنٹی آپ فکر مت کریں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔”
عالیار نے بھی انھیں تسلی دی۔۔۔
” تم بیٹھو !! میں تمھارے لیے پانی لاتا ہوں۔۔”
نور کے والد نے کہا اور پانی لینے چلے گئے۔۔۔۔
ان کے جانے کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر ایک نرس آئی۔۔۔ اسے دیکھ کر نور اور عالیار اس کی طرف بڑھے۔۔۔
” ڈاکٹر صاحب !!! میرا بیٹا اور بیٹی کیسی ہے۔۔۔؟؟٬٬٫”
نور کی والدہ نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا۔۔
” دیکھیں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے آپ بس ان کے لیے دعا کریں۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ دوسری طرف بڑھ گئی۔۔۔
” اے اللہ !! میرے بیٹے اور بیٹی کو صحت عطا فرما۔۔۔”
نور کی والدہ نے اپنے بچو کے لیے دعا کی۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
آرزو ہوسپٹل پہنچی۔۔۔۔ عامر بھی اسی وقت وہاں پہنچا۔۔۔
” زھے نصیب آپ یہاں کیسے؟؟؟….”
وہ اس کے پاس آتا ہوا پوچھتا ہے ۔…
” یہ یہاں بھی ٹپک پڑا۔۔۔”
وہ لب بھینجتی ہے۔۔۔
” کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟ “
وہ اس کی لبوں کو دیکھ لیتا ہے اور بولتا ہے۔۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
” اسی طرح ہستی مسکراتی رہا کرو بہت کیوٹ لگتی ہو پری۔۔۔۔۔٬٬٫”
وہ بھی مسکراتے ہوئے بولتا ہے۔۔
” تم نے پھر مجھے پری کہا۔۔۔” وہ غصے سے بولتی ہے۔۔۔
” ویسے سیانے کہتے ہیں کہ پیار کی شروعات اسی طرح ہوتی ہے لڑائی جھگڑے سے۔۔۔۔”
عامر نے کہا۔۔
” تم اور تمھارے سیانے باڑ میں جاؤ۔۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔
” جان من یہ تو شادی کے بعد ہی پتہ چلے گا۔۔۔۔” اس نے اس کے جانے کے بعد کہا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” نور نور !! میری جان کیا ہوا؟؟؟”
آرزو اندر آئی اور سے نور سے ملی۔۔ عالیار نور کے بابا اور اس کی والدہ بھی وہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ نور اس کی بات کا جواب دیتی۔۔۔ وہاں آپریشن تھیٹر سے باہر نکل کر آئی اور کہا۔۔۔
” دیکھیں آپ کے بیٹے کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن آپ کی جو بیٹی ہیں ان کی طبعیت بالکل ٹھیک نہیں ہے حالت بہت کریٹیکل ہے۔۔ پچنا مشکل ہیں ان کے لیے دعا کریں۔۔”
یہ کہہ کر نرس دوبارہ آپریشن تھیٹر میں چلی گئی ۔
نور کی والدہ وہی چئیر پر بیٹھ گئی۔۔۔
” اے اللہ میرے بچی کو زندگی عطا فرما ۔
وہ دونوں حریم کو اپنی ہی بیٹی سمجھتے تھے۔۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی اس کی والدہ کی وفات ہوگئی اور بھائی۔۔۔۔۔۔
