231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 17)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

وہ صبح اٹھا تو آغوش میں لیٹی ہوئی نور وہاں نہیں تھی۔۔ نور !! نور !! اس نے آگے پیچھے دیکھا ہی نہ۔۔

لیکن جب نظر ادھر ادھر دوڑائی تو وہ سامنے ہی بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔۔ اسے دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی۔۔۔۔

اس نے جیسے ہی سلام پھیرا تو فوراً بولا۔۔ ” نور آج تو شادی کا پہلا دن اور تم آج ہی جلدی اٹھ گئی۔۔” وہ آہستگی سے بولا..

” شادی کا پہلا دن ہے تو کیا ہوا نماز تو ہر دن ہی پڑھنی چاہئیے۔۔۔”

اس نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔

” اگر آپ بھی اٹھ ہی گئے تو نماز ہی پڑھ لیں۔۔”

نور نے اسے نماز پڑھنے کی تجویز دی۔۔۔

عالیار ایک دم اٹھا اور بولا۔۔۔ ” اگر تم نے کہا تو پڑھنی تو پڑھے گی میں وضو کر کے پڑھتا ہوں۔۔۔”

” جی ٹھیک ہے۔۔” اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔

اس کے بعد نور دعا مانگنے میں مشغول ہو گئی اور پھر عالیار نے بھی نماز پڑھی۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ اٹھا اور نیچے آیا۔۔

” جی امی آپ نے مجھے بلایا۔۔۔”

صالح نے آکر والدہ سے کہا۔۔

” ہاں بیٹا !! تم تو جانتے ہو نہ کہ شادی کی پہلے دن ناشتہ دلہن کے گھر سے جاتا ہے۔۔۔ تو تم اور حریم جاؤ اور ان کے گھر ناشتہ دے آو۔۔۔”

وہ پیار سے اور مسکرا کر بولی تھی۔۔۔

” جی ٹھیک ہے امی۔۔۔۔” اس نے کہا۔۔

” میں کپڑے جینج کر کے آتی ہوں آپ بھی اس وقت تک فریش ہو جائیں۔۔”

حریم نے صالح سے کہا اور اور اوپر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ دونوں ڑیدی ہو کر ناشتہ کرنے کے لیے نیچے آئیں۔۔

” اسلام علیکم” نور نے ٹیبل پر بیٹھنے سے پہلے سب کو سلام کیا۔۔

” وعلیکم السلام” عالیار کے والد اور والدہ ( سوتیلی) نے کہا۔۔

” بھائی تم اتنی جلدی اٹھ گئے۔۔۔؟؟” عامر نے حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔

” یار تمھاری بھابھی نے اٹھا دیا۔۔۔۔” عالیار نے کہا۔۔

” بھابھی تمھیں بالکل سیدھا کر دیں گی۔۔” عامر شرارت سے بولا۔۔

اس کی اس بات پر سب نے قہقہ لگایا۔۔۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

وہ دونوں رونہ ہو گئے تھے ناشتہ لے کر ۔۔

راستے میں کہیں گاڑی روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔۔

تو صاحب نے بریک لگائی۔۔

لیکن بریک لگانے سے بھی بریک لگی ہی نہیں۔۔۔

” یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ ؟؟؟” وہ حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔

” صالح !! کیا ہوا؟؟؟”

حریم نے صالح سے سوال کیا۔۔۔

لیکن گاڑی کو بریک لگ ہی نہیں رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہو گئی اور جا کر درخت سے ٹکڑائی۔۔

ان دونوں کو کافی چوٹیں آئی۔

🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

” ایک منٹ !! شادی کے پہلے دن تو ناشتہ میرے گھر سے آنا تھا۔۔”

نور رکی اور بولی۔۔۔

ہاں آنا تو تمھارے گھر سے پر کوئی بات نہیں تم ناشتہ کرو۔۔۔

عالیار نے اسے ناشتہ کرنے کا کہا۔۔

اتنی ہی دیر میں نور کو اس کے والد صاحب کا فون آیا۔۔

” اسلام علیکم بابا!!”

وہ اتنا ہی کہہ سکیں لیکن پھر وہ خبر سنتے ہی اس کے پیروں تلی زمین نکل گئی۔۔۔

” کیا !! ” وہ کھڑی ہو گئی۔۔ ” م میں ابھی آتی ہوں۔۔۔” اس نے فون بند کر دیا۔۔۔۔۔

” نور !! کیا ہوا؟؟؟”

عالیار حیران و پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

” عالیار !! و وہ بھائی اور بھابھی کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔۔ ہمیں ہو سپٹل جانا ہو گا۔۔۔”

” ہاں ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔” عالیار نے اس سے کہا اور باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

” یا اللہ میرے بچو کی حفاظت فرما۔۔ یہ کیا ہو گیا۔۔ اللہ انھیں صحت دے۔۔۔”

ان کے جانے کے بعد عالیار کی والدہ نے ان کے لیے دعا کی۔۔