Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 05)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 05)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
آرزو آرزو اٹھو !! نور آرزو کی رسیاں کھول چکی تھی“ن ن نور نور “آرزو نے ہلکی سی آنکھیں کھولی “آرزو تم ٹھیک تو ہو نہ” نور اس کے لیے فکر مند ہوئی_ اب آرزو مکمل طور پر ہوش میں آچکی تھی۔ اسے سب یاد آگیا تھا کہ کس طرح عالیار کے دوستوں نے اس کے منھ پر رومال رکھا جس میں بے ہوشی کی دوا تھی اور پھر وہ بے ہوش ہو گئی۔اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں۔۔۔ “نور نور عالیار کے دوستوں نے میرے منھ پر” اس سے پہلے کہ آرزو بات مکمل کرتی نور بولی ” مجھے سب پتہ ہے نور ایک ایک چیز سے آگاہ ہو چکی ہوں میں تم ایک کروں باہر تمھاری گاڑی کھڑی ہے اس میں جا کر بیٹھ جاؤ میں آرہی ہوں” “پر نور ” آرزو نے سوال کر نا چاہا_ “آرزو میں نے کہا نہ جاؤ”_ نور نے کہا_ “اچھا ٹھیک ہے ” آرزو کہہ کر چلی گئی_ عالیار سب کچھ دیکھ چکا تھا لیکن وہ کچھ نہ بولا_ آرزو کے جانے کے بعد عالیار اسی کمرے میں آیا_ “یہ نکاح میں نے صرف اس تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیے کیا” عالیار نے کہا_ “تم نے نکاح تو کر لیا پر یہ زیادہ دیر تک چل نہیں پائے گا”نور نے بہادری سے جواب دیا_ “ہمارا رشتہ صرف کاغذ کی حد تک ہی ہے بس” نور کے یہ الفاظ عالیار کو طیش دلا رہے تھے_ اس نے کے ایک جھٹکے سے نور کو اپنے قریب کیا_ “یہ تو وقت ہی بتائے کہ ہمارا رشتہ کی حد تک ہے کہ نہیں” عالیار آہستگی سے اس کے کان میں بولا۔ “ہاں بالکل عالیار شاہ” نور نے کہا_ یونی کے ٹائم حتم ہونے ہی والا تھا۔۔ “میں جارہی ہوں یونی کا ٹائم حتم ہونے والا ہے” نور نے کہا نا چاہتے ہوئے بھی پتہ نہیں عالیار نے کیوں ہاں کہہ دیا اور نور اس گھر سے باہر نکل کر آرزو کی گاڑی میں بیٹھی_ نور نے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کا دروازہ بند کیا “نور یہ سب کیا ہو رہا ہے میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا” آرزو نے سوال کیا_ “آرزو ابھی یہاں سے چلو میں تمھیں سب بتاتی ہوں” نور نے کہا_ “اچھا ٹھیک ہے”_ آرزو نے گاڑی اپنے گھر کے سامنے روکی_ وہ دونوں گاڑی سے اتر کر اندر چلے گئے_ “نور مجھے سب کچھ بتاؤ یہ کیا ہو رہا ہے؟؟” آرزو نے سوال پوچھا_ “دیکھو آرزو میری بات غور سے سنا تمھیں کڈنیپ کر کے عالیار نے میرے سامنے شرط رکھی کہ اگر میں اس سے نکاح کرو گی تو ہی وہ تمھیں چھوڑے گا” نور نے کہا ” کیا” پہلے آرزو حیران ہوئی پھر بولی ” نور یہ مت کہنا کہ تم اس سے نکاح کر چکی ہوں” ” تمھیں چھڑوانے کے لیے کرنا پڑا” نور نے کہا_ آرزو نے سر اپنے ہاتھوں میں دے دیا “میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا لگتا ہے کہ پاگل ہو جاؤ گی میں ” آرزو بولی۔۔ ” نور میں نے تمھیں سمجھایا تھا اب دیکھو آج کس مشکل میں پھنس گئے ہیں ” آرزو دکھی ہو کر بولی۔۔ ” آرزو مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے حیر اب میں چلتی ہوں گھر سب ویٹ کر رہے ہونگے” نور نے کہا_ “ٹھیک ہے” آرزو نے کہا
اسلام علیکم نور نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا_ “نور بیٹا آج لیٹ ہو گئی” امی نے سوال کیا_ “وہ امی میں یونی کے بعد آرزو کے گھر چلی گئی تھی” نور نے جواب دیا۔ “ٹھیک ہے” امی نے کہا” اس کے بعد نور اپنے کمرے میں آگئی ” اے اللہ یہ میں نے کیا کیا؟؟ میں نے ایسا کیوں کیا میں عالیار شاہ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ آپ نے قرآن میں فرمایا ہے نہ کہ “نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں اور برے مردوں کے لیے بری عورتیں” تو پھر یہ کیا ہو گیا آج کیوں ؟؟ ” وہ خود سے گویا تھی_ نور کی آنکھیں نم ہو چکی تھی۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ” آرزو کی جان بچانے کے لیے میں اپنی جان بھی قربان کر سکتی ہوں یہ تو پھر ایک نکاح ہے آخر دوست ہی تو دوست کے کام آتے ہیں ۔۔”
رات کے وقت نور کمرے سے باہر آئی۔۔ کھانے کی میز پر آکر بیٹھی۔۔ ” کیا بات ہے نور آج پورا دن کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی تم ؟؟” بابا نے سوال کیا..” کوئی بات نہیں بابا جان بس تھک گئی تھی تو سو گئی” نور نے جواب دیا کھانا کھا کر نور کمرے میں چلی گئی_ “کیسے بتاؤ آپ لوگوں آج میری زندگی کیا کیا ہوا ہے عالیار شاہ تم نے مجھ سے نکاح تو کر لیا پر زیادہ دیر تک یہ نکاح رہ نہیں پائیں گا__” نور بولی۔۔۔
