Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt NovelR40491 Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 15)
Rate this Novel
Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 15)
Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt
وہ سب لوگ نور کے گھر آئے اس کے رشتے کے متعلق بات کرنے کے لیے۔ آنا تو چھ دن بعد تھا۔یکن عالیار کے سر پر جو نور کی محبت کا جنون سوار تھا اس کی وجہ سے انھیں آج ہی آنا پڑا۔۔
آرزو دروازہ کھولنے کے لیے آئی۔۔اس سے نے اپنی نظریں سامنے والے کو دیکھنے کے لیے اٹھائیں۔۔اور پھر جھکا نہ سکیں۔۔
سامنے ایک ہینڈسم سا لڑکا آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے۔۔اسے گھور رہا تھا وہ خود حیران تھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے؟؟؟؟..
پہلے تو آرزو کو لگا کہ شائید اس کا وہم ہے۔۔۔ لیکن جب وہ اندر آیا اور عالیار نے اس کا نام پکارہ ” عامر میرا موبائل گاڑی میں رہ گیا ہے وہ لے آؤ۔۔” اس وقت جا کے اسے یقین ہوا کہ یہ حقیقت ہے۔۔ سب اندر جا چکے تھے۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟_” عامر کو آتا دیکھ کر آرزو اس کو گھورتے ہوئے اس سے سوال کرتی ہے۔۔
” یہ کیا بات ہوئی یہ تو ہمیں پوچھنا چاہئیے کہ آپ محترمہ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟” عامر نہایت ادب کے ساتھ بولا۔
” میں نور کی دوست ہوں آرزو ملک۔۔۔” اس نے اسے جواب دیا.
” اور میں عالیار شاہ کا بھائی عامر شاہ۔۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ مسکراتا ہوا اندر چلا گیا۔۔اور آرزو بھی کچھ دیر بعد اندر آگئی۔۔۔۔
دونوں گھرانوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔۔ اور نور اور عالیار کی شادی کے لیے ایک ماہ بعد کی تاریخ منتخب کی گئی۔۔ویسے نور کے بابا تو چاہتے تھے کہ وہ کچھ دیر بعد کی تاریخ منتخب کریں لیکن پھر وہ بھی مان گئے۔۔
” ویسے نور مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ سب اتنی آسانی سے ہو جائے گا۔۔” عالیار نے رات کو اسے فون کیا_
” میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اتنی آسان ہے یہ۔۔” نور نے مسکراتے ہوئے کہا_
اسی طرح وہ باتیں کرتے رہے۔۔ اور وقت گزرتا گیا۔۔ اب ان کی شادی کے فنکشن سٹارٹ ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے تھے۔۔۔ ناجانے اس نے یہ اٹھائیس دن کیسے گزرے تھے۔۔عامر اور آرزو بھی ایک دوسرے کو جاننے لگے تھے۔۔ عامر آرزو کو پسند کرنے لگا تھا۔۔لیکن آرزو اس سے دور دور ہی رہتی تھی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
نور اپنے امی اور ابو کے پاس آئی۔۔ صالح اور حریم بھی وہی تھے ان کے پاس۔۔نور نے بات کرنا شروع کیا۔۔
” امی ابو مجھے آپ دونوں سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔”‘”
” ہاں بولو بیٹا۔۔۔”
” نور نے انھیں سارا واقع بتایا کہ کیسے عالیار نے اس سے نکاح کیا اور آج وہ اسخکے بغیر رہ نہیں سکتی۔۔اور باقی سب بھی””
” نور تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟_” اس کے والد غصے سے بولے۔۔
” تم ہوش میں تو ہو؟؟؟؟_” اس کی امی نے کہا
نور نے جواب دینے کی بجائے اس نے اپنی آنکھیں نیچے کرلی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے۔۔
اس کی امی اور ابو کچھ دیر اس سے ناراض رہے۔۔۔ لیکن اب رشتہ ہو گیا تھا اور بلکہ دو دن بعد شادی تھی۔۔۔
پھر اس کی والدہ نے اسے گلے سے گا لیا۔۔۔ اور کہا.. ” جو ہونا تھا ہو گیا۔۔ عالیار اچھا لڑکا ہے خوش رکھے گا تمھیں۔۔۔۔”
اپنی امی کی یہ بات سن کر صالح کی تھوڑی سی ہنسی نکل گئی۔۔ یہ دیکھ نور نے اسے گھوری بھری اور وہ چپ کر گیا۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
آج نور کا مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔۔ وہ پیلے جوڑے میں بہت حوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
آرزو اور کچھ لڑکیاں اسے کی کر نیچے آئی۔۔۔۔ وہاں صرف لڑکیاں ہی تھی لڑکے دوسری سائیڈ پر تھے۔۔
نور کو صوفے پر بٹھایا گیا۔۔اور پھر مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔نا چاہتے ہوئے بھی نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔
” ارے نور کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟؟؟” اسے روتا دیکھ کر حریم نے اس سے سوال کیا۔۔
” کچھ نہیں بھابھی گھر چھوڑنے کا دکھ تو ہوتا ہے۔۔” نور اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا رہی تھی۔۔۔
” تم جب چاہے ہمارے پاس آجانا تم پر کونسا ہم نے اس گھر کے دروازے بند کیے ہیں تم جب چاہو یہاں آسکتی ہو..” حریم نے اسے کہا۔۔
نور مہندی کی رسومات پوری کر کے اوپر اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔ جب کہ۔ آرزو اور اس کی دوسری سہلیاں گیت گا رہی تھی۔۔۔
جب نور کمرے میں پہنچی تو دروازہ لاک کیا تو جیسے ہی مڑی تو وہاں عالیار اس کے کمرے میں پڑے ہوئے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
” عالیار آپ! آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟؟” اگر نے آپ کو یہاں دیکھ لیا مسئلہ ہو جائے گا۔۔” وہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔۔
” دیکھتا ہے تو دیکھ لے مجھے کسی کا دڑ نہیں۔۔ اور ویسے بھی تم میری بیوی مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔” اس نے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
نور نے اسے دھکا دیا اور کہا۔۔ ” کیا کام کیوں آئے ہیں۔۔؟”
” میں تو بس تمھیں دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔۔” اس نے اس کے گرد اپنے بازو حائل کیے اور بولا۔۔
” اب دیکھ لیا نا تو چلیں شاباش اس سے پہلے کے کوئی آجائے۔۔۔۔” اس نے اس پل حسے کہا۔۔
” اچھا نہ چلا جاتا ہوں اتنی بھی کیا جلدی جی بھر کر دیکھ تو لینے دو اور ویسے میرے پاس حق ہے یہ اور تم مجھ سے یہ حق چھین نہیں سکتی۔۔” عالیار نے دھیمے لہجے میں بولا۔۔
” عالیار میں کہہ رہی جائیں کوئی آجائے گا ۔۔۔۔” وہ اسے غصے سے بولی۔
” اچھا نہ جا رہا ہوں ناراض کیوں ہو رہی ہو؟؟؟” وہ کھڑکی کی طرف جاتا مسکراتا ہوا بولا۔۔
” آپ کھڑکی سے آئے ہیں۔۔۔۔” نور حیران ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔
” جی ہاں محترمہ “” یہ کہہ کر عالیار چلا گیا۔۔
” ان کا گچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔” نور اس کے جانے کے بعد مسکرائی۔۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
آج بارات تھی اور رحصتی بھی۔۔۔ آج عالیار کے لیے عید کا دن تھا کیونکہ آج جسے وہ اتنا چاہتا آج وہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہو جائے گی۔۔۔
تمام لوگ ہال پہنچ چکے تھے۔۔۔ آرزو نور کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔ اسے برائڈل روم میں بٹھا کر خود وہ باہر آگئی تھی۔۔۔
” واؤ یہ پھول کتنے خوبصورت ہیں۔۔۔” وہ ہال میں لگے پھولوں کو دیکھ کر بولی۔۔۔
” بالکل آپ کی طرح۔۔۔۔” اس کے پیچھے کھڑا ہوا شخص اس کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے بولا۔۔
وہ پیچھے مڑی تو وہاں عامر کھڑا تھا۔۔۔۔۔ ” تم تمھیں میں نے کتی دفعہ کہا ہے کہ مجھ سے دور رہو۔۔۔” وہ غصے سے بولی۔۔۔۔۔
