231.1K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Hi Hai Junoon Mera (Episode 10)

Tu Hi Hai Junoon Mera by Abdul Ahad Butt

” آرزو نور کہاں ہے کہیں کلاس میں تو نہیں چلی گئی؟؟؟؟'” عالیار آرزو کے پاس آیا اور اس سے سوال کیا_

“عالیار نور تو گھر چلی گئی ہے” آرزو نے جواب دیا_

” گھر کلاسز لیے بغیر کس طرح جا سکتی ہے کہیں تم مزاق تو نہیں کر رہی؟؟” عالیار نے کہا_

” میں تم سے مذاق کیوں کروں گی ؟؟؟؟ ” آرزو نے کہا_

” تمھارے پاس اس کا نمبر تو ہو گا وہ ہی دے دو مجھے _” عالیار سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا

آرزو نے اسے نور کا نمبر نوٹ کروایا اور کلاس کی طرف بڑھ گئی اور عالیار بھی یونی سے باہر چلا گیا_

•••••••••••••••

” سمجھتا کیا ہے کہ میں اس کے پیچھے مری جا رہی ہو؟؟ میرے جوتے کو بھی اس کی پرواہ نہیں ہے_” اکیلے کمرے میں ٹہلتے ہوئے نور خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔

وہ خود سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا فون بجا__

” ارے یار یہ کس کا نمبر ہے؟؟ کیوں فون کر رہا ہے مجھے ” نور چڑھتے ہوئے بولی_

” اسلام علیکم کون بات کر رہا ہے؟؟” نور نے کال اٹھاتے ہی اس سے سوال۔کیا۔۔۔

” وعلیکم السلام ” دوسری طرف سے عالیار نے کہا_

دوسری طرف سے عالیار کی آواز سن کر نور نے فوراً فون بند کر دیا_

” نور بات تو_” عالیار کے بات کرنے سے پہلے نور کال کاٹ چکی تھی

” لگتا ہے کہ کچھ زیادہ ہی ناراض ہو گئی ہے” عالیار مسکراتے ہو ہے بولا_

اس کا فون تو کبھی بھی نہیں اٹھاؤں گی_ ایک منٹ زرا رکو اس کے پاس میرا فون کیسے آیا” نور تحقیقی انداز میں بولی_

•••••••••••••••••

” ہاں عالیار تم نے مجھے بلایا؟؟ ” سلین اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی_

” ہاں سلین بیٹھو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے ” عالیار سنجیدہ انداز میں بولا_

” کیا بات؟؟”

” دیکھو سلین تم میری بہن ہو میں آج تم سے اپنی زندگی کا اہم فیصلہ شئیر کرنا چاہتا ہوں_ سلین ایک لڑکی ہے نور اس نکاح تو میں غصے میں آجر کیا تھا پر وہ چوڑیل مجھے پسند آگئی اب ایسے لگتا ہے کہ اس کے بغیر میں ایک پل بھی نہیں جی پاؤں گا_ لیکن آج مجھ سے وہ ناراض ہے کوئی ایسا طریقہ بتاؤں جس سے وہ مان جائے_” عالیار نے کہا۔۔

” تم نے نکاح کر لیا اور مجھے بتانا بھی گوارا نہیں کیا_ ” سلین نے حیران ہوتے ہوئے کہا_

اس پر عالیار نے شرمندگی کا اظہار کیا_

کچھ دیر چپ رہنے کے بعد سلین نے اسے بتایا کہ وہ کس طرح نور کو منا سکتا ہے_

” تھینک یو سلین “

اس کے بعد سلین آپنے کمرے میں آگئی۔۔

” تو شادی کر لی اس نے میں بہن ہوں تو ٹھیک ہے آج سے میرے لیے وہ میرا بھائی ہے” وہ خود سے گویا تھی

••••••••••••••

اگلے دن عالیار یونی پہنچا تو نور کینٹین پر بیٹھ کر پڑھ رہی تھی__

عالیار اس کے پاس جا کر بیٹھ گیالیکن نور نے اسے ایسے اگنور کیا جیسے وہ اسے جانتی ہی نہیں_”

” ناراض ہو” عالیار نے اس سے کہا_

” اچھا نہ آئی ایم سوری” عالیار نے اس سے معافی مانگی__

” نہیں تم جاؤ سلین کے ساتھ بیٹھ کر گلے مارو میرا کیا ہے میں مر بھی جاؤ تمھیں فرق نہیں پڑتا” نور نے کہا

” خبر دار آج کے بعد مرنے کی باتیں کی ہو تو ” عالیار اس کے قریب آیا اور بولا_

اس کی اس بات پر نور ہلکا سا مسکرا گئی_

” اچھا چلو کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے__”